سی پیک پر ایک اور آل پارٹیز کانفرنس

سی پیک پر ایک اور آل پارٹیز کانفرنس

ہفتہ کے روز شاہ بلاول نورانی کی درگاہ پر خود کش حملہ کوئٹہ سول ہسپتال اور پولیس ٹریننگ سنٹر پر حملوں کی طرح ایک دل فگار اور انتہائی اشتعال انگیز سانحہ تھا جس کا مقصد پاکستانی قوم کو ہراساں کرنا اور خاص طور پر بلوچستان کے عوام کو ریاستی اداروں سے بددل کرنا تھا۔ یہ سانحات اور ایسے ہی دہشت گردی کے دوسرے واقعات ان میں سانحہ گڈانی کو بھی شامل کیا جانا چاہیے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے مخالف عناصر پاکستان کو غیر مستحکم اور بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ دوسری طرف بھارت لائن آف کنٹرول پر روزانہ حملوں کے ذریعے دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اور صورت حال کو جنگ کی طرف لے جانے کی طرف لے جا رہا ہے تاکہ اسے ''کسی'' کی طرف سے کسی بڑی ''سرجیکل سٹرائیک'' کے لیے اشارہ مل جائے اور اس کے حامی پاکستان کو جوابی کارروائی سے روکنے پر آمادہ ہو جائیں۔ پاکستان کے سبھی ادارے اس قومی صورت حال پر پوری طرح متوجہ ہیں اور پاکستان کے عوام ہر قسم کے جارحانہ عزائم کو ناکام بنانے کے لیے متحد اور پرعزم ہیں۔ خنجراب سے گوادر تک سی پیک روٹ پر پہلے تجارتی قافلہ کے سفر کی تکمیل پر جس طرح سارے پاکستان میں اعتماد اور حمایت اورمسرت کا اظہار کیا گیا وہ پاکستانیوں کے قومی جذبہ اورعزم کا بین ثبوت ہے۔ بلاول شاہ نورانی کی درگاہ پر خود کش حملہ کے رنج و الم کے باوجود اگلے ہی روز سی پیک روٹ کے فعال ہونے کی تقریب کا جس طرح سارے پاکستان میں خیر مقدم کیا گیا وہ پاکستان کے عوام کا مشکلات کے باوجود پاکستان کے تابناک مستقبل پر یقین کا اظہار ہے۔ سی پیک منصوبے کے تحت گوادر سے چینی مصنوعات کی پہلی کھیپ کی روانگی یہ اعلان ہے کہ سی پیک منصوبے پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے اور اس کے آغاز کے بعد یہ منصوبہ چاروں صوبے کے لیے اپنے تمام تر ثمرات کے ساتھ جلد تکمیل کو پہنچے گا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ فی الحال یہ ایک سڑک ہے جس نے خنجرا ب سے گوادر کو ملا دیا ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تجارتی راستہ ہی ہیں جو معاشری' اقتصادی ترقی اور دفاعی استحکام کے باعث تاریخ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور سی پیک منصوبہ بین الاقوامی اہمیت کا منصوبہ ہے جس کے مثبت اثرات خطے کے امن سلامتی کی تاریخ پر مرتب ہوں گے۔ گوادر پورٹ کے فعال کیے جانے سے پاکستان کے بدخواہوں کو یہ پیغام بھی گیا ہے کہ پاکستان اور چین کا دفاعی رابطہ مضبوط اور سریع الرفتارہو گیا ہے اور یہ کہ پاک فوج اندرونی اور سرحدی محاذوں پر چوکس اور مستعد ہونے کے باوجود پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی اس سڑک کو فول پروف سیکورٹی فراہم کر سکتی ہے۔ پاکستان کے عوام اور سیاسی عناصر اس پہلو پر متوجہ نظر نہیں آتے۔ نہ کوئی اس پہلو پر روشنی ڈالتا ہے۔ سی پیک کا منصوبہ بدلتی ہوئی دنیا کے منظرنامے میں ایک قدم ہے ۔ دنیا بدل رہی ہے۔ امریکہ میں ایک ایسا شخص اقتدار میں آیا ہے جس کے قول و فعل کی بدمذاقی پر عمومی اتفاق رائے تھا۔ وہ یہ نعرہ لے کر آیا ہے کہ تیس لاکھ تارکین وطن کو امریکہ سے نکالے گا اور سفید فام امریکیوں کو روزگار ملے گا (یہ اور بات ہے کہ چند سال کے بعد نئے سفید فام امریکی روزگار کے متلاشی ہوں ) وہ تحفظ مفادات کی پالیسی کا داعی ہے۔ یہی صورت حال یورپ سے برطانیہ کی علیحدگی کی صورت میں نظرآئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بھی یہی سوچ ابھرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ سی پیک منصوبے کا تقاضایہی ہے کہ انحصار باہمی کے ساتھ ساتھ لازماً قومی نموپذیری کو فروغ دیا جائے۔ اس لیے پاکستان سی پیک منصوبے سے اسی صورت میں کماحقہ استفادہ کر سکے گا جب اس کی معیشت دیگر معیشتوں کے ساتھ انحصار باہمی کی سطح پر پہنچ جائے گی۔ سی پیک ایک ہمہ گیر ترقی کا منصوبہ ہے۔ صدرمملکت نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ کسی حکومت یا سیاسی پارٹی کا نہیں پوری قوم کا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہ دعویٰ ہر پاکستانی کا ہونا چاہیے جس کے لیے اس منصوبے کی شفافیت کا ہونا ضروری ہے۔ وفاقی حکومت نے عمومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے وزیر ترقیات کو بار بار مختلف صوبوں میں بھیجا ہے لیکن آج تک صوبوں کو وہ اوریجنل منصوبہ عطا نہیں کیا جس پر اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب سنا ہے وزیر اعظم اس منصوبے پر ایک آل پارٹیز کانفرنس بلا رہے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ اب اوریجنل نقشے عیاں کر دیے جائیں گے۔ نقشوں کے اخفا سے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں اس کی ایک چھوٹی سی جھلک میانوالی کے عیسیٰ خیل کے علاقے میں نظرآئی۔ جب بعض بااثر لوگوں کو معلوم ہوا کہ سی پیک روٹ عیسیٰ خیل سے گزرے گا تو انہوں نے سینکڑوں کنال اراضی مقامی لوگوں سے نہایت سستے داموں خرید لی یوں مقامی لوگوں سے بڑی زیادتی ہو گئی۔ چین سے سو ٹرکوں پر سامان آیا اور گوادر سے روانہ ہو گیا لیکن پاکستان کی کون سی مصنوعات ان ٹرکوں کے ذریعے چین جائیں گی یہ کوئی نہیں بتاتا۔ کیا ہمارے اہل صنعت و تجارت اس موقع کے لیے تیار نہ تھے؟ کیا حکومت نے چین کے ساتھ پاکستانی مصنوعات کی درآمد کے لیے کوئی معاہدے کیے تھے؟ یہ سوال تشنہ جواب ہے۔ سی پیک منصوبے کے تحت چھ رویہ سڑکیں بچھائی جائیں گی اور راستے میںصنعتی زون قائم کیے جائیں گے۔ ان کے لیے پانی ' بجلی اور مہارت یافتہ لیبر فورس کہاں سے آئے گی اور ان صنعتی زونوں میں کون سی صنعتیں لگائی جانی چاہئیں ان کے لیے پاکستانی سرمایہ کاروں کو کیا ترغیبات دی جائیںگی، یہ کوئی نہیں بتاتا۔ ان صنعتوں کے لیے مقامی لوگ زراعت' پولٹری، ڈیری اور مویشی بانی کے کن شعبوں پر توجہ دیں اور حکومت ان شعبوں کے فروغ کے لیے کیا کردار ادا کرے گی؟ یہ سب کچھ معلوم ہونا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ اب سی پیک منصوبے پرتمام سٹیک ہولڈرز کومکمل اعتماد میںلیا جائے تاکہ عام آدمی بھی اسے اپنی مِلک سمجھے۔

اداریہ