Daily Mashriq

نشستیں بڑھیں، قومی وسائل میں حصہ باقی ہے

نشستیں بڑھیں، قومی وسائل میں حصہ باقی ہے

قبائلی اضلاع میں تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات کیلئے حلقہ بندیوں اور کاغذات نامزدگی کی وصولی کے مرحلے کے عین موقع پر قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد چھ سے بڑھا کر بارہ کرنے اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں سولہ کی بجائے چوبیس نشستیں کردی گئی ہیں۔ اس کیلئے26ویں آئینی ترمیم کی متفقہ طور پر منظوری اس لئے ایک خوشگوار امر ہے کہ حزب اختلاف نے مخالفت نہیں کی۔ قرارداد کے محرک ایک ایسی تنظیم کے منتخب ممبر قومی اسمبلی ہیں جس کے حوالے سے عساکر پاکستان کے ترجمان نے سخت لب ولہجہ میں تنبیہ کی تھی جبکہ بعد ازاں آرمی چیف نے اس سخت بیان کو نرم انداز میں اس طرح سے دہرایا تھا کہ فقط پہلے بیان کی تردید نہ ہو، پی ٹی ایم کے ممبران اسمبلی نے اس موقع پر بھی قبائلی اضلاع میں سویلین انتظامیہ کو معاملات کلی اور عملی طور پر سونپنے کا مطالبہ دہرانے سے دریغ نہیں کیا۔ بہرحال قبائلی اضلاع میں اب عملی سیاست پوری طرح سے مروج ہے اور قبائلی نمائندوں کو قومی اسمبلی میں عملی طور پر قبائلی اضلاع کی نمائندگی کا نہ صرف حق پوری طرح سے مل چکا ہے بلکہ پوری پارلیمنٹ نے ان کے مطالبات سے اتفاق بھی کیا۔ اسے اگر عملی طور پر قبائلی اضلاع کو قومی دھارے میں خوش آمدید کہنے کے مصداق گردانا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد قبائلی علاقوں میں سیاست کی نوعیت تبدیل اور محرومیوں کا پرچار کم ہونا چاہئے اور قبائلی عوام کو نئے حالات کیلئے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اسمبلی نشستوں میں اضافے کے بعد اصولی طور پر تو انتخابات کا التواء ہونا چاہئے لیکن چونکہ اس سے قبل الیکشن کمیشن ساری تیاریاں مکمل کر چکا ہے اس لئے الیکشن پرانی حلقہ بندیوں کیساتھ کرانے اور منظور شدہ حلقوں پر آئندہ عام انتخابات میں عمل کرنے کی گنجائش کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی اضلاع میں تیار شدہ انتخابی عمل کا سال بھر کیلئے التواء سے بہتر صورت یہ ہوگا کہ جاری عمل کے تحت انتخابات کا انعقاد ہو لیکن بل کے محرک نمائندے کا مؤقف ہے کہ نئی حلقہ بندیوں اور تیاریوں کے ضمن میں انتخابات کے التواء پر ان کو اعتراض نہ ہوگا۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت کو کراچی میں ایم کیو ایم سے اتحاد کے بعد اب انتخابات میں نئی حمایت مل گئی ہے اور یہاں بھی اتحاد کا امکان خارج ازبحث نہیں۔ قبائلی اضلاع اور مسائل کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی ایم کے مؤقف میں زیادہ فرق نہیں رہا ہے اور وزیراعظم ان کے مطالبات کے حامی رہے ہیں۔ اسمبلی کی نشستوں میں اضافے سے صوبائی اور قومی اسمبلی میں قبائلی عوام کو زیادہ اور بہتر نمائندگی تو تقریباً وعملاً مل ہی گئی لیکن یہ سوال باقی ہے کہ آیا اس سے قبائلی عوام اپنی منزل کو پاچکے اس کا سیاسی بنیادوں پر جواب ہاں میں ہو تب بھی ہمارے تئیں ابھی قبائلی عوام کو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ ملنے کا اہم کام باقی ہونے اور تین صوبوں کی جانب سے تین فیصد حصہ دینے میں لیت ولعل اس سارے عمل کو متاثر کر سکتا ہے جس کی توقع ہے۔ قبائلی اضلاع کی اسمبلی میں نشستوں کے بڑھانے کا عمل اور انتخابات کا انعقاد سال کے اندر اندر ہونے کے عمل سے قبائلی اضلاع کے عوام اضافی نشستوں کے فنڈز سے اس سال بھی محروم رہیں گے۔ تین صوبوں کی جانب سے انکار کے بعد وفاق سو ارب روپے دینے کے وعدے پر کس حد تک عمل کرے گا اس بارے بھی کسی حسن ظن کا یقین سے اظہار ممکن نہیں، بنابریں ہمیں خدشہ اس بات کا ہے کہ سیاسی حمایت کو علاقے کے عوام کافی نہ سمجھیں، محرومیوں اور شکوہ شکایات کا تسلسل جاری رہے اسی ماحول سے ہی تو وہاں نئی جماعت اُبھر رہی ہے جس کے ایم این اے کی جانب سے انتخابی تاخیر کی حمایت سامنے آئی ہے اس کا ایک مقصد اس دورانئے میں تازہ سیاسی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر زیادہ سے زیادہ حمایت سمیٹنے کی حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے۔ ہمارے تئیں 26ویں متفقہ آئینی ترمیم سے کہیں زیادہ ضروری بات صوبوں کا تین فیصد حصہ دینے پر اتفاق ہے جس کیلئے حکومت کی جانب سے تاحال کوئی سنجیدہ سعی نظر نہیں آتی۔ یہاں تک کہ خیبر پختونخوا کے اعلان کے باوجود پنجاب تین فیصد حصہ دینے پر آمادہ نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی اضلاع کے عوام کے سیاسی مسائل سے کہیں بڑھ کر صحت، تعلیم، روزگار، بنیادی سہولیات کی فراہمی، مواصلات کی بہتری جیسے مسائل زیادہ اہم اور بنیادی ہیں جو وسائل کی فراہمی کے علاوہ ممکن نہیں۔ قبائلی اضلاع کے نمائندوں کو اس کامیابی کے بعد اب قومی وسائل میں اپنے حصے کے حصول کیلئے خاص طور پر متحد ہوکر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قبائلی عوام کو بنیادی سہولیات دی جا سکیں اور ان کی محرومیوں میں کمی لائی جاسکے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت اور حزب اختلاف قبائلی اضلاع کے عوام کو وسائل دینے کیلئے بھی اسی طرح اتفاق کا مظاہرہ کریں گے اور اس امر کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے جو قبائلی عوام کے مسائل کا حل اور مفاد میں ہوگا۔

متعلقہ خبریں