Daily Mashriq


یہ ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا

یہ ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا

تازہ خبر یہ ہے کہ بھارتی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار بھی جوتا کلب میں شمار ہوگئے تاہم جوتا نشانے پر نہیں لگا۔ ایک تقریب کے دوران چندن کمار تیواڑی نام کے طالب علم نے انہیں جوتا مارا مگر نشانہ خطا گیا ۔ پولیس نے طالبعلم کو حراست میں لے لیا، اس خبر کو کالم کا موضوع بنانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ تاریخ کو درست کرنے کی ضرورت ہے ، اور یہ پتہ لگانا ہے کہ یہ جو تاکلب حقیقت میں کب شروع ہوا۔ کیونکہ بعض روایات ، حکایات ، لطائف اور کہانیاں جو کچھ بتاتی ہیں تو اس کی ابتداء کے بارے میں اس وقت سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں جب سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر مصر کے ایک صحافی نے جوتے پھینکے تھے اور یار لوگوں نے جھٹ سے ایک نئی ترکیب یعنی جوتا کلب ایجاد کر کے موصوف کو اولیت کے درجے پر فائز کردیا ، اس کی وجہ شاید انگریزی زبان سے مرعوبیت ہوگی حالانکہ اسے کوئی اور نام بھی دیا جا سکتا تھا کیونکہ ہمارے ہاں جیسا کہ اوپر کی سطور میں گزارش کی ہے کئی روایات ، کئی محاورے ، کئی حکایات ، لطیفے اور نہ جانے کیا کیاپہلے ہی سے موجود ہیں سب سے اہم تو اردوزبان کے دوسربرآوردہ مقامات بلکہ دبستانوں یعنی دلی اور لکھنو میں سے لکھنو کے معاشرے میں جوتا چل جانا، یا جوتامارنا وغیرہ کا استعمال رہا ہے ، اوراگر کہیں سے یہ خبر آئی کہ فلاں مقام پر جوتی چل گئی یا جوتا چل گیا تو اسے انتہائی حیرت سے سناجاتا کیونکہ وہاں تو لوگ گالیاں دیتے ہوئے بھی زبان کی جن نزاکتوں کا خیال رکھتے تھے وہ بھی اس معاشرے کی تہذیبی روایات میں شامل تھا ، یعنی کسی کو گالی دینا مقصود ہوتا تو غصے میں مخالف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جاتا ’’ابے زبان سنبھال کے،اگر باز نہ آیا تو حضور ابا جان کی شان میں گستاخی کر بیٹھوں گا‘‘۔ اب اندازہ کیجئے ، گالی کا تو نام ونشان تک نہیں مگر مخالف کی بد اخلاقی کے جواب میں اس کے ابا حضور کی شان میں گستاخی کی دھمکی دی جارہی ہے ، یہ تو تکار زیادہ ہوجاتی تو نوبت ایک دوسرے کی جانب جوتی نکال کر صرف اشاروں اشاروں ہی میں غصے کا اظہار کیا جاتا۔ اور گالم گلوچ کی حد تک جانے کا تو تصور ہی نہیں تھا۔ بلکہ جہاں زبان ذرا تلخ ہوئی توخواجہ حیدر علی آتش نے یوں توجہ دلائی

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب

زباں بگڑی یہ سو بگڑی خبر لیجے دہن بگڑا

اب ایک نظر یہ تو یہ سامنے آیا کہ عین ممکن ہے اس جوتا ماری کی ابتدالکھنئو سے ہوئی ہو ، مگر پھر جو کہانیاں اور لطیفے مختلف معاشروں سے چل کر آئے ہیں اور سینہ بہ سینہ ہم تک پہنچے ہیں ان کو کس خانے میں فٹ کریں گے ، مثلاً ایک تو وہ جو سوپیاز اور سو جوتے والی کہانی ہے (جسے میں سو، سو کے کلیئے کے ساتھ قبول کرنے کو تیار نہیں ہوں کیونکہ ان میں سے جو چیز پہلے شروع ہوئی وہ تو سوکا ہندسہ پورا کرنے میں کامیاب ہوئی مگر بعد والی چیز کا ہندسہ90کو کراس نہیں کر سکا)۔ بہرحال بات جوتوں کی ہے ، اگر اس کہانی یا لطیفے کو درست مان لیا جائے تو پھر جس شخص نے سو جوتے اور نوے(90) پیاز کھائے ، دنیا کاپہلا ریکارڈتو اسے ملناچاہیئے۔ اسی طرح وہ جو ایک اور کہانی ہے کہ بادشاہ کے پاس جا کرداد رسی پانے کے ایک خواہشمند کو دربان نے صرف اس شرط پر اندر جانے دیا کہ بادشاہ سے جو انعام ملے گا اس میں آدھا اسے یعنی دربان کو ملے گا۔ آدمی کائیاں تھا ، اس نے دربان کی اس کرپشن کو بے نقاب کرنے کی ترکیب یوں نکالی کہ جب بادشاہ نے خوش ہو کر اس کو منہ مانگاانعام دینا چاہا تو اس نے سردربار اسے بیس جوتے مارنے کی استدعا کی ، بادشاہ اور درباری حیران ہوگئے کہ کیا یہ شخص پاگل ہے جو انعام میں جوتے کھانے کی خواہش ظاہر کررہا ہے ، مجبور ہو کر بادشاہ نے اسے 20جوتے مارنے کا حکم دیا ، دس جوتے کھا کر اس نے دوبارہ گزارش کی ، حضور میرے ساتھ شاہی دربار کے انعام میں ایک شریک بھی ہے باقی کے دس جوتے اسے مارے جائیں۔بادشاہ نے کہا وہ کون اور کہاں ہے؟اس نے کہا حضور آپ کا دربان جس نے مجھے صرف اسی شرط پر اندر آنے دیا تھا کہ انعام میں آدھا اسے دوں گا ۔ دربان کو طلب کر کے بادشاہ نے اس سے شرط کے بارے میں پوچھا تو دربان کے پاس سچ بولنے کے سوا کچھ چارہ ہی کیا تھا۔ بادشاہ نے اسے نہ صرف دس جوتے مارنے کا حکم دیا بلکہ نوکری سے برخواست کر کے جیل میں بھی ڈال دیا ۔ اس کہانی سے بھی جہاں جوتے مارنے یا مارے جانے کی خبر ملتی ہے وہیں سائیڈ لائن کے طور پر کرپشن کے قدیم زمانوں سے ہی و جود کا پتہ چلتا ہے اور ساتھ ہی کرپٹ لوگوں کے احتساب کے ساتھ ان کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والوں کو انعام واکرام دینے کی حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ بادشاہ سلامت نے اس شخص کودربان کو بے نقاب کرنے کے عوض انعام واکرام سے بھی نوازا، جبکہ کرپٹ افراد کیلئے اس زمانے میں بھی اڈیالہ جیسے جیل موجود ہوں گے ۔ اس لئے دربان کو اس دور کے اڈیالہ ، حیدر آباد، ہری پور ، مچھ یا پھر پشاور جیل کی طرز پر تعمیر شدہ زنداں کے حوالے کردیا گیا تھا ، ڈی آئی خان کی طرز کا جیل بھی ہو سکتا تھا مگر اسے توڑے جانے کا خوف اس دور میں بھی رہا ہوگا ۔بہرحال یہ تحقیق طلب معاملہ تو ہے مگر جوتا کلب کے حوالے سے کہانی میں کوئی سقم موجود نہیں ہے ، اس کہانی کے بارے میں مرزا غالب کے ایک ہی غزل کے دومصرعوں سے یوں بھی کام چلایا جا سکتا ہے کہ کرپشن والوں کے بے نقاب کرنے میں آسانی رہے گی ۔

’’جوتے بغیر ڈرنہ سکا یہ کرپٹ اسد‘‘

یہ ورنہ ہر لباس میںننگ وجودتھا

اس سارے قصے میں جوتا کلب کی تحقیق تو دھری کی دھری رہ گئی، جو پھر کبھی!!۔

متعلقہ خبریں