Daily Mashriq

صدر مملکت بیوروکریسی کے سست رویے پر نالاں

صدر مملکت بیوروکریسی کے سست رویے پر نالاں

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے دفتر کی فائلوں کو آگے بڑھانے میں بیوروکریسی کے سست رویے پر شکوہ کردیا۔

پاکستان ایجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے تحت منعقد ’انجینئرنگ ایجوکیشن اینڈ پریکٹس‘ کانفرنس میں صدر مملکت نے کہا کہ ’میں بیوروکریسی کے رویہ سے بہت پریشان ہوں‘۔

ڈاکٹر عارف علوی نے بتایا کہ ایک شخص نے پریزیڈنٹ ہاؤس میں فائل بھیجی لیکن 6 ماہ تک اسٹاف کو وہ فائل نہیں ملی اور جب ملی تو کہا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھیجی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’فائلوں کو بے مقصد ایک سے دوسرے دفتر گھمانا ہماری قابلیت بن چکی ہے‘۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے زور دیا کہ ’دفتری امور بروقت ختم کرنے کی ضرورت ہے، فیصلے جلد لینے چاہیے‘۔

واضح رہے کہ چند بیوروکریٹس نے وزیراعظم عمران خان سے شکایت کی تھی کہ انہیں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ہراساں اور دھکمی آمیز رویے کا سامنا ہے جس کے باعث بیوروکریٹس دفتری فائلوں پر دستخط کرنے میں کتراتے ہیں۔

بعدازاں بعض سینئر بیوروکریٹس کی شکایت پر حکومت نے نیب کو لگام دینے اور تاجربرادری اور بیوروکریسی کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے کوششیں کردی۔

تاہم حکومت نے گزشتہ ہفتے سینیٹ میں بل متعارف کرایا جو نیب کے اختیارات کو محدود کرنے سے متعلق تھا۔

صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے پی ای سی کو ہدایت کی کہ وہ عالمی رحجان اور معاشرے کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے انجینئرنگ تعلیم کے فروغ کے لیے منصوبہ تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ تعلیم کی فراہمی کے ساتھ لوگوں کے مسائل کا بھی حل دریافت کریں اور ملکی انجینئرز کو عوامی بھلائی کے لیے اپنی خدمات پیش کرنی چاہیے‘۔

تقریب میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ’میں وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے درخواست کروں گا کہ وہ بزنس ٹائیکون کے بجائے ملک کے نوجوان سے ملیں‘۔

چوہدری فواد کا کہنا تھا کہ ’30 سیٹھ کے بجائے پوری قوم کا مفاد مدنظر رکھا جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہر سال فارغ التحصیل ہونے والے ہزاروں طلبا و طالبات کو ملازمت فراہم نہیں کرسکتی اس لیے انجینئرنگ میں ملازمت سے متعلق رویہ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

پی ای سی کے چیئرمین انجینئر جاوید سلیم قریشی نے صدر مملکت کو مخاطب کرکے کہا کہ انجینئرز کو وزارت اور فیصلہ ساز اداروں میں ملازمت کو نہیں ملتی، ’گریجویٹ سی ایس ایس امتحان سیکنڈ ڈویژن سے پاس کرکے گریڈ 21 کا سیکریٹری بن جاتا ہے جبکہ انجینئرز گریڈ 17 سے آگے نہیں بڑھ پاتے‘۔

انہوں نے کہا کہ انجینئرز کو فیصلہ ساز اداروں میں فرائض انجام دینے کا موقع ملا تو وہ مادرملت کی قسمت بدل سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے 28 مارچ کو بیوروکریسی کا نیب سے گلہ مسترد کردیا تھا۔

متعلقہ خبریں