Daily Mashriq

وزیراعظم اپنا کردار ادا کریں گے

وزیراعظم اپنا کردار ادا کریں گے

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی سعودی عرب اور ایران کے درمیان تنازعات وکشیدگی میں کمی لانے اور خطے کو ان ممالک کی کشیدگی کے اثرات سے بچانے کی سعی احسن ذمہ داری ہے جہاں پاکستان کو اس ذمہ داری کو نبھانے میں دلچسپی ہے وہاں اس وقت خود پاکستان اور بھارت کے درمیان مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے باعث کشیدگی انتہا پر ہے اس موقع پر ایران نے تو پڑوسی مسلمان کا کردار اس کے باوجود ادا کیا کہ اس کی بھارت سے قربت پر ہم شکوہ کناں تھے جبکہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے اعتماد کے تعلقات کے باوجود سعودی عرب نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں پاکستان کی اخلاقی حمایت بھی گوارا نہیں کی بلکہ بھارت سے تجارت کو پاکستان کے ساتھ تعلقات پر مقدم رکھا اس کااظہار وزیراعظم پاکستان عمران خان خود بھی مختلف مواقع پر کر چکے ہیں اس ساری صورتحال میں اصولی طور پر تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو والی پالیسی ہونی چاہیئے تھی ایک ایسے وقت میں جب پاکستان خود ایک نہایت پیچیدہ صورتحال کا شکار ہے داخلی سیاسی معاملات اور معاشی صورتحال تسلی بخش نہیں کشمیر کے مسئلے پر زیادہ سے زیادہ تائید وحمایت اور اس مسئلے کے حل کیلئے کوششوں کی بجائے مصالحت کاری ملکی مفاد کا کس حد تک تقاضا ہے اس بارے وثوق سے کچھ کہنا ممکن نہیںبہرحال خوش آئند امر یہ ہے کہ خود مشکل صورتحال سے دوچار ہونے کے باوجود پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے انتظامات اور دواسلامی ملکوں کے درمیان تنازعہ حل کرانے کیلئے سرگرم ہے اس دوران یقیناً مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے کردار ومظالم پر بھی عالمی رہنمائوں سے گفت وشنید ہونا فطری امر ہوگا۔چین کی طرف سے تو حسب روایت خاصی ٹھوس یقین دہانی کرائی گئی ہے ایرانی قیادت نے بھی خلاف توقع پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے سعودی عرب سے ان دو ممالک سے زیادہ نہیں تو کم از کم ایران کے مساوی کرداروحمایت کی توقع ہے توقع کی جانی چاہیئے کہ سعودی قیادت کو بھی اس کا جلد احساس ہوگا اور وہ تجارتی مفادات پر اسلامی اخوت کو ترجیح دے گی اور بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

تعلیمی اداروں میں آئس کی لعنت

مقامی کا لج کے دوطلباء کوگزشتہ ماہ فو لنگ کے دورا ن آئس نشہ میں مبتلا کرنے کا انکشاف کالج جانے والے تمام طلبہ کے والدین کیلئے دل دہلادینے والا انکشاف ہے۔ جس سے والدین کا انتہائی تشویش کا اظہار فطری امر ہے۔مذکورہ نوجوان کو سینئر طلباء کی جانب سے فو لنگ کے دورا ن پانی کی بو تل میں آئس ڈا ل کر پلائی گئی جس کے بعد وہ آئس کا شکار ہوئے۔ہمیں اس امر سے کوئی سروکار نہیں کہ یہ کسی سرکاری کالج میں ہونے والا واقع ہے یا پھر کسی نجی کالج میں یہ واقع رونما ہوا جس کالج میں بھی یہ واقعہ پیش آیا وہ اس کالج کی انتظامیہ کیلئے سب سے شرمناک فعل اس لئے ہے کہ ان کے کالج میں آئس کا استعمال ہوتا ہے آئس کا حصول کسی عام طالب علم کا کام نہیں ہوسکتا چونکہ ان دو طالب علموں کو علاج کیلئے لایا گیا اور ان کے والدین کواطلاع ہوگئی ممکن ہے کئی اورطالب علموں کو اس بھیانک حرکت کے باعث نشے کی لت لگ گئی ہو اور ان کے نام سامنے نہیں آئے۔ایک رپورٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں اس وقت ایک لاکھ افراد آئس کا نشہ کرتے ہیں جس میں بیس ہزار لڑکیاں بھی شامل ہیں اس کے باوجود صوبائی دارالحکومت میں اس لعنت کی روک تھام کے وہ اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں جن کی ضرورت ہے۔پولیس حکام کو یہ معلوم ہی ہوگا کہ اس لعنت کو پھیلانے والوں کا اصل ٹارگٹ آٹھویں نویں اور دوسویں جماعتوں کے بچے ہوتے ہیں جو کم عمری اور ناسمجھی کے باعث باآسانی شکار بھی بنتے ہیں اور منشیات فروشوں کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر تعلیمی اداروں میں منشیات پھیلانے میں بھی ملوث ہو جاتے ہیں۔سامنے آنے والی رپورٹ کے بعد صوبہ بھر کے ہائی سکولوں اور کالجوں میں بطور خاص طالب علموں کی حرکات وسکنات جانچنے اور شک ہونے پران کے والدین اور سرپرستوں کے ذریعے ان کا میڈیکل چیک اپ کرایا جائے پولیس اور انسداد منشیات کے حکام کو تعلیمی اداروں میں پھیلتی اس لعنت کی روک تھام میں سنجیدگی اور سختی سے کام لینا ہوگا تاکہ اس لعنت کی رسد روک کر ہی طالب علموں کو اس لعنت کا شکار ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور بروقت آگاہی کے ذریعے ان کے علاج پر توجہ دیں۔صرف لڑکوں ہی پر نظرنہ رکھی جائے بلکہ لڑکیوں کی بھی برابر نگرانی کی جائے۔ان کے بستے اور پرس چیک کئے جائیں ان کے سونے جاگنے اور رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو بروقت آگاہی ممکن ہوگی۔

آٹے کی سمگلنگ اور نرخوں میں اضافہ

خیبر پختونخوا میں آٹے کے نرخ میں دو روز کے دوران 500روپے فی بوری اضافہ صرف نانبائیوں کیلئے نہیں ہر شہری کیلئے باعث تشویش اور متاثر ہونے کا باعث امر ہے۔ نانبائیوں نے آٹے کی افغانستان سمگلنگ کی روکنے کا مطالبہ کردیا۔امر واقع یہ ہے کہ فائن آٹے کی 85کلو بوری کی قیمتوںمیںگزشتہ دو روز کے دوران پانچ سو روپے کا اضافہ بتایا جاتا ہے اور قیمتوں میں مزید اضافہ کے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں فائن آٹے کی بوری 4500روپے سے تجاوزکرگئی ہے حکومت آٹے کے نرخوںمیں تیزی سے اضافہ پر خاموش تماشائی کا کردار ادا نہ کرے بلکہ اس صورتحال کا سختی سے نوٹس لے کہ افغانستان کو آٹے کی سمگلنگ کے باعث خود اس کے شہریوں کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں مہنگائی کے باعث عوام کی کمر پہلے ہی ٹوٹ چکی ہے ان کی قوت خرید جواب دے گئی ہے۔آٹے کی سمگلنگ کے باعث صوبے میں آٹا مہنگا ہونا معمول کی بات ہے ایک وقت میں تو عوام چوکر کھانے پر مجبور ہوگئے تھے نانبائیوں کی جانب سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ اور سمگلنگ کی روک تھام کے مطالبے کا ایک پس منظر یہ بھی سامنے آسکتا ہے کہ نانبائی ایک مرتبہ پھر روٹی کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ کرنے لگیں اس وقت صوبے میں جو روٹی فروخت ہورہی ہے وہ مقررہ وزن کا آدھا بھی نہیں جس پر انتظامیہ نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔حکومت کو اس امر کا جہاں بطور خاص نوٹس لینے کی ضرورت ہے وہاں آٹے کی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے تمام سرحدوں چیک پوسٹوں کو ذمہ داری دی جائے اور چیک پوسٹوں اور ملکی سرحدوں سے باہر جانے والے راستوں کی پوری طرح نگرانی کی جائے تاکہ سمگلنگ کا سدباب ہوسکے۔

متعلقہ خبریں