Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت نوح علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے کشتی بنانا شروع کی تو ایک مومنہ بڑھیا نے حضرت نوحؑ سے پوچھا کہ آپ یہ کشتی کیوں بنا رہے ہیں؟ آپؑ نے فرمایا: بڑی بی! ایک بہت بڑا پانی کا طوفان آنے والا ہے، جس میں سب کافر ہلاک ہو جائیں گے اور مومن اس کشتی کے ذریعے بچ جائیں گے۔

بڑھیا نے عرض کیا حضور! جب طوفان آنے والا ہو تو مجھے خبر کر دیجئے گا تاکہ میں بھی کشتی میں سوار ہو جاؤں۔ بڑھیا کی جھونپڑی شہر سے باہرکچھ فاصلہ پر تھی۔ پھر جب طوفان کا وقت آیا تو حضرت نوح علیہ السلام دوسرے لوگوں کو تو کشتی پر سوار کرنے میں مشغول ہوگئے مگر اس بڑھیا کا خیال نہ رہا، حتیٰ کہ اللہ کا ہولناک عذاب پانی کے طوفان کی شکل میں آیا اور روئے زمین کے سب کافر ہلاک ہوگئے اور جب یہ عذاب تھم گیا، پانی اُتر گیا اور کشتی والے کشتی سے اُترے تو وہ بڑھیا حضرت نوح علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئی اور کہنے لگی۔۔۔ حضرت! وہ پانی کا طوفان کب آئے گا؟ میں ہر روز اس انتظار میں رہتی ہوں کہ آپ کب کشتی میں سوار ہونے کیلئے فرماتے ہیں۔

حضرت نے فرمایا بڑی بی! طوفان تو آبھی چکا، کافر سب ہلاک ہو چکے اور کشتی کے ذریعے اللہ نے مومن بندوں کو بچا لیا مگر تعجب ہے کہ تم زندہ کیسے بچ گئیں۔ عرض کیا! اچھا یہ بات ہے تو پھر اسی اللہ نے جس نے آپ کو کشتی کے ذریعے بچا لیا۔ مجھے میری ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی ہی کے ذریعے بچا لیا۔

بے شک جو اللہ کا ہو جائے، اللہ ہر حال میں اس کی مدد فرماتا ہے اور بغیر کسی سبب ظاہری کے بھی اس کے کام ہوجاتے ہیں۔

(تفسیر، روح البیان ص85)

حضرت ذوالنون مصریؒ سے کسی نے پوچھا کیا حال ہے؟ فرمایا بڑے مزے میں ہوں اور اس شخص کے مزے کا کیا پوچھتے ہو کہ اس کائنات میں کوئی واقعہ اس کی مرضی کیخلاف نہیں ہوتا بلکہ جو واقعہ پیش آتا ہے وہ اس کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے لہٰذا دنیا کے سارے کام میری مرضی کے مطابق ہو رہے ہوں۔

سوال کرنے والے نے کہا کہ یہ بات تو انبیاء علیہم السلام کو بھی حاصل نہیں ہوئی کہ دنیا کے تمام کام ان کی مرضی کے مطابق ہو جائیں۔ آپ کو یہ کیسے حاصل ہوئی؟ جواب میں فرمایا کہ میں نے اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں فنا کر دیا ہے۔

جو اللہ کی مرضی وہ میری مرضی اور دنیا میں سارے کے سارے کام اللہ تعالیٰ کی مرضی ہی سے ہوتے ہیں اور میری بھی مرضی وہ ہے جو اللہ کی رضا ہے اور جب سارے کام میری مرضی سے ہو رہے ہیں تو میرے مزے کا کیا پوچھنا، پریشانی تو میرے قریب بھی نہیں پھٹکتی، پریشانی تو اس شخص کو ہو جس کی مرضی کیخلاف کام ہوتے ہوں گے۔

متعلقہ خبریں