Daily Mashriq


فقیر غیور اور آئی ایم ایف کے قرضے

فقیر غیور اور آئی ایم ایف کے قرضے

1980ء سے لے کر اب تک پاکستان آئی ایم ایف سے بارہ سود پر مبنی پیکج لے چکا ہے اور اب موجودہ حکومت اس کے باوجود کہ اس کے مرد آہن نے مصمم ارادہ ببانگ دہل ظاہر کیا تھا کہ وہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دے گا۔ خود کشی تو اسلام میں حرام ہے لہٰذا اگر کوئی مسلمان کسی حرام کام کرنے کی قسم بھی کھا لے تو وہ باطل ہوتی ہے یعنی اس کا پورا کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہم سیاسی مخالفین کی طرح اس بات کا نہ دوش دیتے ہیں نہ طعنہ کہ اب خودکشی کیوں نہیں کرتا لیکن اس بات کاذکر بہت ضروری ہے کہ عمران خان تو اپنے آپ کو علامہ محمد اقبال کے فلسفے کاگھائل بھی سمجھتا ہے اور اس کے علاوہ اپنی تصنیف ’’ میرا پاکستان‘‘ میں جن نظریات کااظہار کر چکا ہے وہ سب اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے قرض نہ لیتے تو بہتر ہوتا۔ کیونکہ اب بس ’’کافی‘ کافی ہے‘‘اس میں شک نہیں کہ قوموں پر سخت وقت آتا ہے۔ ملک اور قومیں خوشحال اور فارغ البال اقوام سے قرضہ اور مدد بھی لیتی ہیں۔ لیکن یہ بات سب کو معلوم ہے اور طے ہے کہ قرضے مشکلات سے نکلنے کے لئے لئے جاتے ہیں نہ کہ عیاشیوں کے لئے۔ قرضے اس لئے لئے جاتے ہیں کہ اس کے ذریعے ایسے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچائے جائیں جو ملکی ترقی کے علاوہ اتنی آمدنی کرسکے کہ قرض بھی اتاریں اور ملک و قوم کے لئے بھی نفع کماتے رہیں۔ وطن عزیز کی بد قسمتی یہ رہی کہ آئی ایم ایف اور دیگر ملکی و غیر ملکی مالیاتی اداروں سے بلند شرح سود پر قرضے لے کر اس پر مغل بادشاہوں اور شہزادوں کی طرح عیاشی کرنے لگے۔ نندی پور‘ اورنج ٹرین اور میٹرو جیسے منصوبوں پر قرضوں کا پیسہ لگا کر یار لوگوں کی کمیشن اور کرپشن کے علاوہ اب یہ سارے پراجیکٹس خسارے میں چلنے کے باعث ملک کے خزانے کے لئے سفید ہاتھی ثابت ہونے لگے ہیں۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ عمران خان جو اپنی تقریروں میں میٹرو( لاہور) کو جنگلہ بس اور قوم کے کندھوں پر بے انتہا بے جا بوجھ پکارتے اور قرار دیتے تھے اپنے وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں اتنے مجبور ہوئے کہ 2018ء کے انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگنے کے لئے پشاور میں بھی بی آر ٹی کے نام وہی ’’مصیبت‘‘ شروع کردی۔

بی آر ٹی نے جو شاید دسمبر2018ء تک بھی مکمل نہ ہوسکے اہل پشاور کی زندگیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اللہ کرے کہ اس عظیم مصیبت کے بعد یہ اہل پختونخوا کے لئے آسانیاں لانے کا سبب بن جائے۔ بات قرضوں کی ہو رہی تھی اور بی آر ٹی درمیان میں آگئی کہ آخر اس نے بھی پختونخوا کے بجٹ کو بری طرح متاثر تو کیا ہے ۔ لیکن آئی ایم ایف سے تیرہویں بار سبک سر ہو کے قرضہ لینے میں عمران خان بے چارے مجبور بھی تو ہیں۔ جو پیشرو ملک و قوم کو قرضوں میں جکڑ کر چھوڑ جاتے ہیں اور وہ قرضے اتنے بھاری ہوں کہ ان کے سود کی ادائیگی اربوں میں ہو اور ملک کی اپنی پیداوار اور آمدنی عیاشیوں‘ کرپشن اور بیرون ملک جائیدادیں بنانے میں لگی ہو وہ قرض نہ لیں تو اور کیا کریں۔ البتہ عمران خان سے یہ گلہ تو بنتا ہی ہے کہ آپ نے انتخابی مہم کے دوران یہ دعوے کئے تھے کہ آپ کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی بیرون ملک پاکستانی دیانتدار حکومت کے منصوبے دیکھتے ہی اربوں ڈالر بھیج دیں گے۔ اس میں شک نہیں کہ آپ کی شہرت فنڈریزنگ پاکستان میں نمبر 1 ہے لیکن آپ کی دعوت پر بھی بیرون ملک پاکستانیوں نے ویسا رسپانس نہیں دیا جس کی آپ توقع کر رہے تھے۔ یہ بات قابل غور ہونے کے ساتھ قابل تحقیق بھی ہے کہ آخر کیا وجہ ہوئی کہ آپ کی ملکی تعمیر اور ڈیمز کے لئے پر سوز درخواست کو کماحقہ پذیرائی نہیں ملی۔ کہیں آپ کی ٹیم میںشامل بعض ’’معروف‘‘ چہرے تو آڑے نہیں آئے۔ بہر حال اب اگر آپ کوشش یہ کریں کہ آئی ایم ایف کے بجائے سعودی عرب‘ امارات اور دیگر اہل پٹرول ممالک کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور کچھ قرض حسنہ وغیرہ پر راضی کرسکیں تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔ آپ اور آپ کے اقتصادی تھنک ٹینک کو بخوبی معلوم ہوگا کہ آئی ایم ایف سے اس وقت قرض لینا پاک چین دوستی کے لئے نقصان دہ ہونے کے علاوہ عوام کے لئے بھی بہت نقصان دہ اس لحاظ سے ہوگا کہ گیس‘ بجلی اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی جس کے نتیجے میں آپ کے سیاسی مخالفین جو اس تاک میں بیٹھے ہیں کہ کب عوام مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلے گی اور ان کو جلتی پر تیل پھینکنے کا موقع ملے گا۔عمران خان آپ تو علامہ اقبال کے مرید ہیں۔ ذرا اٹھائیے نا ان کی کلیات اور ’’ اے مرے فقیر غیور‘‘ کا فیصلہ پڑھ لیجئے اور پھر سب سے بڑھ کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت کامطالعہ کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھی یہودیوں سے قرض لیا ہے لیکن دیکھ لیں کہ کس لئے لیا تھا اور کس طرح ادا کیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ فرمان مبارک حرز جاں بنا کر رکھو۔ ترجمہ: جس نے کفایت شعاری کی وہ کبھی تنگ دست نہ ہوگا‘‘ بہت اچھا کیا کہ پی ایم ہائوس کا خرچہ کم کیا۔ بھینسیں اور گاڑیاں بیچیں‘ پرواہ نہ کریں کہ مخالفین اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ فقیر غیور پرعمل پیرا ہو کر تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے رہنمائی لیتے رہیں۔ یہودیوں کے سود پر مبنی قرضوں سے حتی الامکان گریز کریں تو بہتر رہے گا۔ قوم کو اعتماد میں لیں‘ کفایت شعاری کی ہر ممکن کوشش جاری رکھیں۔ پِنی کاخیال رکھیں پائونڈ اپنا خیال خود رکھنا شروع کرے گا۔

متعلقہ خبریں