Daily Mashriq


یہ بھی توہین ہے عدالت کی

یہ بھی توہین ہے عدالت کی

ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد سے میرا تعلق جذباتی یوں ہے کہ جب میری بطور ڈپٹی کنٹرولر پروموشن ہوئی تو اس کیساتھ ایبٹ آباد سٹیشن کی بھی ترقی ہوئی یعنی اسے بھی اپ گریڈ کرکے پروگرام منیجر سے اس کا درجہ بڑھا کر ڈپٹی کنٹرولر سٹیشن میں تبدیل کر دیا گیا اور بطور ڈپٹی کنٹرولر پہلی تعیناتی میری ہی وہاں پر کی گئی۔ مجھے وہاں جانے کی خوشی اس لئے بھی ہو رہی تھی کہ وہاں کے ادباء‘ شعراء اور دانشوروں میں سے اکثر کیساتھ میرے ذاتی مراسم ایک عرصے سے قائم تھے۔ اپنے کالج کے دور ہی میں جب غالباً فروری یا مارچ1965ء میں گورنمنٹ کالج کیمبل پور (موجودہ اٹک کلاں) میں ایک مشاعرے اور افسانوں کے مقابلے میں اپنے کلاس فیلو اشفاق الرحمن (رامش سہارنپوری) کیساتھ شرکت کیلئے گیا تو وہاں ملک کے دوسرے شہروں سے آئے ہوئے طلبہ میں ایبٹ آباد کے بشیر احمد سوز بھی شامل تھے۔ ان سے جو تعلق خاطر تب سے قائم ہوا‘ وہ آج تک نہ صرف قائم ہے بلکہ انہی کے توسط سے ہزارہ کے دیگر اہل قلم سے بھی مراسم اور دوستیاں بڑھتی رہیں۔وہاں اپنے ایک جونیئر ساتھی رشید احمد جو عرصہ تک ہمارے ساتھ پشاور میں رہے تھے وہ بھی ان دنوں وہیں خدمات انجام دے رہے تھے۔ یہ تمام باتیں باعث اطمینان‘ سکون بلکہ مسرت انگیز تھیں اس لئے جب میں وہاں ڈیوٹی دینے پہنچا تو نہ صرف ریڈیو کے اپنے ساتھیوں جن میں کئی ایک سے پہلے ہی شناسائی تھی نے ہاتھوں ہاتھ لیا بلکہ یار طرحدار پروفیسر بشیر احمد سوز نے جو ان دنوں برن ہال پبلک کالج میں شعبۂ اردو کے سربراہ تھے میری آمد سے پہلے ہی ایک ریسٹ ہاؤس میں میرے قیام کا اہتمام کروایا تھا یوں مجھے رات گزارنے کیلئے کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑا اور ابتداء میں اسی ریسٹ ہاؤس میں قیام کے دوران ہی اپنے لئے رہائش کی تگ ودو آسان رہی کہ کئی جگہوں کا جائزہ لینے کے بعد ریڈیو سٹیشن کے بالکل ہی سامنے ایک بلڈنگ میں مناسب جگہ ملنے کے بعد میں وہیں منتقل ہوگیا۔ اس دوران میں سٹیشن کا جائزہ لے کر پروگراموں کی ترتیب وپیشکش میں کچھ جدت لانے کی کوششیں بھی جاری رکھیں۔ کچھ انتظامی امور نے وقتی طور پر مشکلات پیدا کیں اور وہ یوں کہ سٹیشن اپ گریڈ ہونے کی وجہ سے مزید سٹاف بھی آگیا تھا‘ مثلاً انجینئرنگ اور انتظامی شعبوں میں بھی نئے لوگوں کا اضافہ ہوا مگر ان کیلئے نہ تو میزیں کرسیاں تھیں نہ دیگر سہولیات‘ چونکہ ان دنوں پورے ملک میں بچت کا سلسلہ چل رہا تھا اور نئے فرنیچر کی خریداری پر پابندی تھی مگر میری وہاں آمد سے پہلے ہی سابقہ سٹیشن ڈائریکٹر نے جو پروگرام منیجر کے عہدے پر بطور سٹیشن ڈائریکٹر کام کر رہے تھے اپنے لئے نئی میز‘ کرسیاں اور کبٹ وغیرہ خرید کر اپنا کمرہ سجا دیا تھا مگر فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے اس کے بل کی ادائیگی میں میرے لئے کتنی مشکلات کا سامنا رہا یہ تو صرف میں یا پھر متعلقہ دو تین لوگ ہی بہتر جانتے ہیں‘خود سٹیشن کو قائم ہوئے بھی اتنا عرصہ تو نہیں ہوا تھا کہ پہلے سے خریدا ہوا فرنیچر کہیں کونوں کھدروں میں پڑا ہوتا۔ بہرحال قصہ مختصر جس طرح ان معاملات سے نمٹنے کیلئے مشکلات کا سامنا رہا وہ ایک الگ داستان ہے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ تمام مشکلات سے بخیر وخوبی گزر کر پروگراموں کی بہتری کیلئے اپنی ٹیم کی مدد سے کام جاری رکھا‘ یعنی بقول شاعر

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد اورکچھ دیگر سٹیشنوں کیساتھ ساتھ پاکستان براڈ کاسٹنگ اکیڈیمی کی بندش کے حوالے سے ریڈیو پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا فیصلہ سامنے آیا تو دل بہت افسردہ ہوا۔ دراصل یہ اس فیصلے کو دوسری شکل میں نافذالعمل کرنے کی کوشش لگتی ہے جو کچھ عرصہ پہلے ریڈیو پاکستان کی پانچ منزلہ بلڈنگ کو ریڈیو والوں سے خالی کرا کر اسے پاکستان براڈ کاسٹنگ اکیڈیمی میں منتقل کرنے کی شکل میں ظاہر ہوئی تھی چونکہ اس وقت نہ صرف حاضر سروس ملازمین بلکہ ہم ایسے ریٹائرڈ سابقہ ملازمین نے بھی حکومت کے اس اقدام پر شدید احتجاج کرکے وقتی طور پر رکوا دیا تھا مگر سچ کہتے ہیں بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ اب حکومت نے ادارے کو جڑ سے اکھاڑنے میں ناکام ہونے کے بعد اس درخت کی شاخ تراشی شروع کردی ہے اور کئی چھوٹے سٹیشنوں پر آری چلاتے ہوئے انہیں صرف ریلے سٹیشن کے طور پر باقی رکھنے کا فیصلہ کرکے ناک کو الٹی جانب سے پکڑنے کی حکمت عملی اختیار کرلی ہے۔ اس میں بھی پسند وناپسند کے پیمانے کو بروئے کار لاتے ہوئے سندھ کے دوغیر اہم سٹیشنوں یعنی مٹھی اور بھٹ شاہ کو تو ایک حکومتی ایم این اے جن کا تعلق اقلیتی برادری سے بتایا جاتا ہے کی مبینہ خواہش اور دباؤ پر ریلے سٹیشن قرار دینے والی فہرست سے خارج کر دیا ہے جبکہ ایبٹ آباد اور سرگودھا سٹیشنوں پر چھری چلاتے ہوئے ان کی بندش کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے متعلق حلقوں کو شاید معلوم ہو کہ ایبٹ آباد سٹیشن کی بندش کے حوالے سے ہزارہ سے کوئی بھی مؤثر آواز نہیں اٹھے گی حالانکہ ان میں کئی ایک وفاقی، کئی صوبائی کابینہ کا حصہ ہیں اور صوبائی اسمبلی کا سپیکر بھی ایبٹ آباد سے تعلق رکھتا ہے مگر ان سب کا ایبٹ آباد سٹیشن کی بندش سے کوئی مفاد (ذاتی نہیں بلکہ علاقائی) وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے بھلا یہ لوگ کیوں احتجاج کریں گے؟ اس پر ایبٹ آباد ہی کے سلیم کوثر کا یہ شعر یاد آگیا ہے

تم نے سچ بولنے کی جرأت کی

یہ بھی توہین ہے عدالت کی

متعلقہ خبریں