Daily Mashriq

یہ ٹمپریچر کیوں بڑھ رہا ہے؟

یہ ٹمپریچر کیوں بڑھ رہا ہے؟

حال ہی میں بجلی کی قیمت کچھ ہی عرصے میں چوتھی بار بڑھائی جاچکی ہے اورحکومت کے مخالف کہتے ہیں کہ بہت سارے محاذوں پر حکومتی کارکردگی کے جواب میں دکھانے کوصرف میاں نواز شریف،مریم نواز اورآصف علی زرداری اوران کی بہن کی گرفتاریاں ہی ہیں،یہ لوگ کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں تقریر کا اثربھی کافی حد تک زائل ہوچکا ہے۔یہ دوسری بات ہے کہ حکومت اس تقریر کے بعد سفارتکاری ومسلم ممالک افغانستان، ایران اورسعودی عرب کے معاملات میں زیادہ سرگرم لگ رہی ہے، بعض حکومتی خیرخواہ ملک کے اندرحالات کی خرابی کو بھی بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی ایک ایسی کوشش سمجھ رہے ہیں جو حکومت کو اس "برادرانہ اسلامی سفارتکاری"اوراس جیسے اقدامات سے روکے۔

ویسے ملک کے اندر سیاسی حالات کی خرابی کی شروعات میں ہمارا غالب گمان تھا کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں حکومت اپنے اعصاب کو قابو میں رکھے گی اورطیش میں نہیں آئے گی ۔لیکن وزیراعلی محمود خان نے شانگلہ کی تقریر میں مولانا صاحب کوجس طرح چیلنج کیا کہ ''آپ میرے صوبے سے ذرا اسلام آباد پہنچ کرتو دکھائیں'' سے ہمیں جو فوری تاثر ملا وہ یہی تھا کہ شاید حکومت خود چاہتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو اشتعال دلایا جائے تاکہ وہ احتجاج کے اپنے اعلان سے پیچھے نہ ہٹ سکیں اس لئے ایسا بیان داغا گیا،یہ سلسلہ یہیں رکتا توپھر بھی کوئی بات تھی لیکن وفاق کی سطح پر بھی اعلی مقامات سے مولانا مخالف بیانات آنا جاری ہیں۔ حال ہی میں میاں نوازشریف کی اچانک پیشی کو بھی ان کے حقیقی پلان تک رسائی کی کوشش سمجھا جارہا ہے جہاں پرمیاں نوازشریف نے دھرنے اوراحتجاج سے متعلق واضح بیان دے کر حکومت کا کام آسان کردیا اورمسلم لیگ ن کے بارے میں ابہام دور ہوگیا۔

مولانا فضل الرحمن کے کارکنوں جو ان کے سیاسی اعلانات کو بھی مذہبی جوش و جذبے سے قبول کرتے ہیں اوران پرعمل کو فرض سمجھتے ہیں نے نہ صرف پشاورمیں "مارچ پاسٹ" کیا بلکہ دریا میں کشتیاں اتار کردنیا کو پیغام دیا کہ ان کی تیاری پوری ہے اوروہ ماضی قریب میں پرویزخٹک کی اسلام آباد پرچڑھائی سے زیادہ منظم انداز میں یلغارکرنے جارہے ہیں۔

دوسری جانب مولانا صاحب کے مخالفین ماضی میں ان کے مفاہمانہ کردار کا حوالہ دے کر ماحول کی اس گرمی کو بھی ان کی جانب سے کسی ڈیل کے حصول کی کوشش کہہ رہے ہیں۔

ڈیل یاڈھیل کے حصول کی منطق کے جواب میں مولانا اوران کے رفقا کارو رشتے داروں کو گرفتاریوں کا ذکرکیا جاتا ہے ۔

اسلام آباد پرچڑھائی کے نتیجے میں وہاں پردھرنے، لاک ڈاون، آزادی مارچ وغیرہ وغیرہ کے بارے میں ابھی بھی کوئی واضح فیصلہ نہیں ہوسکا اوراپوزیشن کی بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی سمیت اے این پی میں سے کسی کا واضح لائن آف ایکشن سامنے نہیں آسکا کہ وہ کس حد تک اس احتجاج میں حصہ لیں گے ماحول پرکسی حد تک ابہام طاری ہے اوررابطوں کے نتیجے میں مزید رابطوں کے علاوہ کوئی ایسی شکل ابھی نہیں بن پائی جسے دو جمع دوچارکہا جاسکے۔

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جودھرنے کو اپوزیشن سے زیادہ حکومت اورخود عمران خان کے لئے مفیدقراردیتے ہیں جن کی رائے ہے کہ انتہائی کم مارجن سے حکومت سازی کرنے والی تحریک انصاف جس کسمپرسی کی حالت میں قومی اسمبلی میں بیٹھی ہے اورسینٹ میں اقلیت کی صورت ایک بے بس زندگی گذاررہی ہے ایسے میں اگرمولانا صاحب کے اس اقدام کے نتیجے میں ان کی حکومت ختم ہوتی ہے توتحریک انصاف اسمبلیاں توڑکرٹیکنوکریٹ کی حکومت لاکر اس بے بسی سے جان چھڑاسکتی ہے جس کا یہ حکومت سازی کے پہلے دن سے شکارہے اوریا اگر وہ نئے انتخابات میں جاتی بھی ہے تو بھی وہ عوام کے پاس "شہید "ہوکر جائے گی اورپہلے سے زیادہ مینڈیٹ کے ساتھ طاقتورہوکراسمبلیوں میں واپس آجائے گی۔

یقینا یہ ملکی حالات کسی بھی حکومت کیلئے دل پسند نہیں کہے جاسکتے اسلئے بعض حلقے حالات کی اس مشکل کو پاکستان سے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی کا شاخسانہ بھی کہتے ہیں ایران اورسعودی عرب کے مابین سہولت کاری جیسے اقدامات کو وہ حکومت کے خلاف سازشوں کی وجہ قراردیتے ہیں۔ خیر اصل باتیں کھل کرسامنے آنے میں وقت ہی کتنا رہ گیا ہے ، مولانا صاحب کے دھرنے کے ساتھ ہی واقعات کے تناظرمیں حقیقی حالات بھی سامنے آچکے ہونگے۔یہ خدشات بھی اپنی جگہ موجود ہیں کہ دھرنے سے پہلے اپنی گرفتاری کے خدشے کے تحت اپنے نائبین مقرر کرنے والے مولانا فضل الرحمن کو سرپرائز بھی مل جائے کہ ان سے پہلے ان کے نائبین کو ہی ''اندر'' کر دیا جائے۔ اکتوبر کا موسم بدل رہا ہے اوریہ خطرہ بھی موجود ہے کہ اس دھرنے سے پہلے ہی اہم جماعتوں کی ہرقابل ذکر شخصیت کوجیل میں ڈال دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ ان گرفتاریوں کی صورت میں اس احتجاج کی قیادت کا سہرا کس کے سرسجے گا اورکون یہ ذمے داری نبھائے گا؟۔ غرض یہ کہ جتنا جتنا احتجاج کا وقت قریب آتا جارہا ہے سازشی نظریات اورخدشات کی فہرست طویل ترہوتی جارہی ہے اوران حالات میں حکومت کے ساتھ ساتھ خود مولانافضل الرحمن کے کاندھوں پرذمے داریوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے کہ وہ کیسے ان حالات سے ایسے نمٹیں کہ احتجاج کا جمہوری حق تو استعمال کرلیں لیکن کسی اندرونی یا بیرونی دشمن کو حالات سے فائدہ نہ اٹھانے دیں۔

متعلقہ خبریں