Daily Mashriq


صاف ستھرا سرسبز پاکستان

صاف ستھرا سرسبز پاکستان

وزیر اعظم عمران خان نے صاف ستھرا اور سرسبز پاکستان کی مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ سال میں پاکستان یورپ کی نسبت زیادہ صاف ستھرا ملک ہو جائے گا۔ خدا کرے ان کی امید برآئے۔ اگرچہ اس کی ترقیاتی منصوبہ نہ ہونے کے باوجودتعمیراتی کام اس میں شامل ہوں گے تاہم یہ معاشری تبدیلی کی مہم ہے اسے حکومتی ذمہ داری یا سیاسی پروگرام سے آگے بڑھ کر ساری قوم کی حمایت حاصل ہونی چاہیے اور اس کے لیے آگہی کی مہم ساتھ ساتھ چلنی چاہیے تاکہ اسے ساری قوم کی حمایت حاصل ہو۔ لیکن ساری قوم کی حمایت اسی صورت میں حاصل ہو سکتی ہے جب ہم اپنی سماجی ذمہ داریاں نبھانے پر من حیث القوم آمادہ ہوں۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس مہم کا آغاز کرتے ہوئے ایک پودا بھی لگایا ‘ جھاڑو لگائی اور کچرا بھی اٹھایا۔ اس طرح پاکستان کے ذمہ دار اور دردمند شہری ہونے کی ایک مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی آئندہ نسلوں کے لیے آلودگی سے پاک پاکستان چھوڑ کر جانا چاہیے۔ انہوں نے اس مہم کا آغاز ایک کالج سے کیا کہ نوجوان معاشری رویہ میں تبدیلی لانے کے لیے ہر اول دستے کا کام کرتے رہے ہیں اور کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ مہم انفرادی کوششوں کے ساتھ ساتھ اجتماعی اور حکومتی فرائض کا بھی تقاضا کرتی ہے اور اس کے لیے اعلیٰ سطح پر منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے۔ جھاڑو لگا کر کوڑا کرکٹ کسی مقام سے ہٹایا جا سکتا ہے لیکن ہوا اور ٹریفک کے بہاؤ کے ساتھ اس کے واپس آنے کے امکانات باقی رہ جاتے ہیں۔ کچرا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے لیکن کب تک اس دوسری جگہ پر جمع کیا جاتا رہے گا یہ ایک اہم سوال ہے۔ پودا لگایا جا سکتا ہے لیکن اصل ذمہ داری اس کی پرورش اور حفاظت کی ہے جو اگر نہ ہو تو پودا ضائع ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد میں ایک زمانے تک ہر آنے والے معزز مہمان سے ایک پودا لگوایا جاتا تھا ‘ آج وہ پودے کہاں ہیں ‘ ان میں سے کتنے باقی ہیں یہ کسی کو معلوم نہیں۔ شجرکاری کے ہر موسم میں مشاہیر پودے لگاتے ہیں اور ان کی تقلید میں بہت سے پودے لگائے جاتے ہیں ان کی حفاظت اور پرورش کون کرتا ہے؟ لاکھوں پودے ہر شجرکاری کے موسم میں مفت تقسیم کیے جاتے رہے ہیں لیکن ان میں کتنے درخت بن سکے یہ معلومات دستیاب نہیں۔ ایسی تقریبات میں مشاہیر جو پودے لگاتے ہیں ‘ ان میں سے کچھ غیر ملکی اور کچھ آرائشی یا محض سایہ دار پودے ہوتے ہیں۔ پودے ایسے لگائے جانے چاہئیں جن کا اس خطہ زمین سے تعلق ہو جہاں وہ لگائے جاتے ہیں اور جن کی افادیت محض ان کا سایہ یا ماحولیاتی کردار کی انجام دہی کی بجائے پودا لگانے والے کو بھی اس سے کچھ فائدہ پہنچنا چاہیے۔ آرائشی پودوں کی بجائے مقامی اور پھلدار پودوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اور چونکہ آبی بحران سر پر ہے اس لیے ایسے پودے لگائے جانے چاہئیں جو کم پانی میں بھی زندہ رہ سکیں۔ ایسے پودوں کو تلف کر دیاجانا چاہیے جو ارد گرد کا پانی بھی چوس لیتے ہیں ۔ شہتوت ‘ جامن‘ شیشم وغیرہ ایسے درخت ہیں جن سے پرندوں اور انسانوںکو خوراک ملتی ہے اور نقد آور لکڑی حاصل ہوتی ہے۔ ایک مقامی پودا سوہا نجنا کا ہے جو ہزاروں سال سے اس سرزمین پر پیدا ہوتا ہے اور آج کی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ غذائی اور طبی فوائد سے بھرپور پودا ہے ۔ اسی طرح ترشاوہ پھلوں کے علاوہ خوبانی‘ آڑو ‘ انجیر اور آم کے درخت ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ انسانوں کے لیے پھل بھی پیدا کرتے ہیں۔ زرعی یونیورسٹیوں میں بے شمار تحقیقی مقالات پڑے ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر مختلف علاقوں کے لیے پودوں کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں مالی یا چوکیدار ہوتے ہیں بیس تیس پودوں کی حفاظت کی ذمہ داری ان کے ذمے لگائی جا سکتی ہے۔ گھروں میں پودے لگائے جا سکتے ہیں تاکہ ان کی حفاظت ہو اور حکومت کی سطح پر جنگلات قائم کیے جا سکتے ہیں۔ پنجاب میں چھانگا مانگا کا انسان کا لگایا ہوا جنگل سرکاری عدم توجہی کی وجہ سے اجڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وسیع جنگلات میں غیر قانونی کٹائی کے انسداد کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں ہے۔ درخت انسانوں کے قدیم ترین دوست ہیں ان کی حفاظت اور پرورش کے لیے ان سے محبت کے جذبہ کو فروغ دینا معاشری ذمہ دای ہونی چاہیے۔ آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ طرز زندگی میں لفافوں اور پیکنگ کی بھرمار ہو جانے کی وجہ سے جس میں پولی تھین بیگ اور پلاسٹک کی مصنوعات زندگی کے لیے انتہائی مضر ہیں‘ کچرے اور گندگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ شہروں کی طرف آبادی کے بہاؤ کے باعث کچرا ہر شہر کا اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ کراچی کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں کے کچرے کے ڈھیروں کی ٹی وی کوریج بالعموم نظر آتی رہتی ہے۔ دیگر شہروں کا حال بھی کچھ اچھا نہیں ہے۔ صاف ستھرے اور سرسبز پاکستان کے لیے سب سے پہلے سرکاری سطح پر پولی تھین کے بیگز بنانے والے کارخانوں کو بند کر دیا جانا چاہیے ان سے آلودگی بڑھتی ہے۔ نکاسی کے راستے بند ہو جاتے ہیں ‘ آبی حیات تلف ہو رہی ہے۔ ان کا استعمال انسانی صحت کے لیے بھی مضر ہے۔ ان کارخانوںکو معاوضہ دے کر کسی دوسرے کاروبار کی طرف آمادہ کیا جانا چاہیے۔ دیگر کارخانے بھی اپنا کیمیکل فضلہ سارے کا سارا نہروں دریاؤں میں ڈال دیتے ہیں ۔ ان کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ اسے ری سائیکل کریں اور کچرے کو ٹھکانے لگانے کے کسی اجتماعی بندوبست کا رخ کریں۔ شہروں کے کچرے کو ری سائیکل کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے اور اس کے پلانٹ لگانا شہری انتظامیہ کے فرائض میں شامل ہونا چاہیے۔ انفرادی سطح پر اگر جھاڑو لگا کر کچرا کسی جگہ پھینک دیاجائے تو اس کچرے کے انبار میں اضافہ ہو جائے گا اور اس کے لیے کچرے کو سمیٹنے اور اسے ری سائیکل کرنے کے کارخانے لگانا ضروری ہے۔اس پر توجہ دیے بغیر اور پودوں کی حفاظت و پرورش کا بندوبست کیے بغیر صاف ستھرے سرسبز پاکستان کا خواب خواب ہی رہ سکتا ہے۔ یہ ایک عارضی مہم نہیں بلکہ مستقل سماجی رویہ اختیار کرنے اور ہر سطح پر ذمے داری نبھانے کا کام ہے۔

متعلقہ خبریں