Daily Mashriq


’’گریٹ گیم‘‘ میںکریملن کی واپسی؟

’’گریٹ گیم‘‘ میںکریملن کی واپسی؟

سوویت یونین نے افغانستان کی جنگ میں دس سال میں ہی نوشتۂ دیوار پڑھ کر واپسی کی راہ لی تھی۔ سوویت یونین نے یہ سبق پڑھا تو اپنے وجود، عالمی دبدبے، طنطنے اور انا کی پروا کئے بغیر افغانستان سے واپسی کا سامانِ سفر کر لیا حالانکہ اس وقت دنیا میں دو ہی طاقتوں امریکہ اور سوویت یونین کا ڈنکا بجتا تھا۔ جو سبق سوویت یونین نے دس برس میں پڑھ لیا اسے امریکہ نے پڑھنے میں سترہ برس ضائع کر دئیے۔ اس کی طاقت کی ڈھلتی ہوئی چھاؤںکے دس برس تھے جب اس کے سیاسی اعصاب چٹخ رہے تھے وہ ایک موہوم اُمید پر افغانستان کا بوجھ اپنے کمزور پڑتے پروں پر سہارے ہوئے تھا۔ اس کے برعکس امریکہ دنیا کی واحد سپر طاقت تھا۔ یہ سترہ برس جو اس نے افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں کو سر کرنے میں گنوا دئیے یونی پولر طاقت کے خوبصورت لمحات انجوائے کرنے کا زمانہ تھا۔ یہاں تک کہ اب افغانستان میں امن کے نام پر کئی پرانے اور نئے کھلاڑی پیدا ہو چکے ہیں۔ روس ان میں نمایاں اور اہم ترین ہے۔ ابتدا میں روس بھی القاعدہ کے خطرے کے نام پر افغانستان میں امریکہ کی مدد کرتا رہا مگر جب روسی قیادت کو اندازہ ہوا کہ معاملہ القاعدہ سے آگے کا ہے اور امریکہ افغانستان میں قیام کو طول دے کر خطے میں کچھ سرگرمیاں جاری رکھنا چاہتا ہے تو روس پیچھے ہٹتا چلا گیا یہاں تک کہ 2011 میں پہلی بار روس نے طالبان کیساتھ روابط کا اعتراف کرتے ہوئے امریکہ پر مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا۔ اس وقت دنیا میں عمومی تاثر یہی تھا کہ دنیا میں طالبان کا واحد مونس اور غم خوار ملک پاکستان ہے بلکہ بڑی حد تک یہ مغالطہ بھی تھا کہ طالبان کا کوئی داخلی تشخص، ایجنڈا اور اپنی سوچ نہیں بلکہ وہ پاکستان کی پراکسی اور اس کے مفادات کے نگہبان اور محافظ ہیں۔ پاکستان بار بار منظم انداز میں اس کی تردید کرتا مگر جو تاثر بنا دیا گیا اس میں کوئی بھی طالبان کو جانچنے اور ان کے اندر جھانکنے پر آمادہ نہ تھا۔ روسی سفارتکاروں نے طالبان کیساتھ سیاسی مفاہمت کی بات کر کے اس تاثر کو بڑی حد تک زائل کیا کہ طالبان محض پاکستان کی کٹھ پتلی فورس ہیں جو آزاد رہنے والے اس ملک کو اپنا پانچواں صوبہ بنانے کے درپے ہے۔ روس کے بعد ایران اور طالبان کے درمیان روابط کی باتیں سامنے آنے لگیں اور یوں افغان مسئلے کی ایک نئی جہت اور پرت سامنے آتی چلی گئی۔ اس سے پہلے دنیا افغان مسئلے کو صرف امریکہ کی بیان کردہ کہانیوں اور افسانوں کے تناظر میں جانچتی اور ماپتی تولتی تھی۔ افغان مسئلے میں روس کی اعلانیہ دلچسپی کے بعد طالبان اور روس کی ایماء پر درپردہ مذاکرات کا طویل عمل جاری رہا جس کا اگلا مرحلہ باقاعدہ مذاکرات کی شکل میں ماسکو کانفرنس کی شکل میں برآمد ہوا۔ ماسکو میں روس کی میزبانی میں افغان طالبان اور کابل حکومت کے نامزد وفد اور بھارت اور پاکستان کا ایک میز پر بیٹھنا بظاہر تو ایک معمول کا واقعہ ہے۔ اسے امن کے طویل سفر کی جانب درست سمت میں پہلا قدم کہا جا سکتا ہے۔ امریکہ، بھارت اور کابل حکومت ہمیشہ لکیر کی ایک سمت اور باقی سب دوسری سمت کھڑے رہے ہیں۔ سترہ سالہ مؤقف کے باعث شاید طالبان کیساتھ ایک میز پر اس مرحلے پر بیٹھنے میں انہیں ہچکچاہٹ تھی اور اس لئے پہلی ملاقات میں تینوں نے طالبان سے حجابوں میں ملنا پسند کیا۔ امریکہ، بھارت اور کابل حکومت تینوں نے غیرسرکاری قسم کے وفود بھیج کر ایک طرف مذاکرات میں شرکت بھی کی اور اس شرکت کو سرکاری رنگ دینے سے گریز بھی کیا۔ امریکہ کے اخبار دی واشنگٹن پوسٹ نے ماسکو میں ہونے والی اس سرگرمی کو ’’کریملن کی واپسی‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ امریکی اخبار نے ماسکو کانفرنس کا افغان امن سے زیادہ روس کی افغانستان کی گریٹ گیم میں واپسی سے تعبیر کیا۔ گویاکہ جو سرخ فوج تیس برس قبل نہایت ذلت آمیز شکست کھا کر واپس چلی گئی تھی اب یہ روس کی صورت میں اس مسئلے میں دخیل ہو کر واپسی کا نیا انداز ہے۔ اس مضمون کے اہم نکات افغان تنازعے کی بجائے روس کے گرد گھومتے ہیں۔ روس کی ایک اور دلچسپی وسط ایشیائی ریاستوں کو داعش کے خطرے سے بچانا ہے جس کی اگلی منزل ماسکو بھی ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں داعش ان علاقوں میں اپنے پیر جمانے کی کوشش کر رہی ہے جو وسط ایشیائی ریاستوں، ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان سے ملحق ہیں۔ مغربی اخبارات میں مضامین سے زیادہ دلچسپ اور معلوماتی وہ تبصرے ہوتے ہیں جو اس مضمون اور مسئلے سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کرتے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے ان تبصروں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک عام امریکی یہ حقیقت جان چکا ہے کہ امریکہ افغانستان میں ایک غیرضروری جنگ میں اُلجھا رہا ہے اور اب وہ اس جنگ میں شکست کھا چکا ہے اور اسے مزید وقت ضائع کئے بغیر اس جنگ سے دامن چھڑا لینا چاہئے۔ انہی میں ایک تبصرے میں اعتراض کیا گیا ہے کہ مضمون نگار نے افغانستان میں روس کے انخلاء کو ذلت آمیز کیوں لکھا ہے حالانکہ واپس لوٹتے ہوئے فوجیوں کی تصویریں اور وڈیوز بتا رہی ہیں کہ وہ ہاتھ ہلاتے ہوئے فاتحانہ انداز میں افغانستان چھوڑ رہے ہیں۔ جس پر ایک اور تبصرہ نگار نے پھبتی کسی ہے ہاں وہ خوش تھے کہ ایک جہنم سے زندہ واپس جا رہے ہیں۔ ایک مبصر کا کہنا تھا کہ افغانستان دنیا کے تین ناقابل فتح ملکوں میں سے ایک رہا ہے۔ افغانیوں کو کرائے پر تو لیا جا سکتا ہے مگر خریدا نہیں جا سکتا سوویت یونین کی طرح امریکہ نے بھی اس حقیقت کو نظرانداز کیا اور یوں دونوں کا انجام ایک ہوا۔

متعلقہ خبریں