Daily Mashriq


سی پیک کا پہلا کارواں اور شاہ نورانی کاحادثہ

سی پیک کا پہلا کارواں اور شاہ نورانی کاحادثہ

زمین کے راستے پاک چین اقتصادی راہداری کا پہلا کارواں کڑے حفاظتی پہرے میں اپنی منزل گوادر بندرگاہ پر پہنچ رہا تھا توسمندر کی لہروں کو چیرتا ہوا چین کا پہلا جہاز بھی اس سامان کو خلیجی اور افریقی ملکوں کی منزلوں کی جانب لے جانے کے لئے گوادرکے ساحل پر لنگر انداز ہو رہا تھا۔یہ عظیم پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے فنکشنل ہونے کا اعلان واظہار تھا۔ جس میں اس منصوبے کے مخالفین کے لئے شکست کا پیغام اور احساس تھا ۔وہ سب جو اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے مدتوں سے مختلف ڈھنگ اور ڈھب استعمال کر رہے ہیں ۔جن میں پاکستان کو خوفناک دہشت گردی کا شکار بنانا بھی شامل ہے۔اقتصادی راہداری پر دوڑتے ہوئے کنٹینران سب مخالف عناصر کے ارادوں پر خاک ڈال رہے تھے ۔پہلے تجارتی قافلے کی گوادر آمد کے دوسرے روز ہی منصوبے کی افتتاحی تقریب ہو رہی تھی جس میں وزیر اعظم میاں نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک ہورہے تھے ۔ایک طرف زمانے کی نگاہوں میں خار کی طرح کھٹکنے والے سی پیک منصوبے کی کامیابی کی منزل سامنے تھی تو دوسری طرف دشمن بھی خود کوہٹ کا پکا ثابت کرنے پر تُلا بیٹھا تھا۔دشمن نے بلوچستان میںہونے والی اس کامیابی کا فوری جواب دینے کے لئے بھی بلوچستان کا ہی انتخاب کیا تھا ۔اُدھر اقتصادی کارواں اور بحری جہاز لنگر انداز ہورہا تھا اِدھر بلوچستان کے علاقے خضدار میں ایک درگاہ پر خوفناک خود کش حملہ ہورہا تھا ۔جس میں ساٹھ کے قریب افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہو رہے تھے ۔ایک ہی روز میں ہونے والے یہ دونوں واقعات اس حقیقت کا اظہار تھے کہ بلوچستان سے ہی پاکستان کی ترقی اور عالمی اُبھار کا سورج بھی طلوع ہو رہا ہے اور مستقبل میں دشمن نے بھی اسی علاقے کو میدان جنگ اور ہدف بنائے رکھنا ہے ۔یہ وہ حقیقت ہے جس کا اظہار امریکہ کے تھنک ٹیکنس کی راہداریوں اور سیمیناروں میں ہو رہا ہے ۔یہی حقیقت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی لال قلعے پر ہونے والی تقریر سے عیاں تھی اور یہی حقیقت امریکہ ،بھارت اور یورپ کے مشترکہ'' مہمان'' براہمداغ بگٹی کی فیس بک اور سکائپ پر جاری تقریروں میں جھلکتی ہے۔سوچ کے یہ تمام دھارے ایک ہی سمت میں بہتے ہیں جو یہ ہے کہ پاکستان کو بلوچستان میں اُبھرنے والے امکانات سے محروم کرنا اور رکھنا ہے ۔بلوچستان میں دہشت ،شدت اورتشدد کی آگ کو جلتے اور الائو کو روشن رکھنا ہے ۔شاہ نورانی درگاہ پر خوفناک حملہ دشمن کے جارحانہ عزائم اور ارادوں کا پتا دے رہا ہے ۔یہ پاکستان کے لئے جوابی پیغام ہے ۔پاکستان مخالف قوتیں زبان وعمل سے جوابی پیغام دینے میں ذرہ برابر شرم اور جھجک محسوس نہیں کرتیں ۔پاکستان کو اچھے اور برے دہشت گردوں میں تمیز روا رکھنے کا طعنہ دینے والے یہ عناصر دراصل خود بھی پاکستان کے معاملے میں بھی اچھے اور برے دہشت گردوں کی تمیز اور تفریق کے عارضے کا شکار ہیں ۔ان کے خیال میں ہر وہ دہشت گرد اچھا ہے جس کی ضرب پاکستان کے وجود پر پڑتی ہے اور ہر وہ دہشت گرد برا اور قابل گردن زدنی ہے جو بھارت ،امریکہ اور افغانستان کے لئے خطرہ بنتا ہے ۔ایسا نہ ہوتا توبلوچستان میں بے گناہ مزدوروں ،صحافیوں اور دانشوروں کے قاتل ملکوں ملکوں نہ گھوما کرتے اور آن واحد میں الطاف حسین منی لانڈرنگ کے کیس میں برطانیہ کی لانڈرھی سے دھل دھلا کر باہر نہ نکلتے ۔ایک طرف بیرونی حالات یہ ہیں تو دوسری طرف داخلی طور پر یہ منصوبہ نزع کا باعث بنایا دیا گیا ۔خیبر پختون خوا حکومت منصوبے میں نظر انداز کئے جانے پربگڑ بیٹھی ہے ۔کے پی کے حکومت نے اقتصادی راہداری کے معاملات کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھاہے ۔کے پی کے حکومت کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کوسی پیک معاہدے کی دستاویزات تک فراہم نہیں کیں اور یہ کہ مغربی روٹس کی تعمیر کے متعلق اپنا وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔سی پیک اپنی نوعیت کا ایک منفرد منصوبہ ہے ۔دنیا سے گم چینجر تسلیم کر رہی ہے ۔یہ پاک چین دوستی کو ثریا کی بلندیوں تک لے جانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ایک بڑی اقتصادی اور فوجی طاقت بنائے گا ۔اس منصوبے میں پوشیدہ امکانات کی وجہ سے ہی امریکہ اور بھارت اس کے درپہ ہیں ۔بھارت اسی منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے ۔یہ منصوبہ تکمیل کے لئے قومی اتحاد ویگانت کا متقاضی ہے مگر بدقسمتی اس منصوبے کو ابتدا میں ہی اختلافات کی بنیاد بنایا جا رہاہے ۔وفاقی حکومت خیبر پختون خوا حکومت کے تحفظات پر ہمدردانہ غور کرے اور صوبائی حکومت کو بھی اپنے لہجے کی تلخی کم کو بڑھا کریہ تاثر نہیں دینا چاہئے کہ یہ منصوبہ پاکستانیوں کو جوڑنے کی بجائے تقسیم کررہا ہے ۔خدانخواستہ یہ منصوبہ ناکام ہوگیا تو پاکستان آنے والے دور کے بے پناہ امکانات سے محروم ہو جائے گا۔درگاہوں ،فوجی مراکز ،مساجد اور امام بارگاہوںاور پبلک پارکوں پر حملے کرنے والوں کا مقصد یہی ہے ۔وہ اب بھی اس امید پر جی رہے ہیں کہ اس منصوبے کو پاکستان اور چین دونوں کے لئے اس قدر گراں مایہ بنایا جا سکتا ہے کہ دونوں کے لئے اسے جاری رکھنے سے ختم کرنا ہی آسا ن راستہ رہے۔

متعلقہ خبریں