Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

ماں کی خصوصی توجہ اور دلچسپی کی بنا پر حضرت عمر بن عبدالعزیزنے بچپن میں ہی قرآن حکیم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کرلی تھی۔عمر بن عبدالعزیز کے دل میں بچپن سے ہی رب تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کااعتراف جس انداز میںپایا جاتاتھا اس معاملے میں کوئی دوسرا ان کا ہم پلہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ دراصل یہ خوبیاں ان کی والدہ حضرت ام عاصم کی خصوصی تربیت اور نگہداشت کا ثمرہ تھیں۔ ایک دفعہ ان سے قدرے کوتاہی ہوگئی۔ بیٹا گھوڑوں کے اصطبل میں جا پہنچا' گھوڑے نے دولتی ماری جس سے بیٹے کی پیشانی زخمی ہوگئی۔ حضرت ام عاصمجلدی سے ان کی طرف بڑھی اور انہیں اٹھاکر اپنے سینے سے چپکا لیا۔اسی وقت بچے کے والد پہنچ گئے ۔ حضرت ام عاصم جذباتی اندازمیں ہوئے کہنے لگیںکہ ابھی تک آپ نے اس کے لئے کسی خادم کااہتمام کیا اور نہ ہی اس کی دیکھ بھال کے لئے کسی آیا کا انتظام کیا۔ اہلیہ کی باتیں سن کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی کہا: ام عاصم تم بڑی ہی خوش نصیب ماں ہو۔ سنو! امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب کو ایک رات خواب آیا۔ دیکھتے ہیں کہ بنو امیہ کاایک چشم و چراغ زخمی ہوگیا ہے۔ آپ نیند سے بیدار ہوئے اور فرمانے لگے: بنو امیہ کا یہ زخمی کون ہے؟ وہ حضرت عمر کی اولاد سے ہے۔ اسکا نام بھی عمر ہوگا وہ حضرت عمر کے نقش قدم پر چلے گا اور روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ یہ زخم جب میرے بیٹے کی پیشانی پر آیا تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز جنہیں بچپن میں پیشانی پر زخم آیا' انہوں نے واقعی مسند اقتدار پر براجمان ہوتے ہی درماندہ حال لوگوں میں خوشیاں بانٹنا شروع کیںاور معاشرے میں عدل و انصاف کا بول بالا کیا۔

ایک مرتبہ امام بخاری دریائی سفر کر رہے تھے اور ایک ہزار اشرفیاں ان کے ساتھ تھیں ۔ ایک شخص نے کمال نیاز مندی کا طریقہ اختیار کیا اور امام بخاری کو اس پر اعتماد ہوگیا۔یہ بھی بتادیا کہ میرے پاس ایک ہزار اشرفیاں ہیں ۔ ایک صبح کو جب وہ شخص اٹھا تو اس نے چیخنا چلانا شروع کیا اور کہنے لگا کہ میری ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی غائب ہے ۔ چنانچہ جہاز والوں کی تلاشی شروع ہوئی ۔ امام بخاری نے موقع پا کر چپکے سے وہ تھیلی دریا میں ڈال دی ۔ تلاشی کے باوجود تھیلی دستیاب نہ ہوسکی تو لوگوں نے اس کو ملامت کیا۔ سفر کے اختتام پر وہ شخص امام بخاری سے پوچھتا ہے کہ آپ کی وہ اشرفیاں کہاں گئیں امام صاحب نے فرمایا کہ میںنے ان کو دریا میں ڈال دیا۔ کہنے لگا کہ اتنی بڑی رقم کوآپ نے ضائع کر دیا ؟ فرمایا کہ میری زندگی کی اصل کمائی تو ثقاہت کی دولت ہے ۔ چند اشرفیوں کے عوض میں اس کو کیسے تباہ کر سکتا تھا؟ امام بخاری کی کمال احتیاط کا اندزہ کیجئے کہ آپ نے صرف اس لئے ایک ہزار اشرفیاں دریا میں ڈال دیں کہ اگر یہ مجھ سے برآمد ہوگئیں تو لوگوں کے ذہنوں میں یہ شکوک وشبہات آسکتے ہیں کہ کہیں امام بخاری نے چوری نہ کیے ہوں۔

متعلقہ خبریں