Daily Mashriq


چیف جسٹس آف پاکستان کی توجہ کیلئے

چیف جسٹس آف پاکستان کی توجہ کیلئے

گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل، بات کرنے سے پہلے سو بار سوچا ہے یہی وجہ ہے کہ اس موضوع پر ایک عرصے سے لکھنے یا نہ لکھنے کے درمیان قلم اٹکا ہوا ہے ، کیونکہ جو مسئلہ میں سامنے لانا چاہتا ہوں اس کا چونکہ میری ذات سے بھی تعلق ہے اس لئے وہ جو بزرگوں نے کہا ہے کہ پہلے ، تو لو، پھر بولو، اگرچہ یہ اس محاورے کے ساتھ زیادہ تعلق بھی نہیں رکھتا بلکہ اس کی سرحدوں کو چھوکر گزرجاتا ہے ۔ اور وہ یوں کہ محاورہ تو کسی نامناسب بات کے ضمن میں وجو د میں آیا تھا یعنی ایسی کوئی بات منہ سے نکالنے سے پہلے ایک نہیں بار بار سوچنے کی ضرورت ہے جس سے کسی کی دل آزاری کا امکان ہو یا خود وہ بات بولنے والے کیلئے شرمندگی کا باعث بن سکے جبکہ یہاں تو ایک اہم مسئلہ درپیش ہے اور وہ بھی ہزاروں افراد کو جو پورے پاکستان میں موجود ہیں اور جن میں سے ایک خود میں بھی ہوں تاہم خوف دامنگیر ہوجاتا ہے یہ مسئلہ آج کانہیں بلکہ جب میں اور مجھ جیسے دیگر ہزاروں ابھی ملازمت سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ریڈیو پاکستان کے ناخدائوں نے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ ایک کھیل رچانا شروع کردیا اور وہ یوں کہ جب ریڈیو پاکستان کو بھٹو کے دور میں کارپوریشن بنا دیا گیا تو اس کے ملازمین کیلئے اپنے پے سکیلز بنائے گئے جن کی منظوری ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز دیتی تھی، اور ملازمین کی یونین اس حوالے سے ہر سال نئے پے سکیلز مذاکرات کر کے اسے حتمی صورت دیتی ، بعد میں جب ضیاء الحق کے مارشل لاء کا نفاذ ہوا تو پی ٹی وی کے اندر ایک مخالفانہ تحریک کی وجہ سے نہ صرف پی ٹی وی ملازمین (جنہوںنے احتجاج کیا تھا) بلکہ ریڈیو ملازمین (جو بے چارے بغیر کسی گناہ کے سزا کے مستوجب گردانے گئے) کی تنخواہوں میں اضافہ چند برس تک معطل رکھا گیا تاہم بڑی مشکل سے یہ سلسلہ شروع ہوا تو یوں کہ دونوں کارپوریشنوں کے ملازمین کی تنخواہوں کے سکیل کو سرکاری سکیل کے مطابق کر کے ہر سال یا جب بھی سرکاری ملازمین کیلئے نئے سکیل آتے تو ان دونوں کارپوریشنوں کے ملازمین بھی حقدار قرارپائے تاہم ریڈیو ملازمین کی تنخواہوں کے نئے سکیل اور پنشن کی منظوری کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اشارہ ابرو کے ساتھ منسلک کر دیا گیا یعنی بورڈ آف ڈائریکٹرز کا کئی کئی مہینوں تک اجلاس منعقد نہ ہوتا تو حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین نئے سکیلوں اور پنشن میں اضافے سے محروم رہتے ، اور جب کہیں اجلاس منعقد ہو جاتا اور اس میں منظوری دی جاتی تو اس کے بعد اضافی تنخواہیں اور پنشن کی ادائیگی کبھی یکمشت اور کبھی قسطوں میں کی جاتی ۔ اس سلسلے میں یوں بھی ہوا کہ چند برس پہلے پورے سال تک پنشن کی رقم کی ادائیگی روکی گئی تھی اور اگلے سال جا کر کہیں ملازمین کی یہ مشکل حل ہوئی جب اس سال بھی پنشن میں سرکاری ملازمین کیلئے اضافہ کیا گیا ۔ جہاں تک حاضر سروس ملازمین کا تعلق ہے ان کے حوالے سے تو بورڈ آف ڈائریکٹرز کو اگر یہ اختیار دیا جاتا ہے تو چلیں اس کا کچھ نہ کچھ جواز تو بنتا ہے کہ آخر یہ بے چارے جو ڈائریکٹرز کہلاتے ہیں اپنی اہمیت اسی طرح ہی ظاہرکر سکتے ہیں کہ وہ حاضر سروس ملازمین کو اپنے ہونے کا احساس دلائیں یعنی 

ہم بھی ہونے کا پتہ دیتے ہیں

اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں

مگر ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کو تو آئینی تحفظ حاصل ہے اور وہ حاضر سروس ملازمین کی طرح اس میں کوئی مزید اضافہ تو طلب نہیں کرتے بلکہ حکومت بجٹ کے موقع پر تمام پنشنرز کیلئے اضافہ کرتی ہے(جو گزشتہ کئی برس سے دس فیصد ہی کیا جارہا ہے) وہی ریڈیو کے پنشنرز کو بھی دیا جاتا ہے اور ملنا چاہیئے ، مگر ان ہزاروں پنشنرز کو ہر سال پنشن کی ادائیگی کے احکامات صادر کرنے کیلئے ریڈیوپاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کا انتظار کرنا پڑتا ہے جو چاہے بجٹ پیش کئے جانے کے اگلے ماہ ہی بلوایا جائے یا کئی مہینوں تک انہیں انتظار کی سولی پر لٹکاکر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے عفریت کے ساتھ لڑنے پر مجبور کیا جاتا رہے ۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ تمام سرکاری ملازمین اگست کے مہینے کی تنخواہوں کے ساتھ ہی سرکاری پنشنرز کو بھی اضافی پنشن کی ادائیگی جاری ہے مگر ریڈپاکستان کے پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہزاروں پنشنرز کو پانچ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود اضافی پنشن کی دس فیصد رقم نہیں ملی ، جبکہ اس دوران میں زندگی کی لوازمات کی قیمتیں جتنی بڑھ چکی ہیں وہ ہر کوئی بخوبی جانتا ہے ،اس کے علاوہ کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہوں کے چیک بھی گزشتہ تین چار ماہ سے کلیئر نہیں ہوئے۔ اس دوران ایک ساتھی پنشنر نے میسنجر کے ذریعے پیغام تمام پنشنرز کو ارسال کیا جس میں اطلاع دی گئی کہ حکومت نے اکتوبر میں ریڈیو پاکستان کو 998کروڑ روپے اے جی پی آر کے ذریعے جاری کئے مگر ان میں سے پنشنرز کو ادائیگی کیلئے کوئی بندوبست نہیں کیا جارہا بلکہ دیگر مدات میں خرچ کرنے پر افسران بالا تلے ہوئے ہیں۔ ریڈیو کے ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ یہ ایک ایسی زیادتی ہے جس کا نوٹس لینے کیلئے چیف جسٹس سے گزارش کرنا ناگزیر ہوگیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف پنشنرز کو ان کے جولائی سے بقایا جات کی فوری ادائیگی کا حکم جاری فرمائیں بلکہ آئندہ ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن کی ادائیگی کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی اجازت سے مشروط کرنے کی پالیسی کو بھی ساقط کردیں کیونکہ حاضر سروس ملازمین کا تعلق تو بورڈ آف ڈائریکٹرز سے بنتا ہے جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

متعلقہ خبریں