Daily Mashriq

عبدالوہاب دستی۔۔ ادیب اور شاعر

عبدالوہاب دستی۔۔ ادیب اور شاعر

لونڈ خوڑ کے مردم خیز اور غلام محمد خان لونڈ خوڑ کے نام سے سیاست میں شہرت رکھنے والے شہر کے ایک گاؤں جیوڑ میں میرے ایک بہت محترم اور قدردان دوست محمد ریاض شاہین رہتے ہیں۔ آپ کیساتھ میری دوستی اور بھائی چارے کی بنیاد مؤقر روزنامہ ’’مشرق‘‘ میں میرا کالم آوازدوست ہے، پیشے کے لحاظ سے اُستاد ہیں لیکن ایک مشنری اُستاد، عام اساتذہ سے ذرا وکھرے ٹائپ کے آدمی ہیں، گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول کے اُستاد (SST) ہوتے ہوئے اُن کو اپنی پیشہ ورانہ علمی سرگرمیوں کے علاوہ علاقے میں خیر وفلاح اور درس وتدریس اور بالخصوص اپنے ساتھی اساتذہ اور شاگردوں میں قرآن عظیم الشان کی تعلیم عام کرنے کے سبب ایک مقام حاصل ہے۔ آپ صحیح معنوں میں ایک علم دوست اور علم وعالم کے قدردان انسان ہیں۔ اسلام اور پاکستان سے محبت وعقیدت آپ کی پہچان ہے۔ اسی عشق وشوق نے ان سے لوند خوڑ وجیوڑ کی شخصیات، تاریخ اور علمی وادبی ستاروں کے تذکروں پر مشتمل دو ضحیم جلدوں میں بہت زبردست تحقیقی کام کروایا ہے۔ میں نے ایک دفعہ پہلے ان دو کتابوں کی تقریب رونمائی میں عرض کیا تھا کہ پشتو ڈیپارٹمنٹ اور اکادمی کو یہ کتابیں اپنے ایم فل وپی ایچ ڈی کے طلباء کو بطور سفارش کردہ کتب کے طور پر اپنی لائبریری میں شامل کروانی چاہئے۔ اب اس وقت چونکہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں بھی ڈاکٹر اباسین کے زیرنگرانی شعبۂ پشتو بھرپور طور پر فعال ہے لہٰذا اُن سے گزارش ہے کہ پختونخوا کے مشہور تاریخی شخصیات ومقامات اور پشاور کے علمی وتحقیقی مراکز وشخصیات تک رسائی نہ رکھنے والے لوگوں کے فن پاروں اور علمی وادبی تخلیقات کو منظرعام پر لانے اور نئی نسلوںکے سامنے پیش کرنے کے انتظامات واقدامات کی منصوبہ بندی کریں۔ پچھلے دنوں میرے اسی عزیز دوست محمد ریاض شاہین نے ایک خط میں پختونخوا کی ایک قدآور ادبی شخصیت اور قادرالکلام شاعر عبد الوہاب دستی کی وفات اور اُن کی علمی وادبی سرگرمیوں کی روداد بھیجی تھی۔ دستی صاحب کی وفات کی خبر اخبار کے ذریعے نظر سے گزری تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُن کی ادبی خدمات سے اتنی شناسائی نہ تھی۔ ریاض شاہین نے مختصر مگر جامع انداز میں اُن کے حوالے سے اُن کی پیدائش اور ربائی علاقوں کے تعارف کیساتھ اُن کی 72تصانیف کا ذکر کیا ہے۔ عبدالوہاب دستی ضلع مردان کے علاقہ سودھم کے کھٹہ خٹ کے سریخ لوہاران گاؤں میں 1933ء کو پیدا ہوئے تھے۔ شادی کے بعد اپنے سسرال کے ہاں لونڈخوڑ کے مضافاتی گاؤں چنچڑوخٹ میں سکونت پذیر ہوئے۔ (پشتو ادب کے لحاظ سے لوندخوڑ کی سرخیزی کا اندازہ ان علاقوں کے ٹھیٹ پشتو ناموں سے لگایا جا سکتا ہے)۔ اُس زمانے میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور پرائمری سکول میں مدرس کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا لیکن پھر بہت جلد اپنی ادبی طبی اُفتاد کے پیش نظر ریڈیو پاکستان پشاور سے منسلک ہوگئے۔ عبدالوہاب دستی ریڈیو پاکستان پشاور کے مشہور ترین پروگراموں، ھندارہ، سحر سبا، باتور، پلوشے اور خوند رنگ میں سامعین کے خطوط ریکارڈ کراتے تھے اور ساتھ ہی ان پروگراموں کے اقتباسات اور سکرپٹ لکھتے تھے۔ آپ کا بہت اہم اور قومی وملی خدمت میں 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے موقع پر 61کے قریب ملی نغمے لکھنا شامل ہے جنہیں اپنے وقت کے مایہ ناز پشتو گلوکاروں گل نار بیگم، احمد خان، رفیق شنواری اور کشور سلطان نے اپنی مدھر آوازوں میں پیش کیا تھا۔عبدالوہاب مرحوم اپنے تخلص دستی (فی البدیہہ، سمدلاسہ) کی طرح اسم بامسمی یعنی فی البدیہہ شاعر تھے۔ جو ان کے بقول ایک بزرگ کے دعا کا اثر تھا۔ آپ نے پشتو شاعری کے کم وبیش ساری رضاف میں یعنی غزل، چاربیتہ، لوبہ، حمد ونعت اور قوالی وغیرہ میں خوب طبع آزمائی کرتے ہوئے معیاری شاعری کی ہے۔ عبدالوہاب دستی کی پچاس کتابیں اشاعت پذیر ہو چکی ہیں جبکہ باقی بیس پچیس کتب طباعت کے مراحل سے گزرنے کیلئے پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی کے کسی علم دوست محقق کی نظرکرم کی منتظر ہیں۔ ایک ادبی اور علمی شخصیت کی حیثیت سے دستی صاحب گلوکاروں، شعراء اور علمی شخصیات کے دوستوں کے دوست اور یاروں کے یار تھے۔ اپنے دور کے جید شعراء واُدبا، امیر حمزہ بابا، اجمل خٹک، مرزا زخمی جگر، غالب سرحدی زیارت کاکا صاحب، علی حیدر جوشی اسماعیلہ، ساحر آفریدی اور منتظرآفریدی وغیرھم کے ہاں آنا جانا اور میل ملاپ رکھتے تھے۔اپنے دور میں پختونخوا کا بہت کم معروف گلوکار ہوگا جس نے دستی صاحب کا کلام نہ گایا ہو،آپ نے پشتو نثر میں بہادرہ پیغلہ اور مشہور لطیفے لکھ کر پشتو ادب پر احسان کیا ہے اور قادرالکلام شاعر پختونخوا کی دنیا سے 13 اپریل2019ء کو 86برس کی بھرپور زندگی گزارنے کے بعد رخصت ہو کر سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت اور سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

متعلقہ خبریں