Daily Mashriq

ملک بھر میں ڈینگی کیسز کی تعداد 30 ہزار کی ریکارڈ سطح سے تجاوز کر گئی

ملک بھر میں ڈینگی کیسز کی تعداد 30 ہزار کی ریکارڈ سطح سے تجاوز کر گئی

اسلام آباد: حکام کی جناب سے موثر نگرانی اور بہتر دیکھ بھال کے دعووں کے باوجود ملک میں ڈینگی کے کیسز نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 47 افراد ہلاک جبکہ 30 ہزار افراد اب تک اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں تاہم بیماری اتنی ہلاکت خیز نہیں جتنی سال 2011 میں تھی اور 3 سو 70 افراد کی موت کا سبب بنی تھی۔

ملک بھر میں اب تک ڈینگی کے 30 ہزار 98 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جس میں سب سے زیادہ 8 ہزار 245 کیسز وفاقی دارالحکومت میں سامنے آئے۔

جس کے بعد پنجاب میں 6 ہزار 629، خیبرپختونخوا میں 5 ہزار 229، سندھ میں 5 ہزار 190 کیسز سامنے آئے جبکہ بقیہ تعداد کا تعلق قبائلی اضلاع اور آزاد جموں کشمیر سے ہے۔

اسلام آباد میں اب تک 17 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ سندھ میں ڈینگی سے 16، پنجاب میں 10، بلوچستان میں 3 اور آزاد کشمری میں ایک شخص ہلاک ہوا۔

قومی ادارہ برائے صحت میں سرویلینس ڈویژن کے سربراہ ڈاکٹر رانا صفدر نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈینگی کیسز کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے نگرانی اور بہتر دیکھ بھال میں اضافہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈینگی پھیلاؤ کے باعث ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی ادارہ صحت میں ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کا آغاز کیا گیا جبکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا روزانہ 8:30 بجے ڈینگی کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس کی سربراہی کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صفدر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے اعداد و شمار دیگر ممالک کے مقابلے بہتر ہیں لیکن ہمارا کام آسان نہیں، ہم ڈینگی کو شکست دینے کے لیے آئندہ سالوں میں ایک کثیر النوع نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق عالمی سطح پر ڈینگی صحت عامہ کو لاحق خطرات میں سب سے مہلک خطرات میں سے ایک ہے۔

ڈاکٹر صفدر کا مزید کہنا تھا کہ اس سال فلپائن میں ڈینگی کے 3 لاکھ 22 ہزار 693 کیسز جبکہ اس سے ایک ہزار 272 اموات رپورٹ ہوئیں، سری لنکا میں 2 لاکھ 34 ہزار 787 کیسز اور 100 اموات، تھائی لینڈ میں 10 ستمبر تک ایک لاکھ 46 ہزار کیسز، ویت نام میں 26 ستمبر تک ایک لاکھ 24 ہزار 751 کیسز، ملائیشیا میں ایک لاکھ 2 ہزار 734 کیسز اور 149 اموات جبکہ بنگلہ دیش میں ایک لاکھ کیسز اور ڈیڑھ سو سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔

ڈینگی وائرس ایڈیس ایگیپٹی نامی مچھر کے ذریعے پھیلتا ہے جس کی علامات تیز بخار اور جسم میں شدید در ہونا ہے۔

مذکورہ بیماری کے لیے کوئی خصوصی علاج نہیں ہے البتہ بیماری کی شروع میں ہی تشخیص اور بہتر علاج کے باعث اموات کی شرح کم کی جاسکتی ہے ورنہ یہ بیماری زندگی کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔

بغیر منصوبہ بندی کے تعمیرات، نکاسی آب کے نظام کا فقدان اور موسمیاتی تبدیلیاں ڈینگی میں اضافے کا سبب ہیں۔

متعلقہ خبریں