Daily Mashriq


جناب وزیر اعظم! تبدیلی کب آئے گی؟

جناب وزیر اعظم! تبدیلی کب آئے گی؟

وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں مشکل حالات میں حکومت سنبھالی تھی اگلے چند ماہ میں تبدیلی نظر آئے گی۔ تبدیلی کے لئے اب تک کیا اقدامات ہوئے ان کے حوالے سے بھی اگر وزیر اعظم عوام کو اعتماد میں لے لیتے تو مناسب ہوتا۔ وزیر اعظم یقینا اس امر سے آگاہ ہی ہوں گے کہ منگل کو ہی سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آ ف پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ حکومت میں اہلیت ہے نہ منصوبہ بندی۔ یہامں ایک اہم سوال بھی وزیر اعظم اور ان کے رفقاء کے سامنے رکھا جانا چاہئے۔ ’’ عالمی منڈی میں تیل کی فی بیرل قیمت میں 31فیصد سے زیادہ کمی کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیوں کیا جا رہا ہے‘‘؟ تبدیلی کب اور کیسے آئے گی حکومت اس کے لئے کیا کر رہی ہے۔ حکمت عملی مرتب کرلی گئی یا غور و فکر جاری ہے۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کاجواب وزیر اعظم کے رفقاء کو دینا چاہئے۔ فی الوقت تو صورتحال یہ ہے کہ 100 دن کا ایجنڈا مکمل ہونے میں چند دن کا فاصلہ ہے۔ ان پہلے 100 دنوں کے د وران تحریک انصاف کی حکومت کو اپنے انتخابی منشور کے مطابق پنجاب کے جنوبی اضلاع پر مشتمل صوبہ بنانا تھا۔ مہنگائی‘ بے روز گاری اور غربت کی شرح میں کمی لانا تھی لیکن عملی طور پر صورتحال مختلف ہے۔ پٹرولیم ‘ بجلی اور گیس کے نرخوں میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ داخلی سیکورٹی کی حالت یہ ہے کہ اسلام آباد جیسے حساس شہر میں معروف عالم دین مولانا سمیع الحق پر اسرار طور پر قتل ہوئے اور اب تک پولیس کی تفتیش چند قدم نہیں چل پائی۔ منگل کو یہ افسوناک اطلاع آئی کہ چند دن قبل اسلام آباد سے اغواء ہونے والے اعلیٰ پولیس افسر طاہر داوڑ کی نعش افغانستانستان سے ملی ہے۔ اغواء اور قتل کی ذمہ داری ایک کالعدم تنظیم نے قبول کی۔

قانون کی حکمرانی اور ریاستی رٹ کے ساتھ جو دیگر وعدے تحریک انصاف کے انتخابی منشور میں شامل تھے ان کے حوالے سے اقتدار کے پہلے 100دنوں کی ترجیحات کیا ہوئیں؟ اس مرحلہ پر اگر اس امر کی نشاندہی کردی جائے کہ نیب کا ادارہ احتساب کے اجتماعی نظام کی بجائے صرف سیاستدانوں کو کرہ ارض کی سب سے بڑی برائی ثابت کرنے میں مصروف ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ اپنی حکومت کے اولین 100دنوں کی کارکردگی کے حوالے سے جناب وزیر اعظم اور ان کے رفقاء کو آنے والے چند دنوں میں جن سوالات کا سامنا کرنا ہوگا ان سے آنکھیں چرانا ممکن ہوگا نہ یہ موقف اپنانا کہ حزب اختلاف کے ساتھ ملی بیوروکریسی موجودہ نظام کو ناکام کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ قابل غور امر یہ ہے کہ ان کے دو خصوصی معاون اور چند وزراء کے خلاف کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات میں نیب میں تحقیقات جاری ہے اصولی اور اخلاقی ان دونوں سے زیادہ جناب وزیر اعظم کی کرپشن کے خلاف جدوجہد میں اپنائے گئے موقف کا تقاضا یہ تھا کہ وزیراعظم اپنے دونوں معاونوں اور وزراء کو ان کے منصوبوں سے الگ کردیتے یا پھر یہ شخصیات بابر اعوان کی طرح اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عہدوں سے الگ ہوجاتیں۔یہ وہ حالات و واقعات ہیں جن پر نہ صرف توجہ دینے کی ضرورت تھی بلکہ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ اصلاح احوال کے لئے موثر اقدامات کرتی۔ یہ بجا ہے کہ مسائل ورثے میں ملے ہوں گے۔ ماضی میں اقتدار میں آنے والی ہر حکومت کا دعویٰ یہی ہوتا تھا کہ بدترین مسائل اور بحران اسے ورثے میں ملے ہیں۔ مگر کیا محض اس کی تکرار پر زندہ رہا اور امور مملکت کو چلایا جاسکتا ہے؟ مہنگائی اور دوسرے مسائل میں اضافے کی وجہ سے رائے عامہ میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں ایک درجن سے زیادہ اداروں کے ریٹائرڈ ملازمین کو آدھا ماہ گزر جانے کے باوجود پنشن نہیں ملی۔ بلدیات ‘ صحت اور لوکل گورنمنٹ کے ہزاروں سابق ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد کے واجبات نہیں مل پائے ہر جگہ ان بزرگ پنشنروں کے لئے ایک ہی جواب ہے ’’ فنڈز نہیں ہیں‘‘ مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ نئی ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں لیکن یہ کیا کہ پہلے سے چلنے والی ٹرینوں کی بوگیاں کم کرکے ایک نئی ٹرین چلا دی۔ وزیر اعظم اور ان کے رفقاء کو سمجھنا ہوگا کہ محض اطلاعاتی محاذ پر سب اچھا کہنے اور پیش کرنے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔

یہ بھی عرض کرنا از بس ضروری ہے کہ سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام ممکن ہے۔ قانون کی بالادستی اور ریاستی رٹ کی باتیں اور دعوے ان میں سچ کتنا ہے اور جاگتی آنکھ کے خوابوں والی صورتحال کتنی یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پہلے سے موجود سیاسی جماعتوں کے مقابل میدان میں اترنے والی تحریک انصاف کا تو دعویٰ ہی یہ تھا کہ یہ جماعت متبادل نظام لائے گی کیونکہ پہلا نظام عوامی امنگوں کا دشمن ہے۔ 100 دن پورے ہونے میں کچھ وقت باقی وہ ماڈل سیاسی و معاشی نظام کہاں ہے۔ کیا حکومت کے بڑوں کے علم میں ہے کہ پچھلے تین ماہ کے دوران بڑھنے والی مہنگائی سے عام آدمی کس بری طرح متاثر ہوا۔ لاہور‘ ملتان اور پنڈی میٹرو کے منصوبوں میں زائد اخراجات کو غیر ضروری قرار دینے والی تحریک انصاف کے وزیر خزانہ قومی اقتصادی کونسل سے پشاور میٹرو کے اخراجات میں 40فیصد اضافے کی منظوری کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان معروضات کا مقصد تنقید کرنا نہیں بلکہ صورتحال کے تناظر میں یہ عرض کرنا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کو اب اپوزیشن کے زمانے والا طرز عمل ترک کردینا چاہئے۔ وفاق اور تین صوبوں میں بر سر ا قتدار جماعت کی قیادت کو اپنے انتخابی منشور کے اس حصے پر عمل کے حوالے سے معاملات لوگوں کے سامنے رکھنا ہوں گے جن پر اس نے اولین 100 دنوں میں عمل کرنا تھا۔

متعلقہ خبریں