Daily Mashriq


قابل توجہ ریمارکس

قابل توجہ ریمارکس

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے بنی گالہ میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ موجودہ حکومت کے پاس نہ تو اہلیت ہے، نہ ہی صلاحیت اور نہ ہی منصوبہ بندی ہے۔ چونکہ بہت ہی نیا پاکستان بن رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیسے اس منصوبے کو نافذالعمل کیا جائے گا؟ منصوبے پر عمل کرنے کیلئے پیسے کہاں سے آئیں گے؟ صرف کاغذ پر لکھ کر لانے سے منصوبے نہیں بنتے۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ نیب مقدمات میں یا تو سب کو پکڑے یا سب کو چھوڑے اور قومی احتساب بیورو مقدمات میں دونوں آنکھیں کیوں نہیں کھولتا۔ اگرچہ معزز چیف جسٹس کے یہ ریمارکس ایک خاص مقدمے کے تناظر میں ہے جسے حکومت کی کارکردگی اور معاملات پر محمول نہیں کیا جاسکتا لیکن بادی النظر میں اسے ایک آئینہ ضرور قرار دیا جا سکتا ہے جس میں مختصر مدت کے دور حکومت کی کارکردگی اور معاملات کے بارے میں چیف جسٹس کی سوچ کی عکاسی اخذ کرنا غلط نہ ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ بنی گالہ تجاوزات کا معاملہ وزیراعظم عمران خان خود عدالت لے گئے تھے اور بعدازاں خود ان کا گھر بھی زد میں آیا اس ضمن میں عدالت کم وبیش تین بار ایک عام انتخابات سے قبل اور دو دفعہ بعد میں اپنی رائے واضح کر چکی ہے اس لئے بہتر یہی ہوگا کہ وزیراعظم اس معاملے کو عدالتی اور قانونی گتھیوں میں اُلجھانے کی بجائے سیدھے سبھائو طریقے سے قانونی تقاضے پورے کر کے ایک مثال قائم کر ے۔ اس ضمن میں عدالت کا فیصلہ بہرحال حتمی ہوگا جس کا عندیہ چیف جسٹس نے یہ کہہ کر دیدیا ہے کہ وہ مقدمے کا حتمی فیصلہ کر کے ہی جائیں گے۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آنے کے بعد اس پر عملدرآمد جب ہونا ہی ہے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ قانون کی منشاء سمجھا جائے اور مزید تاخیر کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ اس معاملے سے قطع نظر اگرچہ چیف جسٹس نے ایک مقدمے میں ریمارکس دیئے لیکن اس سے مخالفین اور تبصرہ نگاروں کو یہ موقع بہرحال مل جاتا ہے کہ وہ اسے حکومتی اقدامات اور کارکردگی کے تناظر میں دیکھیں چونکہ یہ کسی مخالف سیاسی جماعت یا کسی سیاسی شخصیت کے الفاظ نہیں بلکہ چیف جسٹس کے ریمارکس ہیں اسلئے اس پر غور کرنے اور ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنا خود احتسابی اور تنقید سے بچنے کیلئے بھی ضروری ہے۔ کرسی انصاف سے جسٹس عظمت سعید کے نیب کے بارے میں ریمارکس قومی احتساب بیورو کے سربراہ سے لیکر دیگر سطح کے حکام کیلئے چشم کشا ہونے چاہئیں۔ خاص طور پر نیب کے معزز چیئرمین جو خود بھی کرسی انصاف پر رہ چکے ہیں اور قانونی معاملات کے ادراک کیساتھ ساتھ انصاف کی فراہمی کے معاملات میں بھی نیک نامی کے حامل رہے ہیں۔ ان کیلئے یہ یقیناً قابل غور وفکر معاملہ ہے کہ کرسی انصاف سے منصف ان کے ادارے کی کارکردگی بارے یہ سوال اٹھاتا ہے اور نیب کو غیرجانبدارانہ اور دباؤ سے پاک تفتیش اور مقدمات کو آگے بڑھانے کا مشورہ دیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نیب کی موجودہ فعالیت کا دور شاید کبھی نہ آئے اور بہت جلد آئینی ترمیم کے ذریعے حکومتی وحزب اختلاف کی جماعتیں متفقہ طور پر اس کے لامحدود اختیارات کو مناسب سطح پر لائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نیب کو آمروقت کے دور میں جو اختیارات دیئے گئے تھے اس سے قطع نظر اصل بات ان کا استعمال ہے جب تک لامحدود اختیارات کا استعمال اس کے تفویض کنندہ اور تخلیق کاروں کے مقاصد کے تحت نہ ہوا سیاسی جماعتوں کو بھی نیب کے ناخن تراشنے کی ضرورت نہ پڑی مگر جب برعکس صورتحال سامنے آئی تو صرف سیاسی جماعتوں پر کیا موقوف عدالت عظمیٰ کے معزز منصف نے بھی نیب قوانین میں ترمیم کی ضرورت کا تذکرہ کیا۔ اس صورتحال میں نیب کی ذمہ داری یہی رہ جاتی ہے کہ وہ قوانین کے یکطرفہ اور جانبدار استعمال کی بجائے غیرجانبداری کے ساتھ مساویا نہ بنیاد پر بروئے کار لائیں اور احتساب کے عمل کو جتنا جلد اور شفاف طریقے سے ممکن بنا سکتے ہیں اس میں تاخیر اور تردد کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ وزیراعظم نے جس نئے پاکستان کا خواب عوام کو دکھایا ہے اور اس ضمن میں وہ بار بار جن عزائم کا اظہار کرتے رہتے ہیں ان عزائم اور یقین دہانیوں پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ عوام اس امید میں ہیں کہ نئے پاکستان کی کوئی ٹھوس بنیاد رکھنے کا حامل کردار وعمل نظر آئے جس سے امیدیں وابستہ کی جاسکیں۔ اس ضمن میں حکومت جتنی جلدی اقدامات ممکن بنا سکتی ہے اس میں سستی کی گنجائش نہیں۔ آج چیف جسٹس کو اگر اس نئے پاکستان بننے میں تردد ہے اور وہ اس کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتے تو کل عوام بھی یہی سوال کرنے لگیں گے تو حکومت کے پاس ان کو مطمئن کرنے کیلئے کیا دلیل ہوگی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ بہت جلد نئے پاکستان کے خدوخال واضح ہوں گے اور نیب بھی فعالیت اور غیرجانبداری سے مقدمات کو اس قدر تیزی سے آگے بڑھائے گی کہ احتساب کا عمل ہوتا نظر آئے گا۔

متعلقہ خبریں