Daily Mashriq


قومی نصاب مرتب کرنے کی ضرورت

قومی نصاب مرتب کرنے کی ضرورت

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے مذہبی و سیاسی جماعتوں کے دبائو پر نصاب تعلیم کادوبارہ جائزہ موخر کرنا اس لئے احسن امر نہیں کہ اس بناء پر طالب علموں کے لئے عصری تقاضوں اور تبدیل ہوتے حالات کے تناظر میں نصاب کی تشکیل و تیاری نہ ہوسکی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے کے نصاب تعلیم میں مناسب تبدیلی لانا وقت کی ضرورت ہے۔ سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ حکومت کو اس ضمن میں مذہبی و سیاسی جماعتوں کی طرف سے کس قسم کے دبائو کا سامنا تھا۔ اس صورتحال سے اس امر کا بہر حال عندیہ ملتا ہے کہ مجوزہ ترمیم و تبدیلی کی نوعیت ایسی ہوگی جو شاید قابل قبول نہ تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نصاب تعلیم میں تبدیلی کاکسی سیاسی و مذہبی جماعت کو مخالفت کرنے کا جواز اسی وقت ہی ہاتھ آسکتاہے جب تبدیلی پر تحفظات ہوں۔ اگر صوبائی حکومت سعی کرتی تو مجوزہ اصلاحات اور تبدیلیوں پر سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لینا نا ممکن نہیں تھا اور نہ ہی ان کے تحفظات دور کرنامشکل کام تھا۔ تعلیمی نصاب کے حوالے سے سنجیدہ بحث تو کسی بھی فورم پر نہیں دیکھی جاتی اور نہ ہی اس کی زحمت گوارا کی جاتی ہے البتہ اخبارات میں مخالفانہ بیانات تواتر سے آتے ہیں۔ یوں اس امر کا تعین مشکل ہو جاتا ہے کہ بنیادی وجہ اختلافات آخر ہے کیا؟میڈیا پر مخالفین کی جانب سے اکثر و بیشتر یہی نکتہ اٹھایا جاتا ہے کہ وہ نصاب تعلیم کو غیر ملکی ایجنڈے کے تحت تبدیل ہونے نہیں دیں گے ۔ یہ امر اپنی جگہ لیکن وہ مجوزہ تبدیلیاں ہیں کیا اور ان کی مخالفت کا جواز کیا بنتا تھا اور حکومت نے ان پر بات چیت کے بعد کوئی متفقہ اور قابل قبول نصاب تیار کرنے کی ضرورت کیوں محسوس نہ کی؟ ۔ اگر دیکھا جائے تو اس وقت ملک میں اتنے نصاب رائج ہیں کہ جس کے جی میں جو آئے وہ نصاب پڑھاتا ہے۔ مختلف سکولوں کے مختلف نصاب ہیں جبکہ صوبائی اور مرکزی سطح پر بھی سرکاری سکولوں میں نصاب میں مطابقت نہیں جس کے باعث معاشرے میں تفریق اور طلبہ کے درمیان امتیاز اور عدم ہم آہنگی میں اضافہ ہو رہاہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس صورتحال کا واحد حل مرکزی سطح پر ایک نصاب کی تیاری ہے۔ اصولی طور پر تعلیمی نصاب کی تیاری اور سکولوں میں اس کا نفاذ اور طرز امتحان سبھی کا ایک متفقہ معیار مقرر ہونا چاہئے جس کی ملک بھر میں عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ تعلیم کے میدان میں تجربات اور ہر صوبے میں اپنی اپنی ترجیح و تبدیلی کی بجائے ایک قومی نصاب مرتب ہونا چاہئے جو ملک و قوم کی امنگوں سے ہم آہنگ ہوں۔ ملک بھر میں ایک معیاری نصاب ہونے سے ہی طالب علموں کو مختلف شعبوں میں مسابقت کی بنیاد پر یکساں مواقع ملیں گے اور احساس محرومی کا خاتمہ ہوگا۔ اس وقت ملک میں انتشار اور عدم مطابقت کی جو فضا موجودہے اور طالب علموں کی بڑی تعداد پوری محنت کے باوجود اس بارے پر یقین نہیں کہ انہیں یکساں مواقع ملیں گے۔ حال ہی میں ملازمتوں کے مقابلے کے اعلیٰ امتحان میں ملک بھر سے بنیادی اہلیت اور امتحان میں کامیابی کی استعداد نہ رکھنے والے امید واروں کا میسر نہ آنا المیہ ہے۔ ایک جانب ملک میں بے روز گاری عروج پر ہے ۔ معمولی ملازمتوں کے لئے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بڑی بڑی ڈگریوں کے حامل امیدوار قطار کی صورت میں آتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب جہاں استعداد جاننے کے عمل سے گزرنے کا موقع آتاہے تو کم ہی امیدوار مطلوبہ قابلیت کے حامل نکلتے ہیں۔ اس کی وجہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ملک میں کوئی ایسا نصاب اور طرز تعلیم رائج نہیں جو قوم کے ان سپوتوں کو آئندہ کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے مقابلے کے امتحان میں کامیابی کا اہل ثابت کرے۔ خیبر پختونخوا میں تو صورتحال اور گمبھیر ہے جہاں اس سال صرف اٹھارہ کے قریب امیدوار ملازمتوں کے اعلیٰ مقابلے کا تحریری امتحان ہی پاس کرسکے ہیں۔ یہ درست ہے کہ سارا الزام نصاب اور درس و تدریس کے معاملات ہی کو نہیں دیا جاسکتا اس میں طالب علموں کی اپنی محنت و قابلیت کا بھی عمل دخل کم نہیں لیکن یہ بات اپنی جگہ لمحہ فکریہ ضرور ہے کہ اس طرح کی نوبت کیوں آئی ان وجوہات کا جائزہ لینے اور اس کے مطابق لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سیاسی و مذہبی جماعتوں کے خوف کی وجہ سے نصاب میں بہتری کے لیے تین اہم ترین مضامین کی نصابی کتابوں کا جائزہ لینے والا منصوبہ موخر کرکے نصاب میں بہتری کے لیے ایک سال قبل وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر جائزہ منصوبہ شروع کرنا احسن اقدام اور وقت کی ضرورت ہے۔صوبے میں تعلیمی بہتری کے لئے نصابی کتابوں کا جائزہ لینے اور نصاب تبدیل کرنے کا منصوبہ سال 2006-2007میں شروع کیا گیا تھا، نویں سے بارہویں جماعت تک اسلامیات کے نصابی کتابوں کوجدید دور کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا رہا تھا۔تبدیلی اور جائزے والے منصوبے کی منظوری محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سے بھی لی گئی تھی۔اٹھارہویں آئینی ترمیم پرمکمل عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے ایلیمنٹری سیکنڈری ایجوکیشن اور اس کے نصاب کی تیاری کامعاملہ مرکزیت سے محروم چلا آرہا ہے۔

متعلقہ خبریں