Daily Mashriq


حکومت کی مالی مشکلات

حکومت کی مالی مشکلات

پی ٹی آئی نومنتخب حکومت کو ادائیگیوں کے عدم توازن کے بحران کا سامنا ہے جس کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی اور درآمدات کیلئے فوری طور پر وسائل کی ضرورت ہے۔ انتخابات میں کامیابی کے فوری بعد اسد عمر نے یہ اشارہ دیا تھا کہ پاکستان کو 12ارب ڈالر تک کی امداد کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے گا۔ تاہم خزانہ کے وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد اسد عمر نے یہ کہنا شروع کیا کہ حکومت آئی ایم ایف سے رجوع کئے بغیر مالی معاملات درست کرنے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن اب یہ عقدہ کھلا ہے کہ پاکستان نے بالآخر عالمی مالیاتی فنڈ سے امدادی پیکج لینے کی باقاعدہ درخواست کر دی ہے۔ اب آئی ایم ایف ماہرین کی ٹیم اسلام آباد روانہ کرے گا جس میں اس پیکج کی شرائط طے کی جائیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے میں جو تاخیر کی ہے اس کے نتیجے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور روپے کی قیمت میں گرانی واقع ہوئی ہے۔پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت اپنی مالی ترجیحات کے بارے میں غیر واضح اشارے دیتی رہی ہے جس کی وجہ سے منڈیوں میں عدم اطمینان پیدا ہوا، اس کا اظہار اس ہفتے کے شروع میں ہوا۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ایک دن کے دوران 12فیصد کمی واقع ہوئی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اچانک دس روپے کی کمی ہو گئی۔ ان حالات نے حکومت کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکال دی اور وزیر خزانہ کو منڈیوں کی تشفی کیلئے فوری طور پر عالمی مالیاتی فنڈ سے رجوع کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔ اب پاکستان نے آئی ایم ایف سے باقاعدہ درخواست تو کی ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پاکستان کو اس بحران سے نکلنے کیلئے کتنی امداد کی ضرورت ہوگی۔ بعض سرکاری ذرائع 8ارب ڈالر کا اشارہ دے رہے ہیں تاہم اس کیساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر پیکج کیلئے ہونے والے مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کی طرف سے سخت اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا تو پاکستان 12ارب ڈالر تک کا قرض لینے پر بھی مجبور ہو سکتا ہے۔ حکومت کو اب یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قومی مالی معاملات میں غیر یقینی پیدا کرنے اور غیر واضح اشارے دینے سے معاشی حالات درست نہیں ہوتے بلکہ ان کی سنگینی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ تحریک انصاف کو حکومت سنبھالنے سے پہلے ہی یہ اندازہ تھا کہ زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر، تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور انرجی سیکٹر کے گردشی قرضے کی وجہ سے اسے آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے گا تاکہ اس دوران وہ اپنی مالی پالیسیوں کو درست کرتے ہوئے معاشی احیا کے کام پر توجہ دے سکے۔ تاہم اس کی بجائے یہ تصور کر لیا گیا کہ عمران خان اس قدر مقبول ہیں کہ ان کی اپیل پر بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے بنک اکاؤنٹس کے منہ کھول دیں گے اور پاکستان کا خزانہ ڈالروں سے بھر جائے گا۔ بیرون ملک پاکستانیوں سے کثیر رقوم ملنے کی توقع پوری نہ ہوسکی تو یہ خواب دیکھنا شروع کر دیا گیا کہ پاکستان کے دوست ملکوں سے فوری امداد لے لی جائے گی۔ اس طرح آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔وزیراعظم عمران خان ابھی تک ملک کے دگرگوں مالی حالات کا تعین کرنے، اس کے اسباب سمجھنے اور ان کیلئے ٹھوس حکمت عملی تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ وہ ابھی تک سابقہ حکومتوں کو اس بحران کا ذمہ دار سمجھتے ہوئے صورتحال سے سیاسی مسئلہ کے طور پر نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کو اندیشہ ہے کہ عمران خان اور ان کے معاونین پیچیدہ معاشی معاملات کے سادہ اور آسان حل بتا کر مسائل کے حل میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔ اس مقصد کیلئے انہیں ٹھوس پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سیاسی نعرے بازی سے آگے بڑھ سکیں۔وزیراعظم یہ کہتے رہے ہیں کہ ملک کو اس لئے قرضوں کے بوجھ اور مالی مشکلات کا سامنا ہے کہ ماضی میں لئے جانے والے قرضوں کو منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر ذاتی اکاؤنٹس میں بھیجا جاتا رہا ہے۔ حکومت اب تک یہ دعویٰ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ ملک سے دس ارب ڈالر سالانہ منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھیجا جاتا ہے، اسے روک کر حکومت سب مالی مسائل پر قابو پالے گی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دعوؤں کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔ اس لئے ایسے اعلانات سائے کے پیچھے بھاگنے یا عوام کو گمراہ کرنے سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے۔ آئی ایم ایف سے اب جو نیا مالی پیکج لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کے نتیجے میں پاکستان پر شرح سود میں اضافہ کے علاوہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو کھلا چھوڑنے کا مطالبہ شامل ہوگا۔ ان اقدامات سے عوام کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ پاکستانی حکام ماضی میں افراط زر اور مہنگائی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سیاسی دباؤ سے بچنے کیلئے اس قسم کی شرائط پر پوری طرح عمل کرنے سے بچتے رہے ہیں۔ اسی لئے کسی بھی مالیاتی پیکج کے ذریعے اقتصادی بحالی کے متوقع نتائج سامنے نہیں آسکے۔ آئی ایم ایف کے مالی معاملات کے نگران مورس اوست فیلد نے واضح کیا ہے کہ روپیہ کی قیمت غیر فطری طور پر زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے نئے پیکج کے سبب ایک امریکی ڈالر ڈیڑھ سو روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ اوست فیلد نے سی پیک کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے اس کے تحت حاصل کئے گئے قرضوں کی ادائیگی کیلئے مالی صلاحیت کا ذکر بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کو اتنے ہی قرضے لینے چاہئیں جو وہ ادا کر سکے۔ موجودہ مالی مشکلات اور صورتحال کا تقاضا ہے کہ حکومت کے علاوہ اپوزیشن جماعتیں بھی ملکی معیشت کی بحالی کیلئے دست تعاون دراز کریں اور قوم کو بحران سے نکالنے کیلئے سب مل جل کر کام کا آغاز کریں لیکن اگر حکومت بداعتمادی کی فضا پیدا کرنے اور سیاسی انتقام کا طرز عمل ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوگی تو وہ اپوزیشن کی بجائے خود اپنے لئے مشکلات میں اضافہ کرتی رہے گی۔

متعلقہ خبریں