Daily Mashriq

نظر نہ آئی کبھی پھر وہ گاؤں کی گوری

نظر نہ آئی کبھی پھر وہ گاؤں کی گوری

اگر کہا جائے کہ' پاکستان دیہات میں بستا ہے 'تو بات غلط نہ ہوگی کیونکہ پاکستان کی ستر سے اسی فیصد تک آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے جو شہروں میں رہنے والوںکی نسبت نہایت صاف ستھری اور سیدھی سادی زندگی گزارتی ہے۔ اگر چہ ہمارے دیہاتیوں کو زندگی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے شہروں کا بھی رخ کرنا پڑتا ہے لیکن ان کی جڑیں اس ہی گاوں میں رہتی ہیں جہاں وہ پیدا ہوئے کھیلتے کودتے رہے اور پل بڑھ کر جوانی کی دہلیز پر پہنچے اور پھر عہد پیری کی جانب بڑھنے لگے۔ انہوں نے زندگی کے ابتدائی ماہ و سال کے دوران اپنے دیہاتی ماحول سے جو کچھ سیکھا ہوتا ہے زندگی بھر ان کے ساتھ رہتا ہے۔ جو ہر مجلس یا ہر محفل میں ان کی پہچان کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

شہر کی بھیڑ میں چل تو رہا ہوں

ذہن میں پر گاؤں کا نقشہ رکھا ہے

اور گاؤں کے اس نقشے میں ہماری توجہ گاؤں کی گوریوں ، گاؤں کی چھوریوں ، گاؤں کی ناریوں اور مٹیاریوں کی جانب ہے ، کیونکہ آج اکتوبر کے مہینے کی 15تاریخ ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 2008ء کے دوران منظور کی جانے والی ایک قرار دادکی روشنی میں آج کے دن کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں دیہی خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جارہا ہے ۔ کسی گاؤں قصبہ یا دیہہ کو شہروں کی نسبت محض اس لئے پسماندہ کہا جاتا ہے کہ وہاں زندگی کی وہ بنیادی سہولیات میسر نہیں ہوتیں جو شہری علاقوں میں قدم قدم پر وافر و فراواں میسر ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے دور پار کے دیہاتی روزی روٹی کی تلاش کے علاوہ دیگر مراعات کے حصول کے لئے شہروں کا رخ کرتے ہیں

جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی

مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کرلی

آئے روز شہروں کا رخ کرکے ضروریات زندگی پوری کرنے والوں میں اکثریت مردوں ہی کی ہوتی ہے۔ جب کہ دیہی خواتین کو اپنے گھروں سے نکل کر شہر سے ہو آنے کا موقع شاذو نادر ہی ملتا ہے۔ اس لئے وہ گھر کی چار دیواری کے اندر رہ کر گھر کا جھاڑو پونچھا کرنے کے علاوہ ڈھور ڈنگروں کی رکھوالی کرنا ان کے لئے گھانس پھونس کا اہتمام کرنا، اپنے حنائی ہاتھوں کی تھپکی دے کر پالتو جانوروں کے گوبر کے اپلے بنا کر ان کو دیواروں پر تھاپنا اور ایک خاص نظام الاوقات کی پابندی کرتے ہوئے پالتو جانوروں کا دودھ دھونا دہی لسی مکھن اور کورینی غوڑی یا دیسی گھی بنانے کے شغل اپنائے رکھنا ان کے معمولات میں شامل ہوتا ہے ۔ ہم پنجاب اور سندھ کے ایسے متعدد قصبوں کے نام گنوا سکتے ہیں جہاں خواتین گھرداری کے کام سنبھالنے کے علاوہ کھیتوں میں جاکر بھی کام کرتی ہیں ہماری آنکھوں نے نہایت معمولی یا برائے نام محنتانہ کے عوض دیہی خواتین کو اینٹوں کے بھٹوں پر بھی کام کرتے دیکھا ہے۔ لیکن وہ گھر یا گھرداری کے امور انجام دیتے وقت کسی قسم کا عوضانہ یا محنتانہ وصول نہیں کرتیں۔ اپنا گھر چلاتے وقت وہ وفا کے تقاضے پورے کر رہی ہوتی ہیں جس کے لئے انہیں سروں پر کورے گھڑوں کے مینارچے رکھ کر دور دراز سے پینے کا پانی بھی لانا پڑتاہے ۔گھر کی تندوری کا ایندھن اکٹھا کرنے کے لئے وہ دور پار سے سوکھی ٹہنیوں اور جھاڑیوں کا حیرت اندیز حد تک بھاری بھرکم انبار اٹھائے گاؤں کی پگڈنڈیوں پر چلتی نظر آتی ہیں ، گاؤں کی گوریوں کا کسی ندی نالے یا کنویں سے پانی لانے کا منظر دیدنی ہوتا ہے وہ اپنا یہ فرض ادا کرنے اپنی سکھیوں سہلیوں کے ساتھ ایک قطار میں چل کر اس مقام تک پہنچتی ہیں جہاں پینے کا پانی میسر ہوتا۔ اور جسے ہمارے پختون کلچر میں ''دگودر غاڑہ'' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جو وفا کی پیکر اور حسن سراپا دیہی خواتین کی وجہ سے ہمارے لوک ادب کا ایک رومانوی استعارہ بن گیا ہے۔ ہمارے لوک ادب کی رومانوی داستانوں میں ہیر رانجھا سوہنی مہینوال مرزا صاحباں سسی پنوں یوسف خان شیر بانو آدم خان درخانئی کے مرکزی کردار ان دیہی خواتین کے پر مبنی ہیں جو اپنی وفا شعاری کی مثال بن کر رہتی دنیا تک امر ہوچکی ہیں۔ تخت ہزارے کارانجھا جب جھوک سیال کی ہیر کے عشق میں گرفتار ہوکر اس کی مجھیاں چرانے لگا تو ہیر اس کی بانسری کی آواز سن کر اس کے لئے چوری کوٹ کرلیجاتی، کسی سے دل لگا کر اسے توڑ نبھانے کی جو مثالیں دیہی خواتین کا وطیرہ بنتی رہیں وہ شہروں میں بسنے والیوں کے نصیبوں میں نہ آسکا

خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو

گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں کم آتے ہیں

آپ شٹل کاک برقعہ کی جتنی چاہیں مخالفت کرلیں ہماری دیہی خواتین اس برقعہ کو اپنے لئے طرہ امتیاز سمجھتی ہیں جس میں وہ اپنے حسن سراپا کو ڈھانپ کر رکھتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہوئے دینی اقدار کا بھرم رکھتی ہیں ۔جفا کشی اور وفا شعاری کے علاوہ دینداری ان کو ان کی گھٹی میں ودیعت ہوتی ہے۔ جس طرح شہروں کی نسبت دیہاتوں میں تازہ ہوا کے جھونکے دیسی گھی کے ذائقے ملاوٹ سے پاک دودھ دہی مکھن ملتا ہے اسی طرح یہاں پردیہی بہنوں کا پیار دیہی ماؤں کی مامتا دیہی بہو بیٹیوں کا مان سب کچھ اصلی خالص اور نتھری نتھری حالت میں دستیاب ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود سرحد رورل سپورٹ پروگرام جیسی متعدد این جی اوز اس غم میں ہلکان ہو تی رہتی ہیں کہ دیہی خواتین بے ہنر اور ان پڑھ ہیں لیکن حق راستی تو یہ بھی ہے پیکر شرم وحیا سراپا مہر وفا دیہی خواتین جین کی پینٹ اور مردانہ شرٹ پہننے والی تاریک روشنیوں کی پروردہ خواتین سے بصددرجہ بہتر ہیں ۔ مگر کوئی ڈھونڈ کے لاؤ، کہاں گئی ؟ کہاں ہے وہ؟

نظر نہ آئی کبھی پھر وہ گاؤں کی گوری

اگرچہ مل گئے دیہات آکے شہروں سے

متعلقہ خبریں