Daily Mashriq


ملکی تاریخ کا سنہرا باب

ملکی تاریخ کا سنہرا باب

گوادر کی بندر گاہ کا فعال ہونا' چین سے سامان تجارت لے کر آنے والے قافلے کا مغربی روٹ سے ہو کر بحفاظت گوادر پہنچنا ار چینی بحری جہاز کا گوادر کی بندر گاہ سے پہلی بار تجارتی سامان لے کر روانگی ملکی تاریخ کا یقینا وہ سنہرا دن ہے جس پر پوری قوم کو سجدہ شکر اداکرنے کی ضرورت ہے۔چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی راہداری کی تعمیر اور اس کی فعالیت کے بعد کی صورتحال کا اندازہ کرکے جس طرح سازشوں کا آغاز کردیاگیا اس سے پوری قوم واقف ہے۔ بہر حال مقام اطمینان یہ ہے کہ پاکستان اس راہداری کے ذریعے دنیا کے ایک بڑے حصے کے لئے تجارتی مرکز بننے جا رہاہے۔ دنیا کی تجارت کا بڑا حصہ گوادر کی بندر گاہ منتقل ہونے سے وطن عزیز میں خوشحالی اور ترقی کے دور کی امید ہے۔قدرت نے تو ہمیں وسائل اور قدرتی سہولیات کی دولت سے دل کھول کر نوازا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم من حیث القوم قدرتی مواقع سے فائدہ اٹھانے اور دیانتداری سے کام لینے کے معاملے میں ناکامی اور نا اہلی کا شکار ہیں۔ دشمنوں کی سازشوں کے باعث ہماری مشکلات الگ ہیں جن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں خود کو ایک بیدار اور تیار قوم ظاہر کرنے پر خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گوادر پورٹ کی تکمیل اور تجارتی قافلے کو حفاظت سے پہنچانے میں پاک فوج کاکردار نمایاں اور سراہا جانے کے قابل ہے۔

بائیکاٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے

پاکستان تحریک انصاف کے بطور سیاسی جماعت بعض ایسے فیصلے خودجماعت کے اندرونی حلقوں کے لئے بھی قابل قبول نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود اس طرح کے فیصلے کئے جاتے ہیں جن کی حکمت اور بصیرت سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ برادر اسلامی ملک ترکی کے صدر کی آمد کے موقع پر تحریک انصاف کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کسی طور مناسب نہیں۔ تحریک انصاف کے حکومت سے اختلافات کی نوعیت جو بھی ہو ایک برادر اسلامی ملک کے صدر کی آمد پر پارلیمنٹ کے اجلاس کے بائیکاٹ کی منطبق سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس طرح کے مواقع کو باہمی سیاست کی نذر کرنا قومی مفاد میں نہیں اور اگر دیکھا جائے تو جس معاملے پر تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان اختلاف اور دوریاں ہیں وہ معاملہ اب سپریم کورٹ کے زیر نظر ہے جہاں سے فیصلہ آنے پر اسے من و عن تسلیم کرنے کا فریقین حامی بھر چکے ہیں۔ اصولی طور پر اس معاملے کو عدالت عظمیٰ جانے کے دن سے ختم ہو جانا چاہئے اور فیصلے کا انتظار کیاجانا چاہئے۔ بہر حال اس سے قطع نظر ایک برادر اسلامی ملک کے صدر کی آمد اور خطاب کے موقع پر پارلیمنٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کوئی مناسب قدم نہیں ہوگا جس پر نظر ثانی کی جانی چاہئے۔ ہمارے تئیں بعض معاملات میں حکومت کا رویہ بھی مثبت نہیں اگر گوادر پورٹ سے سامان سے لدے پہلے بحری جہاز کی روانگی کی افتتاحی تقریب میں ایک سیاسی جماعت کے رہنما کو شرکت کی دعوت دی جاسکتی ہے تو قائد حزب اختلاف اور دیگر جماعتوں کے قائدین کو بھی مدعو کرکے قومی یکجہتی کے اظہار میں کیا امر مانع تھا۔ بہتر ہوگا کہ حکومت اور سیاسی جماعتیں جہاں قومی یکجہتی کے تقاضے ہوں وہاں پر سیاست اور مفادات سے بالا تر ہو کر ایک اجتماعی قومی سوچ کا مظاہرہ کریں تاکہ دنیا اور خاص طور پر دشمن عناصر کو یہ واضح پیغام جائے کہ ہم آپس کے تمام تر اختلافات کے باوجود قومی سوچ اور ملکی مفادات کے تحفظ میں متفق و متحد ہیں۔

چہلم امام حسین۔۔۔۔سیکورٹی پلان

پشاور پولیس نے چہلم امام حسین کے موقع پر سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کے حوالے سے پلان ترتیب دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ پولیس حکام نے نہ صرف شہر کے مختلف علاقوں اور بازاروں کا دورہ کیاہے بلکہ سنی اور شیعہ علمائے کرام' مذہبی تنظیموں کے قائدین اور تاجروں سے ملاقاتیں کرکے ان کے ساتھ مشاورت بھی کی ہے۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر خصوصی ناکہ بندیوں کا بھی اہتمام کیا جائے گا اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں گاہے بہ گاہے ہونے والی انتہا پسندی کی وارداتوں کے تناظر میں چہلم امام حسین کے حوالے سے سیکورٹی کے اقدامات نا گزیر ہیں اور اس سلسلے میں ہر ممکن احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ علمائے دین سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے امن و آشتی کی فضا کو قائم رکھنے میں اپنا کردار اداکریں جبکہ تاجر برادری بھی مقامی انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون سے شہر میں سیکورٹی کے اقدامات کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں مددکرے۔

متعلقہ خبریں