Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

محمد بن ابو عامر المنصورؒ حکومت اندلس کے قاضی تھے ۔ ایک بار ان کے چھوٹے بیٹے نے قاضی شہر کا بیٹا ہونے کے غرور میں سرشار ہو کر ایک غریب بچے کو (جو ایک یہودی کا بچہ تھا) پیٹا، وہ فریاد لے کر محمد بن عامرؒ کے پاس آیا۔

قاضی نے فوراً اپنے بیٹے کو دربار میں طلب کیا اور فریادی کوحکم دیا کہ اس کی پیٹھ پر اتنے ہی زور سے بید کی چوٹ لگا کر حکم کی تکمیل کرو۔ چنانچہ حکم کی تکمیل ہوئی ، وہ نازوں کا پلا بچہ تھا ،اس کی تاب کہا ں لاتا؟ چنانچہ اس کاپتہ پھٹ گیا اور اس نے وہیں عدالت میں جان دے دی۔

لوگوں نے یہ صورتحال دیکھی تو کانپ گئے ، ظالم تو اپنی جگہ لرز اٹھے اور قسم کھالی کہ آئندہ کبھی ظلم نہ کریں گے ۔ قاضی صاحب گھر آئے تو بچے کی لاش سے لپٹ کر خوب روئے اور خدا تعالیٰ سے التجا کی کہ وہ اس کے قصور کو معاف کرے ۔ (اسلامی کہانیاں)

اکبری دور میں خان خانان عبدالرحیم خان نے نظام الملک اور قطب الملک کے خلاف لشکر کشی کی تو آشنی کے پاس ایک جنگ ہوئی ۔ اس موقع پر عبدالرحیم نے حیرت انگیزبہادری کا ثبوت دیا ، وہ رات بھر گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر فوج کی نگرانی میں لگارہتا، ایک موقع پر غنیم کے پچیس ہزار سوار عبدالرحیم کے پانچ ہزار سواروں پر اچانک ٹوٹ پڑے ، عبدالرحیم کے تمام ساتھیوں کی ہمت جواب دے گئی ، اس کے ایک ساتھی دولت خان لودھی نے اس کو جنگ کرنے سے روکا اور کہا کہ اس جماعت سے مقابلہ کرنا اپنے کو ہلاک کرنا ہے ۔

عبدالرحیم کی غیرت جوش میں آگئی اور وہ بولاکہ تم یہ کہہ کر دہلی کا نام برباد کرنا چاہتے ہو۔ چند بہادروں نے یہ صورتحال دیکھی تو آگے بڑھے اور کہنے لگے :’’دولت خان! ہم ہندوستانی ہیں لڑکر مرجانا ہمارا شیوہ ہے ‘‘۔ دولت خان نے جھلا کر عبدالرحیم سے کہا کہ ٹھیک ہے یہی بات صحیح ہے ، لیکن یہ بتائیں کہ جنگ کے بعد ہم لوگ کہاں ملیں گے ؟

عبدالرحیم مردانگی اور بہادری کے پندار میں بولا:’’لاشوں کے ڈھیر کے نیچے ‘‘۔ یہ سن کر سارے لشکریوں میں ایک نئی غیرت اور ہمت پیدا ہوگئی اور وہ سربکف ہو کر اس طرح لڑے کے دشمن کی کثیر تعداد تتر بتر ہوگئی ۔

(بزم رفتہ کی سچی کہانیاں ، ص،92)

مشہور عباسی خلیفہ مہدی کو سرور کائناتؐ سے بے انتہا عقیدت تھی‘ ایک مرتبہ ایک شخص رومال میں ایک جوتا لپیٹ کر لایا اور کہا کہ یہ حضور اکرمؓ کے نعل مبارک ہیں اور آپ کی خدمت میں لایا ہوں۔ مہدی نے اس کو لیکر بوسہ دیا اور آنکھوں سے لگایا اور لانے والے کو انعام واکرام سے مالامال کر دیا۔ اس کے جانے کے بعد حاضرین سے مہدی نے کہا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ اس جوتے پر آن حضرتؐ کی نگاہ بھی نہیں پڑی ہے ان کا اس کو پہننا تو دور کی بات ہے لیکن چونکہ اس نے ذات نبویؐ کی طرف اس کا انتساب کر دیا تھا اسلئے اسے میں نے لے لیا۔ (مخزن اخلاق)

متعلقہ خبریں