Daily Mashriq


رمضان، پی ایس سی، نجی سکول کھلے پڑھائی بند

رمضان، پی ایس سی، نجی سکول کھلے پڑھائی بند

رمضان المبارک کی ان مبارک ساعتوں میں بجائے اس کے کہ ہمارا رویہ نرم اور شعائر اسلام کے عین مطابق ہو، اُلٹا ہم میں کئی قسم کی ایسی خرابیاں آتی ہیں جن کو بجائے اس کے کہ خرابیاں قرار دیکر ہم ان کی اصلاح پر توجہ دیں، اُلٹا ہم روزہ داری کے نام پر اپنے روزے اور خود کو دھوکہ دینے لگتے ہیں جس سے روزے کا مکروہ یہاں تک کہ فاسد ہونے کا خطرہ ہے۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ رمضان برداشت کا مہینہ ہے، تحمل کا مہینہ ہے، ایک دوسرے کے خیال رکھنے کا مہینہ ہے، غمخواری کا مہینہ ہے، ہمسایہ اور عزیز واقارب کی دستگیری کا مہینہ ہے، سخاوت کا مہینہ ہے۔ روزہ دار کو صرف پانی سے افطار کرانا باعث ثواب اور اجر ہے، رمضان سراسر رحمت کا مہینہ ہے، مغفرت کا مہینہ ہے اور نارجہنم سے آزادی کا مہینہ ہے۔ میں سوچتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں چاہنے کے باوجود کچھ کر نہیں پاتی شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ جو عادتیں پختہ ہو چکیں اس سے نکلنا مشکل ہے، نکلنا مشکل ضرور ہے میرے لئے بھی اور آپ کیلئے بھی لیکن یاد رکھیں یہی وہ مہینہ ہے کہ ہم کوشش کر کے اپنی اصلاح کر سکتے ہیں۔ کم یا زیادہ کی بحث نہیں سعی جدوجہد اور توجہ لازم ہے۔ کالم میں کسی طالب علم کی جانب سے بورڈ کے نظام امتحانات اور پرچوں کی چیکنگ اور نمبر دینے کے حوالے سے تحفظات کا اظہارکیا گیا تھا اور شاید یہ نقل کے حوالے سے بھی کچھ تھا یا نہیں بہرحال ان کا اعتراض پوری طرح ذہن میں نہیںآرہا کہ کیا تھا فی الوقت حالیہ امتحانات میں سپرنٹنڈنٹ کے فرائض انجام دینے والے ایک اُستاد محترم نے طالب علم کے اعتراضات کی تردید کی ہے اور وضاحت کی ہے کہ بورڈز میں مارکنگ شفافیت سے ہوتی ہے۔ امتحانی عملہ خواہ اس کی ڈیوٹی کسی سرکاری سکول میں ہو یا پھر نجی سکول وکالج میں پوری ایمانداری سے ڈیوٹی کرتے ہیں۔ اس قسم کے الزامات وہ لڑکے لگاتے ہیں جنہوں نے پڑھائی نہیں کی ہوتی۔ میرے خیال میں تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنے کی ذمہ داری پوری ہوگئی، ایسی نوبت ہی نہیں آنی چاہئے جو شکوک وشبہات کا باعث ہوں، ہم نے ایک سپرنٹنڈنٹ کا موقف دیدیا اگر بورڈ حکام وضاحت کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

اقراء پروگرام تعلیم پراجیکٹ کے تحت صوبائی حکومت اور نجی سکولوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ایک سال قبل سینکڑوں حقدار طالب علموں کو نجی سکولوں میں داخل کیا گیا تھا جن کے داخلے، بیگ، یونیفارم اور ٹیوشن فیس کی ادائیگی ایلیمنٹری ایجوکیشن کی ذمہ داری تھی مگر تحریری معاہدے کے باوجود سکولوں کو اس ضمن میں ہنوز ایک پائی کی بھی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ اگر اس ضمن میں فوری اقدام نہ کیا گیا تو آٹھ ہزار طالب علموں کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا۔ سرکاری کاموں میں تاخیر تو ہوتی ہے، اتنے بڑے منصوبے کیلئے یقیناً بجٹ میں رقم رکھی گئی ہوگی پھر ادائیگی کیوں نہیں ہوئی اور اگر رقم نہیں رکھی گئی تھی تو پھر یہ تو سراسر دھوکہ ہوا جس کی سرکار سے توقع نہیں کی جا سکتی۔ جوکچھ بھی ہے نجی سکولوںکو جلد سے جلد ادائیگی ہونی چاہئے اگر فی الوقت رقم دستیاب نہیں تو حکومت یقین دہانی کرائے اور گارنٹی دے کہ بجٹ میں رقم مختص کی جائے گی، پہلے ہو جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس ضمن میں بڑے سکینڈل کی بھی شنید تھی لہٰذا رقم کی ادائیگی اور ساتھ ساتھ تصدیق وآڈٹ پر بھی توجہ دی جائے۔

بنوں سے عائشہ ایڈوکیٹ نے پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرنے کے بعد اور آسامیوں کی مشتہری سے درخواستوں کی وصولی اور امتحانات کے انعقاد تک کے مراحل کی غیرضروری تاخیر پر سخت نالاں ہونے کا اظہار کیا ہے۔ پبلک سروس کمیشن کی تاخیر کو اب بڈھ بیر کی بس کی رفتار سے بھی تشبیہ دینا ممکن نہ رہا اور نہ ہی بورڈ سے حیات آباد فیز6 تک جانے والی بس کی سست رفتاری اس کیلئے بطور ضرب المثل استعمال کی جاسکتی ہے کیونکہ خواہ کتنی بھی دیر کیوں نہ ہو یہ بسیں کم ازکم اسی روز پہنچ تو جاتی ہیں۔ پبلک سروس کمیشن کی تاخیر اور این ٹی ایس وایٹا ٹیسٹ میں بے ضابطگیاں یہ دو موضوعات نوجوانوں سے متعلق اور اس کالم کے آغاز سے تاامروز حصہ چلے آرہے ہیں۔ ایٹا اور این ٹی ایس بارے کافی عرصے سے خاموشی ہے کوئی نوجوان بتائے کہ اب کیا حالات ہیں، آسامیاں ہی نہیں یا نظام کو سخت تنقید اور طشت ازبام ہونے کے بعد سنبھالا دیا گیا۔ عائشہ آپ کے مسئلے پر قبل ازیں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے مگر معاملہ زمین جنید نہ جنید گل محمد والا ہے۔ پبلک سروس کمیشن اتنی تنقید کے باوجود سرنگوں ہے، کم ازکم کوئی وضاحت ہی کردے یا پھر حکومت کہ ان کو ذرا بھی پرواہ نہیں۔ گزشتہ کسی حکومت غالباً ایم ایم اے دور میں پبلک سروس کمیشن کے حوالے سے اور ان کے ضلعی دفاتر کے قیام کے حوالے سے کافی ہلچل کی شنید تھی مگر نوجوانوں کی نمائندہ وپسندیدہ حکومت کے آنے کے بعد اس پر بھاری پتھر رکھ دیا گیا یا تو نوجوان احتجاج کریں یا پھر اخباروں اور میڈیا میں مہم چلائیں، سوشل میڈیا پر گروپ بنا کر مہم چلائیں، مطالبات کریں،شاید کسی کے کانوں پر جونک رینگ جائے۔ یہ بھی بچوں اور نوجوانوں ہی کا مسئلہ ہے کہ وہ سکول جاتے ہیں تو آدھی کلاس نہیں ہوتی۔ سرکاری سکولوں کا تو علم نہیں نجی سکولوں میں فیسوں کی وصولی کے باوجود اساتذہ اور استانیاں پڑھائی نہیں کرتیں، بچے سکول نہ جائیں تو ماں باپ ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں، سکول جائیں تو خواہ مخواہ وقت ضائع ہوتا ہے۔ میٹرک کے نوجوان روزے سے ہوتے ہیں اسلئے ان کو خاص طور پر ملال ہوتا ہے، حکومت نے چھٹیاں اپنے وقت پر دینے کا اعلان کیا ہے، پرائیویٹ سکول والو! رمضان میں تو حرام خوری سے پرہیز کرو یا تو بچوں کو چھٹیاں دو یا پھر ان کا وقت ضائع نہ کرو۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں