Daily Mashriq


اقتصادی مسائل کا شارٹ کٹ حل

اقتصادی مسائل کا شارٹ کٹ حل

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے تحا شا وسائل سے مالا مال فرمایا ہے مگر انتہائی افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ71 سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان ان وافر قدرتی وسائل سے فائدہ نہ اُٹھا سکا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف، عالمی مالیاتی بینک سے 95 ارب ڈالر اور ملکی مالیاتی اداروں سے 29 ہزار ارب روپے قرض لے چکا جس پر بھاری سود، غریب کے خون پسینے کی کمائی سے ادا کرنا پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب ہر پاکستانی ایک1لا کھ 35 ہزار روپے مقروض ہے۔ اب جبکہ 2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف وفاق اور تینوں صوبوں میں بر سر اقتدار ہے،ا س سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ اس ملک اور قوم کے لئے کچھ کرکے دکھائے گی مگر ا فسوس کی بات ہے کہ پی ٹی آئی نے50 دن میںجتنے بھی سماجی اور اقتصادی شعبوں میں اقدامات کئے ہیں وہ عوام کی خواہشات اور احساسات کے برعکس ہیں وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ کے وزراء تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے اب تک کوئی خاص اقدامات نہ کرسکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ما ضی میں پاکستان پیپلز پا رٹی، پاکستان مسلم لیگ ن اور فوجی مطلق العنانوں نے ملک کی ابتری میں کوئی کثر نہیں چھوڑی مگر عمران خان نے الیکشن مہم کے دوران جو بلند بانگ دعوے کئے تھے وہ اب اپنے کئے گئے وعدوں سے یوٹرن لے رہے ہیں۔ اب وزیراعظم عمران خان اوران کے ساتھیوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضہ حا صل کرنے کے لئے فنڈز کے اعلیٰ عہد ید ا ر وں سے رابطہ کیا جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں پاکستانی حکام نے سعودی عرب اور چین سے قرض لینے کی کوشش کی مگر تاحال کوئی کامیابی حا صل نہیں ہوئی۔اگر ہم آئی ایم ایف کے شرح سود پر غور کریں تو مالی سال 2008 ، 2009 اور 2010 میں اسکی شرح 14 فی صد تھی جو حد سے زیادہ ہے۔اسکے علاوہ آئی ایم ایف ایسی شرائط رکھ لیتا ہے جو کسی قوم اور ملک کی تباہی کے لیے کافی ہوتی ہیں۔اب وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزراء کے پاس کوئی ٹھوس حل نہیں کہ ملک کو بُحران سے کیسے نکال سکیں۔اس وقت میرے خیال میں پاکستان کے پاس دوسرے اور آپشنز کے ساتھ ساتھ ایک آپشن یہ بھی ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو سمندر پار بھیجا جائے ۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو اس وقت تقریباً 88 لاکھ پاکستانی وطن عزیز کو 20 ارب ڈالر بھیج رہے ہیں جو ہمارے وفاقی بجٹ کا آدھا ہے ۔ ہمارا وفاقی بجٹ 5932 ارب روپے ہے اور اسکا آدھا 20 ارب ڈالر یعنی 2500 ارب روپے سمندر پار پاکستانی بھیج رہے ہیں۔اگر ہم حالات اور واقعات کا مزید تجزیہ کریں تو خوش قسمتی سے پاکستان دس ممالک میں ، یعنی بھارت، چین، اور انڈونیشیاء کے بعد چوتھے نمبر پر ہے جہاں پر نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ سود مند ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 13 کروڑ جوان ہیں اور ان میں اکثریت ایسی ہے جو مختلف قسم کے علوم اور تکنیکی شعبہ میں مہارت رکھتے ہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک ایسے ہیں جہاں پر آبادی کی شرح بڑھوتری صفر فی صد یا منفی ہے۔ یورپی ممالک کی تعداد 48 ہے اور ان میں 21 ممالک کی آبادی کے اضافے کی شرح منفی ہے۔ مثلاً جاپان کی آبادی میں اضافے کی شرح 0.218 فی صد، جرمنی کی 0.16فی صد روس اٹلی اور یونان اور اسکے علاوہ ایسے کئی ممالک ہیں جنکی آبادی کی شرح صفر یا منفی ہے۔بالفاظ دیگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یورپی ممالک میں نوجوانوں کی تعداد کم اور بوڑھوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔لہٰذا ان ممالک کو اپنے ریاستی اُمور چلانے کے لئے نوجوانو ں کی اشد ضرورت ہے۔ان ممالک کی آبادی کی شرح میں انتہائی کمی کے بُحران کو پاکستان ایک اچھے موقع سمجھتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔وزیر اعظم عمران خان دنیا کی 20 پسندیدہ شخصیات میں دوسرے نمبر پر ہیں ۔ وہ کرکٹ لیجنڈ کے طور پر دنیا میں مشہور ہیں ۔ پاکستان کے کسی بھی سیاسی لیڈر کو بیرونی ممالک میں اتنا نہیں جانا نہیں جاتا جتنا لوگ عمران خان کو جانتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں جہاں آبادی بُہت کم ہے وہاں نوجوان خون کی ضرورت ہے ۔ اگر عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی حکمت سے کام لیں ۔ پاکستان کے پڑھے لکھے اور نیم پڑھے جوانوں کا ڈیٹا جمع کر کے کمپیوٹرائزڈ کریں۔ اور ان نوجوانوں کو یو رپ اور دوست ممالک کو بھیجنے کی استد عا کریں تو اس سے ہم ترسیلات زرکو ڈبل نہیں بلکہ ٹرپل کر سکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ چار یا پانچ سالوں میں بیرونی اور اندرونی قرضہ دونوں ختم کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں اس سے زیادہ شارٹ کٹ حل کوئی نہیں۔پاکستان نو جوانوں کی تعداد کے لحاظ سے جنوبی ایشیا میں دوسرے نمبر اور عالمی رینکنگ میں چو تھے نمبر پر ہے ۔ اور ہم دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرکے افرادی قوت سے فائدہ اُٹھا کر ترسیلات زر یعنی Foriegn exchangeمیں 15 ارب سے لیکر 20 ارب ڈالر تک اضافہ کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں