Daily Mashriq


امید اور مایوسی کے بیچ زندگی

امید اور مایوسی کے بیچ زندگی

زندگی بہت حسین ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسان بنا کر بھیجا اور عقل وصحت جیسی نعمتیں عطا کیں، اور دنیوی اُخروی رشد وہدایت کے لئے خاتم النبیینؐ کی مقدس تعلیمات پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی، تویہ ایک بہترین زندگی گزارنے کی بہترین اُمید فراہم کرنے کا بہت بڑا سامان ہے ، لیکن اس زندگی میں بعض اوقات مختلف وجوہات کی بناء پر انسان کبھی نعمتوں سے سرفراز ہو کر اور کبھی محرومی کا شکار ہو کر آزمائش میں مبتلا ہوجاتا ہے ، امید ورجا کادامن تھامنے والے( جو اصل میں اسلام کا دامن) ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے اچھائی اور خیروفلاح کی امید رکھتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان کسی حال میں بھی مایوس نہیں ہوتا۔برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں کے ہزار سالہ عہد اقتدار کے رنگون میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی بہت کسمپرسی کی حالت میں وفات پاجانے اور پورے ہندوستان پر انگریز راج کے قیام اور کروڑوں مسلمانوں کا غلام بن جانا یقیناً بہت بڑا سانحہ تھا لیکن اس ڈیڑھ صدی کی بد ترین غلامی کی زندگی میں بھی مسلمان اکابرین اور زعمائوں اور رہنمائوں نے مدارس ، مساجداور گھر وں میں اللہ ورسولؐ کی تعلیمات کی اشاعت اور اُن پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری رکھ کر اُمید کی شمع کو مسلمانوں کے دلوں میں فروزاں رکھا۔کس کو معلوم تھا کہ انگریز کے عہد غلامی کے عین معراج کے زمانے میں علامہ محمد اقبال اور محمد علی جناح جیسے لوگ پیدا ہونگے ۔ دوسری طرف علماء ہند نے مدرسہ دیوبند، ندوۃ العلماء، مدرسہ الاصلاح علی گڑھ اور جامعہ علیہ اسلامیہ سے جن شخصیات کی تعلیم وتربیت کی اور ان سے جو مردان حرنکلے، اُنہوں نے کس کس انداز میں انگریز سامراج کو چیلنج کیا ، کیا یہ کسی کے وہم وگمان میں تھا۔ صحافتی میدان میں مولانا حسرتؒ موہانی ، مولانا محمد علیؒ جوہر، مولاناابوالکلام آزاداور مولانا ظفر علی خان نے جو کردار ادا کیا اور اپنی صحافت کے ذریعے مسلمانان ہند ہی نہیں بلکہ سارے ہندوستانیوں کے دل میں آزادی کا جو ولولہ پیدا کیا ، یہ سب یقیناًاُمید کے دامن کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھنے کے سبب ہوا۔ ان سارے علماء وزعماء نے ہندوستان کی آزادی کے لئے نا قابل فراموش کردار ادا کیا بہرحال ان سارے اکابرین(مذہبی سیاسی علماء وزعما) نے مل کر تحریک خلافت سے تحریک پاکستان تک جدوجہد کی اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی صورت جو عظیم ملک ، ہرقسم کی نعمتوں سے پرمعمور ہمیں نصیب ہوا ، اس کے لئے ہمارے یہ سارے بزرگ اُن نسلوں کی دعائوں اور شکریے کے مستحق ہیں جن کو آزادوخو مختار پاکستان میں جنم لینے اور آگے بڑھنے کے مواقع ملے ، آج وطن عزیز کو آزاد ہوئے ستر برس گزر چکے ہیں ۔۔۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت ہمارے موجودہ بزرگوں(مذہبی، سیاسی اور عسکری رہنمائوں) کے ہاتھوں اکثریتی عوام میں اُمید کی جگہ مایوسی زیادہ ہے ۔ گزشتہ دوعشروں سے جو صورت حال ہے اس نے توعوام کا جینا دو بھر کرنے کے علاوہ مایوسی کی حد تک معاشی اور اقتصادی کمزوری کے سبب ملک کی خودمختاری اور سلامتی کو خطرات لاحق کئے ہیں۔ مایوسی کی اس حالت سے نکلنے کے لئے عوام نے عمران خان کو ساری روایتی ، صوبائی و علاقائی مذہبی وقومی سیاسی پارٹیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ترجیح دی۔۔۔لیکن ۔۔عمران خان کی حکومت کو قائم ہوئے تین ماہ ہونے کو ہیں ، عوام مہنگائی کے ہاتھوں(بھلے یہ پچھلی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں اور کرپشن اور منی لانڈرنگ کے سبب ہو) بلبلااُٹھے ہیں ۔سعودی عرب ، چین ، امارات اور اب ملائیشیا وغیرہ سے معاشی مدد کی آمداور وعدوں کے باوجود ابھی تک غریب عوام کو کوئی نظر آنے والا ریلیف مل نہیں رہا ۔ اس پر مستزاد اپوزیشن عمران خان کے ساتھ سیاسی بُغض وکینہ اور حریفانہ کشمکش کے سبب یہ سوچے بغیر مایوسیاں پھیلانے کی دن رات مہم چلائے ہوئے ہے کہ اس کے عوام پر تباہ کن اثرات مرتب ہونگے ۔۔۔ میں حیران ہوتا ہوں جب اپوزیشن تعمیری و مثبت اور تعاون پر مبنی تنقید و اصلاح کے بجائے صرف عمران خان کی حکومت کو گرانے کے لئے ہر حد تک جانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زورلگائے ہوئے ہے اور ہر دوسری سانس میں یہ رٹ لگائے ہوئے نظر آرہی ہے کہ یہ’’حکومت چلنے والی نہیں‘‘ اس حکومت کو مہلت دینا عوام اور ملک کے ساتھ زیادتی ہے ،وغیرہ ۔۔۔۔اور اب جب کہ سپریم کورٹ نے بھی’’موجودہ حکومت کے پاس نہ اہلیت ہے نہ منصوبہ بندی‘‘کا فیصلہ سنادیا ، تو اپوزیشن تو خوشی سے پھولے سمائے گی ہی نہیں ، بے چارے عوام بھی مایوسی کی گہری کھائیوں اور غاروں میں گریں گے۔۔۔اورجب کوئی قوم مایوسی کے نرغے میں آتی ہے، تو ایسے میں دشمنان دین و وطن ففتھ جنریشن اور سوشل میڈیا وار کے ذریعے مایوسی کے گھپ اندھیرے پھیلانے میں دیر نہیں لگاتے ۔ سیاسی اختلاف، تعمیری تنقید ، جلسہ جلوس اور مظاہرے اپوزیشن اور عوام کا بنیادی حق ہے، لیکن کبھی یہ ملک وقوم کو ذرا بھی نقصان پہنچانے کی قیمت پر نہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ عمران خان کی جیب میں کھوٹے سکے ہیں ۔لیکن یہی حال قائد اعظم کا بھی تو تھا، لہٰذا ہمیں عمران خان سے اُس وقت تک اُمید رکھنی چاہیئے جب تک وہ خود تعمیری تبدیلی کو بھاری پتھر سمجھ کر پیچھے نہ ہٹیں۔ ورنہ ذرا یہ تو کوئی سمجھائے کہ عمران خان خدانخواستہ ملک کو اس دلدل سے نکالنے میں کامیاب نہ ہوا تو متبادل پھر وہی آزمائے ہوئے ہونگے؟۔۔۔

متعلقہ خبریں