Daily Mashriq


بیوروکریسی میں ہم خیال تلاش کریں

بیوروکریسی میں ہم خیال تلاش کریں

جب کوئی کہتا ہے کہ قوم جانتی ہے پی ٹی آئی کی حکومت ملک کومزید بحرانوں میں دھکیل رہی ہے اور دوسروں پر انگلیاں اٹھا کر عمران خان اور ان کے درباری اپنی نااہلی ثابت کر رہے ہیں ، تو جانے کیوں ذہن میں قہقہے کی آواز گونجتی ہے ۔وہ جو پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والے ہیں اور وہ جو مخالفین ہیں ، سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس ملک کے بحران کس کے مرہون منت ہیں ۔ ثبوت ملیں یا نہ ملیں، مضروب ہمیشہ ضرب لگانے والے کو پہچانتاہے ، لاش اپنے قاتل کو جانتی ہے ، جس کے گھر ڈکیتی ہو جائے ، وہ ڈاکوئوں کا حلیہ تو بتا ہی سکتا ہے ۔ اس ملک کے لوگوں کا بھی یہی حال ہے ان کی حالت کے جو ذمہ دار ہیں یہ ان سب کو فرداً فرداً جانتے ہیں ۔ کبھی بولتے ہیں اور کبھی اس ڈر سے خاموش ہو جاتے ہیں کہ ابھی تک انہیں اپنے حالات بدل جانے کا یقین ہی نہیں آیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اچانک ہی معاملہ بدل جائے گا۔ یہ حکومت ویسی ہی ہو جائے گی جیسی ان سے پچھلی حکومتیں رہی ہیں ۔ ان کی گردنوں میں وہی سریا انہیں دکھائی دیتا ہے ۔ بیوروکریسی کے حوالے سے عنادبار بار ان کے منہ سے کہلواتا ہے کہ بیوروکریسی کرپٹ ہے اور کون نہیں جانتا کہ بیوروکریسی میں بے شمار کرپشن موجود ہے ، لیکن بیوروکریسی ہی کیا ، پورے پاکستان میں اوپر سے نیچے تک کرپشن موجود ہے اس ملک میں ایسے حکمران رہے ہیں جو مسلسل اس ملک کو لوٹتے رہے ہیں ۔ ان کی ہوس اور لالچ نے اس ملک میں موجود ایک ایک شخص کو یہ اجازت دی کہ وہ جب چاہیں جیسے چاہیں اس ملک کو لوٹ سکتے ہیں ۔ اورنج ٹرین میں کمیشن کھانے والے بھلا احد چیمہ کو کیسے روک سکتے تھے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آج بھی اس ملک کے نظام میں ہر ایک سطح پر ان کی باقیات موجود ہیں۔ جو نہ صرف ان لوگوں کو لمحہ لمحہ کی خبر پہنچاتے ہیں ، آج بھی ان کی بچت کا سامان کررہے ہیں اور اس خیال میں ہیں کہ شاید وہ لوٹ آئینگے ۔ میں دیکھ سکتی ہوں اور اس ملک کا ہر غیر متعصب شخص دیکھ سکتا ہے کہ ان دومہینوں میں ہی ایک بہت بڑی تبدیلی در آئی ہے ۔ یہ تبدیلی کمال ہے ۔ ایک عرصہ سے اس ملک کے لوگوں نے کبھی بد عنوانی کو دل سے برا نہیں جانا تھا ۔ جو لوگ خود بدعنوان نہ تھے وہ بھی نظام کے ہاتھوں بے بس ہو کر خاموش ہو چکے تھے۔ ان لوگوں میں بات کرنے کی ہمت نے جنم لینا شروع کیا ہے ۔ یہ لوگ اب آہستہ آہستہ دوبارہ یہ کہنے کی جرأت کرنے لگے ہیں کہ بد عنوانی کا سدباب ہونا چاہیئے ۔ اگرچہ ابھی تک اس حکومت کے لائحہ عمل میں یہ لوگ کہیں دکھائی نہیں دیتے ۔ حالانکہ یہ بالکل سامنے ہیں ۔ بیورو کریسی کے تعاون نہ کرنے کا گلہ کرنے کے بجائے اگریہ حکومت آغاز ہی بیوروکریسی میں اپنی ٹیم بنانے سے کرے تو بہت سے کاموں میں آسانی ہوجائے ۔ یہ شروعات ان لوگوں کو تلاش کرنے سے ہوسکتی ہے جنہیں پچھلی حکومتوں میں کونے میں لگایا گیا ۔ انہیں کھڈے لائن پوسٹیں دی گئیں ۔ انہیں خاموش کروانے کے جتن کئے گئے ۔ ان لوگوں کو تلاش کر کے ، انکی صلاحیتوں کا اندازہ کیا جانا چاہیئے اور انہیں ان جگہوں پر تعینات کیا جانا چاہیئے جہاںان کی واقعی ضرورت ہے ۔ بیوروکریسی سے گلہ بھی ختم ہو جائے گا اور اس حکومت کو جہاں جہاں اپنے پائوں بیوروکریسی کے بھنور میں پھنسے محسوس ہو رہے ہیں اس کا بھی سدباب ہوجائے گا۔وزیراعظم عمران خان کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنے وزراء کو اس بات کی ہدایت کریں کہ وہ اپنے لئے ٹیم کا انتخاب کریں ۔ بیوروکریسی میں ایسے لوگوں کی تلاش بالکل مشکل نہیں جن کے دامن صاف ہیں ، جو ملک کے وفادارہیں اور اس ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ۔ وزیراعظم کی ٹیم کے کئی وزراء ایسے ہیں جو ابھی حکومت مل جانے کے طنطنے میں مبتلا ہیں ۔ وہ بیچارے اتنا عرصہ اپوزیشن میں رہے ہیں کہ انہیں اپنے حکومت ہو جانے کا احساس ہی نہیں ۔ محض بد عنوانی کا پرچاراور شور شرابا مسائل کا حل نہیں ہوتا۔ اسکے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو اپنی فطرت سیلم کے اظہار کے مواقع بھی فراہم کئے جائیں۔ لوگوں کویہ اعتماد بھی دیا جائے کہ اگر وہ اس ملک کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں تو ان کا استقبال کھلی بانہوں سے کیا جائیگا۔ یہ حکومت بقول زرداری انڈر19کی ٹیم ہے۔ضروری نہیںکہ وہ اپنے رویوں سے بھی اپنی عمر کی ناپختگی پر اثبات کی مہر ثبت کریں۔ وہ مناسب رویوں کا مظہر بن سکتے ہیں ۔ اپنے ارد گرد کے لوگوں سے سیکھ سکتے ہیں ۔ ہر اچھے اور برے رویئے ، واقعے اور معاملے سے سیکھا جا سکتا ہے ۔ اور پھر اپنے علم کی روشنی میں راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔عمران خان کے ساتھ بے شمار پڑھے لکھے لوگ موجود ہیں لیکن بیوروکریسی میں بھی کم پڑھے لوگ نہیں ہوتے ۔ اور پھر یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ بیوروکریسی کا سب سے بڑا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو نظام کا حصہ ہیں ۔ وہ کوئی بصیرت نہیں رکھتے ، انکی آنکھوں نے کبھی خواب نہیں دیکھے ۔ گونگی بصارتوں اور اندھی سماعتوں والے ان لوگوں کو جوسمت فراہم کی جائے گی یہ اس پر چل نکلیں گے ۔ ان کے ساتھ مثبت رویہ اختیار کیجئے، انہیں سمت دیجئے ، یہ مقلدین کا ایک انبوہ کثیر بن کر آپ کے پیچھے چلیں گے ۔ حکومت وقت کی نیت میں کوئی شبہ نہیں لیکن اسے اب لائحہ عمل بھی طے کرنا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں