Daily Mashriq


خوجے خور خدا دے چور۔۔

خوجے خور خدا دے چور۔۔

آج تک ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ روزہ خور کو ہم لوگ خوجہ خور کیوں کہتے ہیں۔ خوجہ روزے کا متضاد ہے جو روزہ نہیں رکھتا اسے روزہ خور کہنا چاہئے! ہمارے بچپن میں جب کوئی بچہ کسی کو رمضان میں کچھ کھاتے ہوئے دیکھ لیتا تو باآواز بلند چلا چلا کر کہتا ’’خوجے خور خدا دے چور ڈنڈا لے کے بازار اچ دوڑ‘‘ بظاہر اس سادہ سے جملے میں بہت سی باتیں بڑی معنویت کی حامل ہیں اور سوچ کے بہت سے در واکر دیتی ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس میں روزہ نہ رکھنے والے یعنی روزہ خور کو خدا کا چور کہا گیا ہے یہ خدا کا چور اس لئے ہے کہ اللہ پاک فرماتا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر عطا کروں گا تو اس حوالے سے روزہ نہ رکھنا خدا کی چوری کے مترادف ہوا۔ یقینا اس قسم کی چوری سے ہر مسلمان کو بچنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ اس جملے کا آخری حصہ جس میں کہا گیا ہے کہ جو روزہ خور ہے اسے چاہئے کہ وہ لاٹھی لیکر بازاروں میں دوڑتا پھرے! ظاہر ہے کہ بازاروں میں لاٹھی لیکر دوڑنا بھاگنا صرف پاگل ہی کرتے ہیں یعنی روزہ نہ رکھنے والا پاگل ہے یہ اتنی بڑی حماقت ہے کہ اس سے تو پاگل پن ہی اچھا ہے! صورتحال جو بھی ہو ایک بات بالکل واضح ہے کہ ہمارے یہاں روزہ نہ رکھنے والے کی مٹی ویسے ہی پلید ہوتی ہے اس بیچارے کو کھانے پینے کیلئے کوئی ڈھنگ کی چیز نہیں ملتی، نانبائیوں کی دکانیں بند ہوتی ہیں، ہوٹل، ریسٹورنٹ مکمل طور پر بند ہوتے ہیں، روزہ خور سحری کے وقت اُٹھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا، اگر گھر والوں کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پر روزہ خوری کر رہا ہے تو پھر سحری کے بچے کچھے کھانے سے ناشتہ کر لیتا ہے چونکہ ہماری طرف روزہ رکھنا بڑی غیرت کی بات سمجھی جاتی ہے اور روزہ خور کو بے غیرت سمجھا جاتا ہے اس لئے بہت سے روزہ خوروں کو گھر والوں سے چھپ کر کھانا پینا کرنا پڑتا ہے ان کیلئے ماہ رمضان گزارنا صحیح معنوں میں جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ ویسے وطن عزیز میں ایسے علاقے بھی یقینا موجود ہیں جہاں روزہ نہ رکھنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوتا اور وہاں کے روزہ خور خوب مزے سے رمضان گزارتے ہیں۔ کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے روزہ خوروں کی روزہ نہ رکھنے کی عادت ہی وہ واحد قدر مشترک ہوتی ہے جو انہیں ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ چند دوست کسی ایک گھر کو ٹھکانہ بنا کر وہیں دوپہر کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں، اس دوران گھروں کی تبدیلی کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔

ویسے روزہ نہ رکھنا چند نفسیاتی حوالے بھی رکھتا ہے، ان لوگوں کی نفسیات میں یہ بات جڑ پکڑ چکی ہوتی ہے کہ روزہ رکھنا ایک انتہائی مشکل اور اذیت ناک تجربہ ہے، کون اس جھنجھٹ میں پڑے دراصل اس سوچ کے ڈانڈے بھی کہیں بچپن کی تربیت سے جڑے ہوتے ہیں، بچپن سے ہی جن بچوں کو روزہ رکھنے کی عادت پڑ جاتی ہے وہ ساری زندگی روزہ نہ رکھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے! کہتے ہیں جوانی دیوانی ہوتی ہے، ہمیں یاد ہے ہم گرمیوں کے روزوں میں بھی فٹ بال کھیلنے کیلئے کچھ وقت نکال لیا کرتے تھے۔ میچ کھیلنے کے بعد شدید پیاس کا لگنا ایک ضروری امر تھا، کچھ لڑکے تو چپکے سے پانی پی لیا کرتے لیکن ایسے لڑکے بھی تھے جو گراؤنڈ میں پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر لیٹ جاتے مگر روزہ نہ توڑتے ان کا کہنا تھا کہ بس اب دو تین گھنٹوں کی بات ہے پانی نہ پینے سے بندہ مرتا تو نہیں ہے! یہی وہ بچے ہوتے ہیں جنہیں روزہ رکھنے کی عادت بچپن ہی سے ہوتی ہے۔ ہم نے بہت سے ایسے گھرانے بھی دیکھے ہیں جہاں بچوں سے روزے نہیں رکھوائے جاتے، بس یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ بڑے ہو کر خود ہی روزہ رکھنے کی عادت پڑ جائے گی! بس یہی وہ وقت ہوتا ہے جہاں والدین سے چوک ہوجاتی ہے، اگر بچپن میں روزہ رکھنے کی عادت نہ پڑے تو سن شعور کو پہنچنے پر بھی روزے کی افادیت واہمیت کا احساس دل میں جگہ نہیں پکڑتا! روزے کی عادت کے حوالے سے والدہ محترمہ مرحومہ کا سنایا ہوا ایک قصہ ذہن میں آرہا ہے۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ ان کے بچپن کی بات ہے ان کے محلے میں ایک بہت ہی ضعیف وشکستہ حال بوڑھی خاتون رمضان کے مہینے میں صدقہ وخیرات زکواۃ وغیرہ مانگنے آیا کرتی تھی، وہ ایک ہی صدا بار بار لگاتی: بیٹا نمازکی عادت نہیں، روزے کی طاقت نہیں، اس غریب بڑھیا کو اللہ کے نام پر کچھ دیدو! بظاہر یہ چھوٹا سا جملہ کتنا معنی خیز ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز پڑھنا بھی روزہ رکھنے کی طرح ایک عادت ہے جو بچپن کی تربیت ہی سے اختیار کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح جب روزہ رکھنے کی عادت ہی نہ ہو تو پھر ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے کہ پھر روزہ رکھنے کی طاقت بھی نہیں رہتی، ایک مرتبہ نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے کی عادت پڑجائے تو پھر آہستہ آہستہ ان کی اہمیت وافادیت کا احساس بھی اجاگر ہو جاتا ہے اور انسان کا کردار اور معاملات بھی بہتر ہوجاتے ہیں۔ اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو والدین بچوں کیلئے بہترین رول ماڈل ہوتے ہیں۔ بچے اپنے والدین کو دیکھ کر ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ ہمارے ایک مہربان نماز کی پابندی نہیں کرتے، ہم نے ان سے کہا کہ اس طرح تو آپ کے بچے بھی نماز نہیں پڑھتے ہوںگے؟ وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگے نہیں جناب ہم نے اپنے بچوں کو کہہ رکھا ہے کہ ہماری عادتوں کو اپنانے کی کوشش نہ کریں، جیسے ہی اذان کی صدا بلند ہوتی ہے ہم انہیں مسجد کی طرف رواں دواں کردیتے ہیں! ہم ان سے صرف یہی کہہ سکے کہ اگر آپ کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے!۔

متعلقہ خبریں