Daily Mashriq

سیاست دوراں اور معاشی کشتی

سیاست دوراں اور معاشی کشتی

کے وزیراطلاعات وتعلقات عامہ جے یو آئی(ف) کے محافظ دستے انصارالاسلام کی مشقوں کو دہشت گردی تعبیر کرتے ہوئے مقدمہ چلانے کی دھمکی دے رہے ہیں انہوں نے اس عمل کو ریاستی عملداری کو چیلنج کرنے اور خوف وہراس پھیلانے سے تعبیر کیا ہے ایک معروف اردو ویب سائیٹ کے نمائندے کے مطابق ایس ایس پی آپریشنز سے اس اجتماع کیلئے باقاعدہ طور پر ضلعی انتظامیہ سے اجازت لی گئی قانونا بند جگہ پر اس طرح کی مشقوں کی ممانعت نہیں۔انصارالاسلام کے رضاکاروں کے پاس صرف لاٹھیاں تھیں جس پر قانوناً قد غن نہیں پولیس نے احاطے کے باہر ڈیوٹی بھی کی ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی اور قانونی معاملات کو خلط ملط کرنا ہی دراصل ابہام کا باعث ہے سیاسی عینک سے دیکھنے سے ایک معمول کی سرگرمی دہشت گردی تو نظر آسکتی ہے جس کی بنیاد پر قانونی طور پر مقدمے کا اندراج ممکن نہیں یہ بات ضرور ہے کہ جمعیت علمائے اسلام(ف) کی وردی پوش ڈانڈا بردار فورس کی پریڈ طاقت کا مظاہرہ اور نفسیاتی طور پر دبائو بڑھانے کے زمرے میں ضرور آتا ہے لیکن چونکہ اس فورس کی تشکیل قیام پاکستان سے قبل کی ہے اور فورس جمعیت کے جلسوں کی حفاظت کی ذمہ داری نبھاتی آرہی ہے اس لئے اس پر کبھی اعتراض نہیں کیا گیا اگر یہ فورس کا اس خاص موقع پر قیام عمل میں لایا جاتا اور لاٹھی بازی کی تربیت دی جاتی تو اس پر اعتراض کی گنجائش تھی۔شباب ملی اور سرخ پوش تنظیم بھی سیاسی جماعتوں کے جلسوں کی حفاظت کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں سیاسی جماعتوں کا علیحدہ سے یوتھ ونگ،طلبہ تنظیمیں،لیبر ونگ اور دیگر ذیلی تنظیمیں ہوتی ہیں جس پر اب تک اعتراضات سامنے نہیں آئے بنا بریں انصارالاسلام کے حوالے سے چیں بہ جبیں ہونے کی زیادہ گنجائش نہیں ہونی چاہیئے۔جہاں تک قانون کی پابندی اور قانون کی خلاف ورزی کا تعلق ہے قائد جمعیت بار بار قانون کی پاسداری کی رضاکارانہ یقین دہانی کراتے آئے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ جہاں حکومتی عملداری اور قانون کی خلاف ورزی نظر آئے اسی لمحے قانون کو پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آنا چاہیئے جے یو آئی(ف) کی خاکی فورس جس قسم کی تیاری اور مشقیں کر رہی ہے ہماری پولیس فورس کو اس سے کہیں بڑی تعداد اور زیادہ مشقوں کی ضرورت ہے تاکہ پنجہ آزمائی کے موقع پر دبائو اور کمزوری کی نوبت نہ آئے۔خیبرپختونخوا میں حکومتی عہدیداروں کی جانب سے جس قسم کے تندوتیز بیانات سامنے آرہے ہیں اس سے عدم برداشت کا تاثر ابھرتا ہے ماضی میں خود احتجاج کا حق بھرپور طریقے سے اختیار کرنے اور عملی طور پر اس میں حکومتی عہدوں کے ساتھ شریک ہونے والے اگر مخالفین کو بھی وہی حق استعمال کرنے کا موقع دیں اور صوبے میں مارچ کے شرکاء کو روکنے کی بجائے تحمل اور برداشت کی پالیسی اختیار کی جائے تو مناسب ہوگا۔رموز مصلحت ملک خسروان دانند منظر نامے میں سختی کرنے سختی برداشت کرنے اور سختی کی حکمت عملی کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تشویش کی بات یہ ہے کہ ہر سیاسی تحریک ملکی معیشت کی کشتی میں ایک طرف چھید اور دوسری طرف بوجھ میں بے پناہ اضافے کا سبب ہی ثابت ہوئی ہے اب تو یہ کشتی باقاعدہ ہچکولے کھانے لگی ہے ملکی سیاست کے تمام کردار اگر اس کشتی کے ناخدا نہیں بن سکتے تو کم از کم اس کشتی کو خدانخواستہ غرقاب ہونے کا گناہ اپنے سر تو نہ لیں۔

متعلقہ خبریں