چالیس سال پہلے کا پشاور

چالیس سال پہلے کا پشاور

سیاست ایک خشک موضوع ہے ،خاص طور پر پاکستان کی سیاست جس پر لکھتے لکھتے بندہ خود بھی خشک ہو جاتا ہے اور پڑھنے والوںکو بھی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے لیکن '' چھٹتی نہیںہے کافر یہ منہ کولگی ہوئی'' کے مصداق جب بندے کو پیسے دے کر اذیت مول لینے کی عادت پڑ جائے تو نفسیات کی اصطلاح میں ایسے شخص کو نفسیاتی مریض کہتے ہیں۔ایسا شخص چوائس ہونے کے باوجود اذیت پسندی کی طرف جاتا ہے۔پتہ نہیں اتوار کی چھٹی کا اثر تھا یا کچھ اور ، کالم لکھنے سے پہلے یہ خیال آیا کہ سیاست کی بجائے کسی ہلکے پھلکے موضوع پر لکھا جائے اور یوں قرعہ فال اس موضوع کے نام نکلا جو اس کالم کی سرخی بھی بنا۔

چالیس سال سے بھی پرانی بات ہے جب یہ خاکسار پشاور کی گلیوں میں بھاگتا دوڑتا پھرتا تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جب راوی سب کے لئے چین ہی چین لکھتا تھا۔ڈبگری سے ذرا آگے رامداس سے ذرا پہلے سرحد کالونی تھی جس کے ہر کوارٹر میں دو بیڈ روم اور ایک بیٹھک تھی۔ بیڈرومز کے آگے برآمدہ اور پھر بڑا سا صحن۔شائد ان دنوں میں چوتھی یا پانچویں جماعت کا طالبعلم تھا۔رامداس بازار سے گزر کر آسیہ پبلک سکول واقع تھا جہاں ہمیں ٹاٹوں پر بٹھا کر تعلیم دی جاتی تھی۔ ملیشیا کی شلوار قمیص ہمارایونیفارم تھی اور پولیس مین جیسی ٹوپی سر پہ دھرے جب ہم سکول جاتے تو بازار سے گزرتے گزرتے دو تین دکانداروں سے بھی شناسائی ہو گئی،اور آتے جاتے سلام دعا ہمارا معمول ٹھہری۔سکول سے واپس آتے تو شام ڈھلنے تک کالونی میں اپنے دوستوں سے کھیلتے اور گھر جاتے تو سالن بننے کی ایسی اشتہا انگیز مہک ہمارا استقبال کرتی جو اس کے بعد ہم نے کبھی اور کہیں محسوس نہیں کی۔یہ خوشبو پڑوسیوں کے گھر سے آتی جہاں ایک سواتی فیملی مقیم تھی۔ہمیں تجسس تھا کہ وہ آخر سالن میں ڈالتے کیا ہیں تو پتہ چلا کہ ایک خاص سالن مصالحہ جو ان دنوں مارکیٹ سے عام ملتا تھا۔گاہے ان کے گھر سے سالن آتا تو الگ ہی مزہ ہوتا۔
بازاروں میں جگہ جگہ آلو بخارے کی چٹنی بکتی تھی جس میں سرخ رنگ شامل ہوتا۔ اسکی رونق وہ بادام،اخروٹ ،چھوہارے،اور خربوزے کے خشک بیج بڑھاتے جو ایک خاص تناسب سے ڈالے جاتے۔اتنی مزیدار اور زود ہضم کہ جتنی چاہو کھا لو ،گرانی کا احساس تک نہ ہو۔اور وہ جگہ جگہ شام کو سڑکوں کے کنارے بیٹھے سرخ گوشت کی ٹماٹر مارکہ کڑاہی بنانے والے۔ چھوٹی چھوٹی کڑاہیوں میں چند منٹوں کے اندر تیار ہونے والی وہ کڑاہی لذت اور ذائقے میں اپنی مثال آپ ہوتی۔ اور وہ افغانی روٹی جس کے لئے ہمیں اسلام آباد سے پنڈی کا سفر کرنا پڑتا ہے اور حاصل کرنے کے لئے اس وجہ سے طویل انتظار کہ پورے پنڈی میں دو ہی نانبائی بیٹھے ہیں، کالونی سے باہر نکلتے تو ہماری منتظر ہوتی۔ اور پشاوری (افغانی) گرما گرم روٹی پہ رکھا وہ چپلی کباب جواپنی لذت کھو بیٹھا ہے ،ایسا مزہ دیتا کہ جو آج فائیو سٹار ہوٹلوں کے مہنگے ترین کھانوں میں بھی نہیں ملتا۔
اس زمانے میں جلیل کبابی کا خاصا شہرہ تھا لیکن ادھر ادھر بیٹھے کبابی بھی ایسے شاندار کباب تیار کرتے کہ کھا کر مزہ آجاتا جبکہ آج جن کبابیوں کا بڑا نام ہے ان کا ذائقہ اس زمانے کے عام کبابیوں سے بھی کمتر ہے۔ سنیما کلچر عام تھا ۔پنجاب ہی کی طرح پشاور کے سنیمائوں میں بھی رش ہوتا۔ بچے، بچیاں اور لڑکے لڑکیاں سنیمائوں میں نظر نہ آتے کیوں کہ ان پر ماں باپ کا کنٹرول تھا۔ ہاں بالغ مردوں سے سنیما ہال کچھا کھچ بھرے ہوتے۔
جہاں تک مجھے یاد ہے خواتین بھی سنیمائوں کا رخ نہ کرتیں کہ پشتون کلچر آڑے آتا تھا۔ یادش بخیر اگر میں صحیح ہوں تو پشاور میں پردہ ضرور تھا لیکن شٹل کاک برقعہ شہری رجحان تب بھی نہ تھا۔ نوشہرہ، پبی،چارسدہ، مردان،صوابی ،بنوں وغیرہ سے پشاور تب بھی بہت مختلف تھا۔ایک متوازن شہر جس میں اعلیٰ درجے کا فروٹ ملتا اور آج بھی ملتا ہے۔ پنجاب سے جو فروٹ جاتا ہے وہ راولپنڈی میں مہنگا اور پشاور میں سستا حالانکہ پشاور تک کیرج کا خرچہ زیادہ ہے،شائد آج بھی پنجاب جتنی چور بازاری پشاور کا مزاج نہیں بنی۔مکس کلچر تھا ۔پختون اور نان پختون میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا کہ صاف ستھری پشتو سبھی بولتے۔حتیٰ کہ کرسچن بھی۔سرحد کالونی میں کیپٹن شکیل رنگ اور نسل سے تو صاف کرسچن لگتے لیکن پشتو صاف اور شستہ بولتے۔ہندکو بولنے والے آپس میں بات کرتے تو تھوڑے تھوڑے پنجابی لگتے۔اردو بولنے والے خال خال تھے۔البتہ ہزارہ وال کافی تھے۔لوگوں کے پاس گھروں میں تھوڑا بہت اسلحہ ہو تو ہو مسلح ہو کر گھومنے کا کلچر نہ تھا۔مہذب لوگ تھے اور بات بات پر لڑائی کا کوئی وجود نہ تھا۔پشتون اور نان پشتون کے درمیان گہری دوستیاں تھیں اور تعصب نام کو نہ تھا مگر یہ افغانوں سے پہلے کے پشاور کی باتیں ہیں۔دہشت گردی کے فسانہ عبرت سے پہلے کے قصے ہیں۔ان دو عفریتوں کے نزول کے بعد پشاور کا قہقہہ کہیں گم ہو گیا۔سرحد کالونی سمیت سبھی دیواریں اونچی ہو گئیں اور جب دیواریں اونچی ہو جائیں تو شہر،بھلا شہر کب رہتے ہیں ،قلعے بن جاتے ہیں اور آبادی محصور ہو جاتی ہے۔سچ کہتا ہوں اب مجھے وہ اپنا اپنا سا پشاور پرایا پرایا سا لگتا ہے۔ اس کی مٹی سے اب وہ سوندھی سوندھی خوشبو نہیں آتی کہ جو مجھے مسحور کر دیا کرتی تھی۔آگ اور خون کے کھیل نے زندہ وجودوں کے ساتھ شہر سے جڑی یادوں کو بھی روند دیا ہے۔

اداریہ