Daily Mashriq


تکلیف دہ معاشی فیصلے

تکلیف دہ معاشی فیصلے

وزیر خزانہ اسد عمر نے بالی سے واپسی کے بعد جہاں انہوں نے آئی یم ایف (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ) سے پاکستان کی موجودہ مالی بحران سے نکلنے کے لیے قرضے کے پروگرام کی باقاعدہ درخواست دائر کی اور فنڈ کے حکام سے ملاقاتیں بھی کیں کہا ہے کہ مستقبل قریب میں تکلیف دہ فیصلے کرنے ہوں گے۔ آئی ایم ایف کا وفد جو حال ہی میں دس بارہ روز پاکستان میں قیام کے بعد واپس جا چکا ہے اس باقاعدہ درخواست کے بعد آئندہ ماہ پھر پاکستان آئے گا اور قرضے کے پروگرام کے بارے میں حتمی مذاکرات ہوں گے۔ جب تک آئی ایم ایف کا وفد حتمی فیصلہ کرے گا اس وقت تک قلیل المدتی قرضوں کا بندوبست کرنا ہو گا جس کے لیے وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ بات چیت ہو رہی ہے۔ انہوں نے امریکہ کے صدر ٹرمپ اور دفتر خارجہ کے اس بیانیہ کو یکسر مسترد کر دیا کہ پاکستان کی موجودہ مالی مشکلات چین کے قرضے کی وجہ سے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو دس سے بارہ ارب ڈالر کی چند سال کے لیے ضرورت ہے جب کہ تین سال بعد چین کے قرضے کی ادائیگی کی رقم تیس کروڑ ڈالر تک پہنچتی۔ یوں بھی کہا جا رہا ہے کہ چین کے قرضوں کی ادائیگی 2021ء میں شروع ہو گی ۔ اگر آئی ایم ایف کا قرضہ کا پروگرام حاصل ہوتا ہے تو یہ تین سالہ پروگرام ہو گا اور اس وقت تک آئی ایم ایف کا تین سالہ پروگرام مکمل ہو چکا ہو گا ۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ کا بیان اور امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان کا بیان بے بنیاد ہے اور امریکہ کے باطن کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسد عمر نے بتایا کہ انہوں نے بالی میں آئی ایم ایف اور امریکہ کے نمائندوں پر بھی یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ سی پیک کے منصوبوں کا پاکستان کے آئی ایم ایف سے قرضہ کی درخواست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاکستان کے معاشی حالات سی پیک کے منصوبہ سے بہت پہلے خراب تھے اور حقیقت یہ ہے کہ سی پیک کے منصوبوںکا مقصد ہی پاکستان کی اقتصادی صورت حال کی مستقل بہتری ہے۔ انہوں نے کابینہ میں اپنے ساتھی فواد چودھری کے اس مؤقف کی بھی تردید کی کہ سعودی عرب چین اور امارات کے مدد نہ کرنے کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ہے۔ اسد عمر نے بتایا کہ ان تینوں ممالک سے اب بھی بات چیت چل رہی ہے اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنے پر ان ممالک کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف میں امریکہ کو سولہ فیصد سے کچھ زیادہ ووٹ حاصل ہیں جب کہ فنڈ میںفیصلہ اکیاون فیصد ووٹ سے ہوتا ہے‘ اس طرح امریکہ کو ویٹو حاصل نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف کی شرائط پاکستان کی سیکورٹی کے تقاضوں کے منافی ہوں گی تو اس سے امداد نہیںلی جائے گی اور متبادل ذرائع پر انحصار کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب سے ادھار تیل حاصل کرنے کے بارے میں مذاکرات ابھی جاری ہیں۔ مندرجہ بالا تمام تر تفصیل کا ماحصل وزیر خزانہ نے خود بیان کر دیا ہے کہ مستقبل قریب میں بہت تکلیف دہ فیصلے کرنے ہوں گے۔ آئی ایم ایف کے پروگرام میں اگر دیر لگتی ہے تو کم مدت کے مہنگے قرضے لینے ہوں گے۔ آئی ایم ایف کی شرائط اگر ناقابلِ قبول ہوئیں تو پروگرام حاصل کرنے سے انکار کر دیا جائے گا اور متبادل ذرائع پر انحصار کرنا ہو گا۔ قرضوں کی ادائیگی کے لیے لیے جانے والے قرضے مہنگے ہوں گے لہٰذا مہنگائی بڑھے گی۔ درآمدات کم کرنا پڑیں گی۔ پیداوار بھی کم ہو گی۔ اس لیے برآمدات بھی کم ہوں گی۔ پاکستان کے عوام کو یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑے گا۔ آئی ایم ایف کا پروگرام ملا تو بھی اور اگر متبادل ذرائع کا انتخاب کرنا پڑا تو بھی لیکن اس صورت میں مشکلات زیادہ ہو جائیں گی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ پاکستان پر قرضوں کا بوجھ سابقہ حکومتوں نے بہت زیادہ لاد دیا ہے۔ تاہم پاکستان کے عوام حوصلہ مند اور جفاکش ہیں وہ یہ سب کچھ اچھے مستقبل کی امید میں اور اپنی آزادی کی حفاظت کے جذبے کے ساتھ برداشت کر لیںگے۔ ارباب اختیار سے یہ گزارش کی جا سکتی ہے کہ زراعت اور مویشی بانی کی طرف زیادہ توجہ دیں یہی شعبہ پاکستان کے مشکل دور میں کام آ سکتا ہے اور اس مشکل دور سے نکالنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں