Daily Mashriq


لاہور ہائی کورٹ:ننھی زینب کے قاتل کو سرِعام پھانسی دینے کی درخواست سماعت کیلئے منظور

لاہور ہائی کورٹ:ننھی زینب کے قاتل کو سرِعام پھانسی دینے کی درخواست سماعت کیلئے منظور

ویب ڈیسک:لاہور ہائی کورٹ کیجانب سے زینب قتل کیس کے مجرم عمران کو سرِعام پھانسی دینے کی درخواست سماعت کیلئے منظور، ہوم سیکرٹری پنجاب سے وضاحت طلب۔

تفصیلات کے مطابق زینب کے والد حاجی امین کیجانب سے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں ہوم سیکرٹری، آئی جی پنجاب اور مجرم عمران کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سزائے موت کے خلاف مجرم عمران کی تمام اپیلیں مسترد ہوچکی ہیں، سزا پر عمل کے لیے مجرم کے ڈیتھ وارنٹ بھی جاری ہوچکے ہیں، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 22 کے تحت مجرم کو سر عام پھانسی دی جا سکتی ہے۔ اس لئے عدالت مجرم عمران کو سرعام پھانسی کی سزا دینے کا حکم جاری کرے۔

 عمران پر ننھی زینب سمیت دیگر بچیوں کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے کا الزام ثابت ہوچکا ہے، عدالت نے مجرم کو مختلف مقدمات میں 21 مرتبہ پھانسی کی سزا سنائی ہے جب کہ اسے کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے بلیک وارنٹ بھی جاری ہوچکے ہیں جس کے مطابق عمران کو 17 اکتوبر کو پھانسی دی جائے گی۔

زینب قتل کیس۔۔۔پس منظر۔

یاد رہے کہ قصور میں 4 جنوری کو لاپتہ ہونے والی 6 سالہ زینب کی لاش 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا نوٹس لیا تھا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ملزم کی فوری گرفتاری کی ہدایات جاری کی تھیں۔

پولیس نے 13 جنوری کو ڈی این اے کے ذریعے ملزم کی نشاندہی کی تھی اور ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد 23 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں زینب کے والد کی موجودگی میں پریس کانفرنس کی تھی اور ملزم کی گرفتاری کااعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 9 فروری کو عدالت نے گرفتار ملزم عمران علی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کردیا تھا۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم عمران کو زینب قتل کیس میں ڈی این اے میچ ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور ملزم عمران کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: زینب قتل کیس کے مجرم کی سزا پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ طلب

17 فروری کو اے ٹی سی نے زینب کو ریپ کے بعد قتل کے جرم میں عمران علی کو 4 مرتبہ سزائے موت، عمر قید اور 7 سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ 41 لاکھ روپے جرمانے بھی عائد کیا تھا۔

جس کے بعد زینب قتل کیس کے مجرم عمران نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کی سزا کے خلاف اپیل لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی تھی، لیکن لاہور ہائی کورٹ نے مجرم عمران کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

بعد ازاں مجرم عمران نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جہاں بھی مجرم کے خلاف فیصلہ سامنے آیا تھا

متعلقہ خبریں