Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت شاہ اہل اللہؒ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے بھائی اور بہت بڑے عالم وبزرگ تھے ۔ انہوں نے ایک مرتبہ غلطی سے ایک جن کو قتل کیا تھا۔ یہ واقعہ حضرت علامہ انورشاہ کشمیریؒ نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ایک بار حضرت شاہؒاپنے حجرے میں بیٹھے تھے کہ ایک سپاہی آیا کہ آپ کو بادشاہ سلامت نے بلایا ہے ۔ حضرت شاہؒ فوراًاٹھے اور اس سپاہی کے ساتھ چل دیئے ۔ وہ سپاہی آپ کو بجائے لال قلعہ لے جانے کے دہلی سے باہر پہاڑ گنج کی طرف لے گیا۔وہاں جا کر ایک غار کے پاس کھڑے ہو کر کہنے لگا کہ اس غار میں داخل ہوجائیں۔ جب شاہؒ اس غار میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ جنات کا بہت بڑا مجمع ہے اور ان کا بادشاہ بیٹھا ہے ۔ اس کے دائیں جانب ایک بہت بڑاجن بیٹھا ہوا ہے ۔ بادشاہ کے سامنے ایک مردہ لٹایا ہوا ہے ۔ ایک مرد اور ایک عورت وہاں کھڑے ہیں ۔ انہوں نے حضرت شاہؒکی طرف اشارہ کرکے کہا کہ اس آدمی نے ہمارے اس بیٹے کو قتل کردیا ہے ۔ ہمیں قصاص چاہیئے ۔ حضرت اہل اللہؒ سمجھ گئے ۔ آپ نے فرمایا تم لوگ مجھ سے قصاص نہیں لے سکتے ، کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس شخص نے اپنی ہئیت بدل دی ، اگر اس کو کوئی شخص غلط فہمی سے مارڈالے تو اس مارنے والے سے قصاص یا خون بہا نہیں لے سکتے ۔ بادشاہ نے اس جن سے جو اس کے دائیں جانب بیٹھا تھا پوچھا کہ کیا یہ حدیث سرورکائناتؐ کی ہے ؟(معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنات سب مسلمان تھے) اس نے کہا ہاں یہ حدیث شریف ہی ہے ۔ جب فخردوعالمؐ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی تو میں اس وقت سرکاردوعالمؐ کے دربار میں حاضرتھا۔ میں نے اپنے کانوں سے اس حدیث کو سنا ہے۔ حضرت شاہ اہل اللہؒ فرماتے ہیں کہ بادشاہ نے پھر مجھ سے یہ حدیث سن کر مجھے رہا کردیا اور مجھ سے قصاص نہیں لیا۔ مجھ کو اپنے رہا ہونے کی اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی خوشی مجھے اس صحابیؒ جن کے دیکھنے سے ہوئی۔ مولاناسید احمد رضا بجنوری(مرتب ملفوظات) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث شریف ہمیں ترمذی شریف کے درس میں حضرت علامہ محدث انورشاہؒ نے سنائی تھی ۔ اس جن کا نام شاہورشؓ تھا۔(بحوالہ ملفوظات محدث کشمیری ص386/385)حضرت شاہ اہل اللہؒ اپنے کسی دینی کام یا عبادت میں مصروف تھے اس وقت ایک سانپ کا بچہ آیا۔ اس کو آپؒ نے ماردیاتھا۔ حضوراقدسؐکے ارشاد کے مطابق جس شخص نے اپنی ہئیت بدل دی اگر اس کو کوئی غلطی سے مار ڈالے تو مارنے والے پر قصاص نہیں(جیسے کوئی اپنی اصل شکل بدل کر سانپ یا کتے کی شکل میں آجائے) یاد رہے کہ بعض جنات سانپوں کی شکل میں رہتے ہیں جیسا کہ حضرت نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا: جنات کی تین قسمیں ہیں ۔ ایک تو وہ جن ، جن کے پر ہوتے ہیں اور وہ ہوا میںاڑتے ہیں ، دوسری قسم وہ ہیں جو سانپ اور کتے کی شکل میں نظر آتے ہیں اور تیسری قسم وہ ہیں جو منزل پر اترتے اور کوچ کر جاتے ہیں۔(بحوالہ مظاہر حق شرح مشکوٰۃ شریف ص69جلد چہارم)

متعلقہ خبریں