Daily Mashriq


وائٹ ہاؤس کے نئے مکین

وائٹ ہاؤس کے نئے مکین

امریکہ کے حالیہ انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی نے خلاف توقع واضح برتری حاصل کی ہے ، کامیابی کے بعد امریکہ کے ہزاروں لوگوں نے سڑکوں پر احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کے ذریعہ ٹرمپ کو پیغام دیا ہے کہ وہ ٹرمپ کو امریکہ کا صدر ماننے کے لئے تیا رنہیںہیں جبکہ دیگر ممالک بالخصوص مسلم ممالک کی طرف سے بھی ٹرمپ کو بطور امریکی صدر قبول کرنے کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔گو ٹرمپ نے اپنی پہلی تقریر میں سب کو ساتھ لیکر چلنے کی بات کی ہے لیکن ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جو اشتعال انگیز تقاریر کی تھیں لوگوں کے ذہنو ں سے ابھی وہ محو نہیں ہوئی ہیں ۔پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش یاد دلادی ہے، جو انہوں نے صدر منتخب ہونے سے قبل اپنے ایک بیان میں کی تھی۔ترجمان دفترِخارجہ نفیس زکریا نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کا نیا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور ساتھ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کا ان کا بیان بھی یاد دلادیا۔اورکہا کہ ہم نے ان کی اس پیشکش پر ان کا خیر مقدم بھی کیا تھا۔واضح رہے اکتوبر میں امریکی ریاست نیوجرسی میں بھارتی کمیونٹی کی ایک تقریب سے خطاب میں ری پبلکن رہنما نے کہا تھا کہ اگر وہ صدر بن گئے تو امریکہ اور بھارت پکے دوست بن جائیں گے اور ان کا مستقبل انتہائی تابناک ہوگا۔ بعد ازاں اخبار ہندوستان ٹائمز کو دیے جانے والے اپنے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان دوستانہ ماحول دیکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ یہ معاملہ بہت گرم ہے، اگر دونوں ملک دوستانہ ماحول میں ساتھ رہیں تو یہ بہت اچھا ہوگا اور مجھے امید ہے کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں۔تاہم اوباما انتظامیہ کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی واضح کیا تھا کہ وہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ثالثی اسی وقت کریں گے جب دونوں ملک انہیں ایسا کرنے کے لیے کہیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنوبی ایشیا کی جوہری طاقت کی حامل دو ریاستوں کے درمیان کشیدگی میں کمی ایک بڑی کامیابی ہوگی اور اگر وہ چاہتے ہیں کہ میں ایسا کروں تو میں بطور ثالث کردار ادا کرنے میں خوشی محسوس کروں گا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے ترجمان دفتر کا کہنا تھا کہ ہم اپنے امریکی دوستوں خصوصاً وہ جو انتظامیہ میں ہیں،ان پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان دوطرفہ تنازعات خصوصا مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حیران کن کامیابی نے پاکستانیوں کو اس خطرے میں مبتلا کردیا ہے کہ امریکی پالیسی روایتی حریف بھارت کے حق میں ہوسکتی ہے۔امریکہ اور اسلام آباد ویسے تو کئی دہائیوں سے خطے میں اتحادی ممالک ہیں لیکن امریکہ کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرنے کے الزام پر دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور اس الزام کو پاکستان مسترد کرتا ہے۔پاک امریکہ تعلقات رواں برس مئی میں اس وقت مزید خراب ہوگئے تھے جب امریکی ڈرون حملے میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا۔کئی پاکستانی ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلم مخالف بیانات اور بھارت کے ساتھ تجارتی تعلق کو بڑھانے کے عزم کو اس بات کی علامت قرار دیتے ہیں کہ مستقبل میں ٹرمپ انتظامیہ بھارت کے مزید نزدیک ہوسکتی ہے۔رواں برس مئی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ افغانستان میں 10 ہزار امریکی فوجیوں کو برقرار رکھنے کی حمایت کریں گے کیوں کہ افغانستان کے پڑوس میں پاکستان ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔تاہم ٹرمپ کی کامیابی کے بعد پاکستان میں تعینات امریکی سفارتکار نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ نئے صدر کے انتخاب کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے حوالے سے پالیسی یکسر تبدیل ہوجائے گی۔ 

ایک دلچسپ خبر یہ بھی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ پاکستان سے محبت کا اظہار کرتے نظر آئے۔اس ویڈیو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان سے محبت ہے ۔تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ ویڈیو کب ریکارڈ ہوئی، تاہم اس ویڈیو کو ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران اکثر و بیشتر پاکستان پر تنقید کرتے نظر آتے رہے تھے۔وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دینے کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ مسلمانوں کے تحفظات اپنی جگہ امریکیوں کی بڑی تعداد ٹرمپ کو اپنا صدر ماننے کے لئے تیار نہیں ہے دوسری طرف امریکی معیشت بھی چند سالوں سے زوال پذیر ہے ان تمام چیلنجز کا سامنا، امریکی معیشت کو دوبارہ فعال کرنا اور اپنے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے جیسی بھاری ذمہ داریاں ٹرمپ کے کندھوں پہ آن پڑی ہیں۔ جہاں تک تعلق ہے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کا تو مسلمانوں کو اس بارے متفکر ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ اقتدار سنبھالنے سے پہلے کی باتیں ہیں جو کہ ہم اس سے پہلے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی سن چکے ہیں ۔

متعلقہ خبریں