ڈونلڈکی اٹکھیلیاں

ڈونلڈکی اٹکھیلیاں

نئے امر یکی صدر اپنے انتخاب کے بعد جنوری کے آخری عشرے میں حلف اٹھائیں گے اس وقت تک نئے صدر کی نئی پالیسیو ں کے بارے میں چہ مگوئیا ں ہوتی رہیں گی ، تاہم سب سے پہلے ایک اہم ترین ردعمل ان کے انتخاب سے پہلے یہ آگیا ہے کہ کا بل میں امریکی سفارت خانہ سے جا ری ہو نے والے ایک بیا ن میں افغانستان میں تعینا ت امریکی سفیر مائیکل مک کینلے نے کہا ہے کہ امریکہ میں گزشتہ ہفتے ہو نے والے انتخابات کے بعد افغانستان کے لیے امریکی پالیسیو ں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ، انہو ں نے کہاکہ دونو ں ممالک کے درمیان معاہد ے برقرا ر رہیں گے ، دونو ں ممالک کے تعلقات کا امریکی انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ہے ، ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران گالی گلوچ کا معیا ر نچلی سطح پر رہا انہو ں نے ہیلر ی کو کئی نا منا سب نا مو ں سے پکا ر ا۔ ٹرمپ جن میں مزاح کی حس زیا دہ ہے کے خلاف میڈیا طرح طرح کے افسانے تراشتا رہا ہے خاص طورپر خواتین کے معاملے میں بہت بدنام کیا جب کہ بل کلنٹن کا معاملہ عملی طو ر پر انتہائی قابل اعتراض رہا ہے مگر میڈیا نے اس کا ذکر تک نہیں کیا۔ امریکی صدر کے انتخاب سے ایک بات تو یہ واضح ہو گئی کہ میڈیا چاہے خود کو کتنا ہی طا قت ور جا نے مگر وہ تبدیلی لا نے میں کوئی کر دا ر ادا کر نے سے معذور ہی ہے اگر تبدیلی میڈیا کے ذریعے ممکن ہو تی تو ہیلر ی کلنٹن تو ٹرمپ کی ضما نت ضبط کر ابیٹھتیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک سپر پا ور کے صدر منتخب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ساری دنیا کی نگاہیں ان کے رویے کی جانب اٹھی ہو ئی ہیں اس میں سب سے حساس صورت حال پاکستان میں ہے ، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسلما نو ں کے حوالے سے ان کی انتخابی تقاریر تشویش ناک تھیں مگر انہو ں نے کامیابی کے بعد فوری طو ر پر ان خدشات کو یہ کہہ کر دور کر دیا کہ وہ پو ری قوم کے صدر ہیں اور سب کو ساتھ لے کر چلیںگے ۔ اس کے باوجود دنیا اس امر کی منتظر ہے کہ ڈونلڈ کے آنے سے کیاتبدیلی آئے گی ، جس کا جا ئزہ لیا جا رہا ہے ،آیئے ا س کا اندازہ لگاتے ہیں ۔ امر یکہ کے آئین کے تحت امریکی صدر بہت زیا دہ اختیا ر ات کا ما لک نہیں ہوتا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکی صدر ریاست کا حکمر ان نہیںہو تا بلکہ وہ منتظم ہوتا ہے اس بنیا د پر وائٹ ہاؤ س امر یکہ کا پالیسی ساز ادارہ نہیں ہے بلکہ ملک کا نظم چلا نے کا ادارہ ہے پا لیسی ساز ادارہ صرف کا نگر س ہے یعنی امریکی پارلیمنٹ ، بے بسی کا اند ازہ یو ں لگا یا جا سکتا ہے کہ امر یکی صدر کو اعلا ن جنگ کر نے کا اختیا ر ہے مگر وہ اسی وقت جنگ کر سکتا ہے جب اس کو یہ یقین ہو جا ئے کہ پارلیمنٹ جنگی اخر اجا ت کے لیے بجٹ فراہم کر ے گی ورنہ نہیں۔ امریکی صدر کے پا س داخلی انتظام کے مناسب اختیا ر ہو تے ہیں مگر خارجہ امور کی پا لیسی کلی طور پر پا رلیمنٹ کے ہاتھ میں ہے ، مگر جس طر ح پاکستان میں جمہوری حکومت کو صر ف جمہوریت کی ڈونڈی پیٹنے کا اختیا ر رہتا ہے باقی سب نا دید ہ طاقت اپنے ہا تھ میں رکھتی ہے اسی طر ح امر یکا میں یہ نا دیدہ طا قت سی آئی اے اور پینٹاگان کی صور ت میں نا زل ہے چنا نچہ امر یکا میں خارجہ اور داخلہ پا لیسیوں پران جیسے ادارو ں کا ہی عمل دخل رہتا ہے ، اوباما آٹھ سال پہلے امر یکا کو جنگ سے نکا لنے کا عزم لے کر آئے تھے افغانستان کو امریکی فوجوں سے خالی کر نے کا وعدہ کرکے آئے تھے مگر نہ وہ افغانستان سے خلا صی حاصل کر سکے جبکہ جنگ کے خاتمے کی بات تو الگ رہی انہوں نے لیبیا ، شام اور ایسے دوسرے محاذ کھول دئیے ان کے دور اقتدار میں جنگ کا دائر ہ بہت وسیع ہو گیا یہ سب نا دید ہ طا قتوں کی بدولت ہو ا ۔ امر یکا پہلے سے زیا دہ جنگ کی دلد ل میں پھنس کر معاشی بحران کا شکار ہو ا ۔ پا کستان کے حوالے سے بھی پاکستان اور امریکا کے تعلقات پر بہت تشویش کا اظہا ر خاص طورپر پاکستان کا الیکٹرانک میڈ یا اور اسکے نا م نہا د ماہر ین بہت کر رہے ہیں ۔ تاہم پاکستان کو اپنے طر ز تعلقات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے پا کستان نے حد سے بڑھ کر اپنی معیشت کا انحصار امر یکا پر کر رکھا ہے ، سن 2002 سے 2o17تک جو امر یکی ترقیاتی امد اد ملنی ہے اس میں سے اب تک پاکستان کو33ارب ڈالر مل چکے ہیں ان میںسے سیکو رٹی کے شعبے کے لیے آٹھ ارب ڈالر ، اقتصادی ترقی کے لیے گیا رہ ارب اور دہشت گردی اور ایسے دیگر امور کی مد میں چودہ ارب ڈالر کی امداد مل چکی ہے۔ پاکستان کو دنیا بھر سے جو امداد ملتی ہے اس کو دیکھ کراندازہ ہو تا ہے کہ سب سے زیا دہ امداد یا تعاون امر یکہ کا ہے جو دنیا بھر کے کل تعاون کے پچاس فی صد سے بھی بڑھ کر ہے پاکستان کو اس انحصار سے خود کو نجا ت دلا نا پڑے گی۔ جہا ں تک ٹرمپ کے پاکستان کے ساتھ سلو ک کا تعلق ہے تو وہ امریکا کی خارجہ پالیسی سے ہٹ کر بھی دیکھنا ہو گی۔ امریکہ کی جو افغان پا لیسی ہو گی پاکستان کے ساتھ خارجہ تعلقات کی بنیا د بھی افغان پالیسی بنی رہے گی جبکہ امر یکی سفیر نے فوری طو رپر واضح کر دیا ہے کہ افغان پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی اس سے مستقبل کے فیصلو ں کی بھی نشاندہی ہو جا تی ہے ، جہا ں تک بھا رت کا ٹرمپ کی جیت پر بغلیں بجا نے کا تعلق ہے تو یہ ایک گما ن ہی ہے بھارت امر یکا کا اسڑیٹجک پارٹنر اس لیے نہیں ہے کہ اس میں بھا رت کی خا رجہ پا لیسی کا تعلق ہے بلکہ حالات کا عمل دخل زیا دہ ہے ، ایک تو بھارت ایشیا میں سب سے بڑی منڈی ہے اور امریکا کی ضرورت ہے اسی ضرورت کے تحت بھارت کو دوست بنا رکھا ہے دوسرا چین امر یکا کیلئے خطرہ ثابت ہو چکا ہے۔(جاری ہے)

اداریہ