Daily Mashriq

دو تین اہم اور توجہ طلب مسائل

دو تین اہم اور توجہ طلب مسائل

سانحہ داتا دربار لاہور کا ایک اور زخمی چل بسا، جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 13ہوگئی۔ بڑی عجیب بات ہے کہ خودکش بمبار کو روکتے ہوئے جان قربان کرنے والا نجی کمپنی کا سیکورٹی گارڈ آٹھ ہزار روپے ماہوار پر ملازم تھا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور کی کوشش سے نجی کمپنی نے اس کی پچھلی تنخواہیں اہل خانہ کو ادا کیں۔ ہر طرف پولیس اہلکاروں کی فرض شناسی کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے یہ سوال کوئی نہیں پوچھ رہا کہ ایلیٹ فورس کے جوان اپنی ڈیوٹی ادا کرنے کی بجائے سڑک سے گزرنے والی موٹر سائیکل سواروں سے کاغذات کیوں چیک کر رہے تھے۔ پولیس گاڑی کا انچارج اور ڈرائیور حادثے کے وقت کہاں گئے ہوئے تھے‘ کیا کسی نے تحقیقات کا حکم دیا یا سانحہ اور شہادتوں میں غفلت کو کفن میں لپیٹ کر دفن کردیا گیا۔ نجی کمپنی کا سیکورٹی اہلکار اعزاز واکرام کا مستحق تھا نہیں بلکہ ہے۔ 8ہزار روپے ماہوار کے ملازم نے جان پر کھیل کر دہشتگرد کو داتا دربار کے پُررونق علاقے تک نہیں جانے دیا لیکن یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا کوئی ذکر ہے اس کا نہ کوئی داد وتحسین، نہ حکومت پنجاب نے عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں اس کیلئے کسی اعزاز اور اس کے اہلخانہ کی کفالت کا اعلان کیا۔ ایلیٹ فورس نے محکمانہ طور پر کیا کیا‘ کچھ نہیں کریں گے۔ حقائق کھلیں گے تو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں، اسلئے ہر محاذ پر مکمل خاموشی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا نے الظم بلغم ویڈیوز دکھا کر بلاوجہ خوف وہراس پیدا کیا اس کے ذمہ داروں کو سنجیدگی کیساتھ فرائض پر توجہ دینی چاہئے۔ بریکنگ نیوز کی دوڑ میں حقائق مسخ کرنے کو نہیں۔ آگے بڑھنے سے قبل وفاقی اور پنجاب کی حکومت سے درخواست ہے کہ سانحۂ داتا دربار میں جاں بحق ہونے والے نجی کمپنی کے سیکورٹی گارڈ کو جرأت وفرض شناسی کا اعتراف کرکے اس کے اہلخانہ کیلئے امداد کا اعلان کیا جائے۔ دوسری طرف گوادر میں پی سی ہوٹل پر مسلح افراد کے حملے اور آپریشن کلین اپ کا ڈراپ سین ہوگیا ہے۔ مجموعی طور پر پانچ افراد جاں بحق ہوئے، مسلح حملہ آور بھی مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کا اعلامیہ اور ایک کالعدم بلوچ تنظیم کا دعویٰ ہر دو سے زیادہ اہمیت کا حامل بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ سردار اختر جان مینگل کے اس سانحہ کے حوالے سے دو تین سوالات ہیں۔ سردار اختر مینگل تحریک انصاف کے اتحادی ہیں، دونوں جماعتوں نے بوقت اتحاد ایک تحریری معاہدہ کیا تھا جس پر عمل نہ ہونے پر سردار صاحب اور ان کے ساتھی بہت دکھی ہیں۔ گوادر پی سی ہوٹل کے واقع میں مرنے والے حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے مینگل صاحب کے سوالات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ذمہ دار اداروں کے احباب اگر ان سوالات کا جواب عنایت کر دیں تو اس کا خوشگوار تاثر پیدا ہوگا۔ ان کے دو تین سوالوں میں ایک اہم ترین سوال ایک مرنے والے حملہ آور کی شناخت کے بارے میں ہے۔ اس ادھوری شناخت کو لیکر مجاہدین سوشل میڈیا نے جو ات اٹھائی ہوئی ہے اس پر اختر مینگل کی دلگرفتی بجا ہے۔ کیا ہم امید کریں گے کہ وفاقی وزیر داخلہ اپنی اتحادی جماعت کے سربراہ کے سوالات کا تشفی بھرا جواب قومی اسمبلی کے ایوان میں دیں گے؟

ان دنوں دوسرا اہم مسئلہ پاکستانی لڑکیوں سے چینی لڑکوں کی شادیوں کے کچھ ابتر معاملات ہیں، یہ تحریر لکھے جانے تک راولپنڈی‘ گوجرانوالہ‘ فیصل آباد اور لاہور میں مجموعی طور پر 78افراد گرفتار ہوچکے ہیں۔ ان میں چینی باشندے اور ان کے سہولت کار بھی شامل ہیں‘ یہاں ایک سادہ سا سوال ہے وہ یہ کہ چینی لڑکوں کی پاکستانی لڑکیوں سے شادیوں کا یہ سلسلہ لگ بھگ تین سال قبل شروع ہوا، ابتدا میں یہ رشتے مسیحی برادری کی بچیوں سے میرج بیوروز کی معرفت ہوئے، پھر سال بھر قبل اچانک مختلف شہروں سے اطلاع ملی کہ ’’نو مسلم چینی باشندوں کے رشتوں میں تیزی آگئی ہے، میرج بیوروز والے غریب مسلم خاندانوں سے رابطہ کرتے ہیں، نومسلم کو رشتہ دینے کے فضائل کیساتھ بچی کے بیرون ملک قیام کے دلکش مناظر پیش کرکے ان غریب خاندانوں کو شیشہ میں یہ کہہ کر اتارا جاتا رہا کہ نومسلم چینی باشندہ شادی کے اخراجات خود اُٹھائے گا۔ سہولت کاروں اور میرج بیورو والوں نے فی رشتہ 18سے 25لاکھ کمایا، ان شادیوں کے جو تباہ کن نتائج سامنے آئے وہ دلخراش ہیں۔ لوگوں کی غربت اور مذہب سے عقیدت کا فائدہ اُٹھایا گیا۔ نومسلم چینی باشندوں میں سے ایک کیساتھ بیاہی جانے والی اسلام آباد کے ایک سیکورٹی گارڈ کی بیٹی کس طرح چین میں پاکستانی سفارتخانہ تک پہنچی اور سفارتخانے نے اسے وطن واپس بھجوایا جس کے بعد ایف آئی اے حرکت میں آئی اور اگلے بیس دنوں کے دوران 78افراد گرفتار ہوئے۔ معاملہ صرف غربت کا نہیں ضرورت مندی نے لالچ کو تقویت دی، بنا سوچے سمجھے صرف مذہب تبدیل کرنے کی اطلاع پر بیٹی بیرون ملک بیہانے کے شوقین والدین بھی کسی حد تک ذمہ دار ہیں مگر ایک اور معاملہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ فیصل آباد میں ایک چینی باشندے کیلئے جب میرج بیورو والے رشتہ تلاش کر رہے تھے تو سی پیک منصوبے کا یہ سابق ملازم پولیس گارڈ کے ہمراہ میرج بیورو والوں کیساتھ رشتہ دیکھنے جاتا رہا۔ لڑکی والے حفاظتی پولیس گارڈ دیکھ کر اسے کوئی بڑا چینی افسر سمجھتے رہے۔اب تک 130کیس سامنے آئے ہیں جبکہ شادیاں300 سے زیادہ ہوئی ہیں۔ ان میں دو سو مسیحی برادری میں اور سو کے قریب مسلم گھرانوں میں، صورتحال بہت تشویشناک ہے۔ ایف آئی اے ان دنوں بہت سرگرم ہے، کاش دو سال پہلے مسیحی والدین کی درخواستوں پر متحرک ہوئے ہوتے ایف آئی اے والے تو مسائل اتنے گمبھیر نہ ہوتے، نہ والدین کی عزتیں داؤ پر لگتیں، ناہی بچیوں کا مستقبل تباہ ہوتا۔ بہرطور اب اس کا مستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور مجرموں کو سخت ترین سزائیں دینے کی تاکہ یہ گھناؤنا کاروبار مزید نہ چلنے پائے۔

متعلقہ خبریں