Daily Mashriq


قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس بلانے میں مشکلات

قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس بلانے میں مشکلات

کئی بار کوششوں کے باوجود صوبوں کی جانب سے قومی مالیاتی کمیشن(این ایف سی)کی تکمیل کے لیے تاحال نامزدگیاں نہ بھیجنے پر وفاقی حکومت کا مشوش ہونا فطری امر ہے۔ انگریزی معاصر کی رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)سے بیل آئوٹ پیکج کے لیے ہونے والی بات چیت کے پیشِ نظر این ایف سی کا معاملہ حل کرنا چاہتی ہے کیوں کہ قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد وہاں کے مالیاتی امور واضح کرنے ہوں گے۔دوسری جانب سندھ ،بلوچستان اور پنجاب نے ابھی تک کوئی نمائندہ این ایف سی کے لیے نامزد نہیں کیا تاہم خیبر پختونخوا کی جانب سے مذکورہ نامزدگیاں کردی ہیں۔دوسری جانب حکومت کو درپیش مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ مختلف ذرائع کے تحفظات کے باعث گزشتہ برس ہونے والی مردم شماری کے اعداد و شمار کا باضابطہ نوٹفکیشن ابھی تک جاری نہیں ہوسکا۔جس کے باعث صوبوں کے لیے مختص این ایف سی ایوارڈ کی مقدار میں تبدیلی ہونے کے امکانات ہیں۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا کے لیے کہ یہاں اب قبائلی علاقے بھی صوبے کا حصہ بن چکے ہیں۔مردم شماری کے اعداد و شمار تسلیم کرنے کے سلسلے میں اعتراضات دور کرنے اور اتفاقِ رائے قائم کرنے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے کی ضرورت ہے کیوں کہ اتنے بڑے کام کو از سرِ نو سرانجام دینا ممکن نہیں۔اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ وفاق اور چاروں صوبوں کی مشاورت کے بغیر نہیں کیا جاسکتا اور آئین کے تحت نہ ہی کسی صوبے کے حصے کو کم کیا جاسکتا ہے۔قبائلی علاقہ کے انضمام کے بعد این ایف سی کا تین فیصد حصہ خیبر پختونخوا کو دیا جانا ہے جبکہ خیبر پختونخوا کی مردم شماری میں آبادی میں اضافے کی بناء پر بھی اس کے حصے میں اضافہ ضروری ہے جبکہ پنجاب اور کراچی کی آبادی کے نئے اعداد و شمار کے باعث سندھ کے حصے میں فرق آنا ہے۔ شاید ان مشکلات کے باعث مردم شماری کے حتمی نتائج جاری نہیں کئے جا رہے ہیں اور محولہ صورتحال سامنے آنے کے بعد سے مسلسل اس کو التواء میں رکھا جا رہا ہے مگر یہ مسئلے کا حل نہیں۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں حکمران جماعت تحریک انصاف کی حکومت ہے بلوچستان حکومت میں بھی حصہ داری ہے لیکن سندھ میں برعکس معاملہ ہے اس لئے سب سے زیادہ مزاحمت سندھ ہی کی جانب سے متوقع ہے۔ یہ حکومت کا امتحان ہوگا کہ وہ اس آئینی معاملے کا حل نکالے اور این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے میں رد و بدل اور خاص طور پر فاٹا کے انضمام کے بعد خیبر پختونخوا کو اس کا پورا حصہ دلائے۔

نسوار پر پابندی احسن مگر عملدرآمد مشکل

محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے صوبے بھر کے کالجز اور جامعات میں نسوار اور سگریٹ کے استعمال پر پابندی عائدکرنے کا اقدام تو احسن ضرور ہے لیکن اس پر عملدرآمد نا ممکن سے کم نہیں۔ یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں کہ صوبے میں نسوار استعمال کرنے والوں میں ہر عمر کے افراد ہی شامل نہیں بلکہ ایسے لوگ بھی نسوار ڈالتے ہیں جن کے بارے میں یقین نہیں آتا کہ اس درجے اور عہدے کے لوگ بھی اس لت میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔بہر حال اعلامیے کے مطابق تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو مطلع کیا گیا ہے کہ طلبہ سمیت تمام سٹاف کے نسوار کے استعمال اور تمباکو نوشی کی ممانعت کردی گئی ہے۔اعلامیے کے مطابق منشیات کی روک تھام کے لیے ہفتہ وار یا ماہوار بنیادوں پر آگاہی پروگرام شروع کیے جائیں جبکہ تعلیمی اداروں میں موجود کینٹین اور کیفے ٹیریاز کا دورہ کیا جائے اور وہاں موجود مشروبات اور دیگر اشیا کا معائنہ کیا جائے۔محکمہ اعلیٰ تعلیم کے مطابق پابندی کے حوالے سے صوبے کی تمام جامعات کے وائس چانسلرز، ڈائریکٹر ہائیر ایجوکیشن اور متعلقہ حکام کو آگاہ کردیاگیا ہے جو اس پر عملدرآمد کے ذمہ دار ہوں گے۔ ایسا شاید ہی ممکن ہو کہ کسی ادارے میں سٹاف کے سارے افراد نسوار یا سگریٹ کا استعمال نہیں کرتے ہوں گے سگریٹ نوشی کا تو پھر بھی علم ہوتا ہے اور یہ ظاہر اور محسوس ہونے والا نشہ ہے جبکہ نسوار ایسے مہارت سے خفیہ انداز سے ڈالا جاتا ہے کہ ساتھ بیٹھے ہوئے کو بھی خبر نہیں ہوتی۔ بنا بریں اس کی روک تھام بہت مشکل امر ہے لیکن اس کے باوجود یہ اعلامیہ اس لئے حوصلہ افزاء ہے کہ نسوار کی بنی ہوئی گولیاں ادھر ادھر پھینکنے کا سلسلہ کم ہوگا اور لوگ اعلانیہ کی بجائے خفیہ طور پر اس کے استعمال پر مجبور ہوں گے۔ ہمارے تئیں خیبر پختونخوا میں نسوار کے بطور جزوثقافت استعمال کی اس غلط فہمی کو اب دور کرنے کی ضرورت ہے حالانکہ اعداد و شمار کے مطابق نسوار کا استعمال خیبر پختونخوا سے زیادہ پنجاب میں ہوتا ہے لیکن اسے بطور ثقافت خیبر پختونخوا کے عوام سے جوڑنے کا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ معاشرے کا معزز طبقہ اور طلبہ کے لئے اخلاق و کردار کا نمونہ ہوتے ہیں جن سے توقع کی جانی چاہئے کہ وہ اس پابندی پر عملدرآمد میں اپنا کردار ادا کریں اور اس پابندی کا اطلاق وہ سب سے پہلے اپنے آپ پر کریں گے۔

متعلقہ خبریں