Daily Mashriq

کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا

کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا

کل چند سیاسی متوالے وطن عزیز کی سیاست پر گل افشانیاں کر رہے تھے ان کو بار بار منع کیا کہ چھوڑو کوئی اور بات کرتے ہیں سیاسی بحث کب ختم ہوتی ہے آپ لوگ دیکھتے نہیں نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے وطن عزیز نے کتنے نشیب وفراز دیکھے(نشیب زیادہ اور فراز کم)سیاسی جماعتوں کی کارکردگی سب کے سامنے ہے ان پر بھی اچھے برے دن آتے رہتے ہیں کبھی اقتدار کے اندر اور کبھی باہر! اب تو اصولی سیاست کے زمانے ہم بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں آج تو اثاثوں کی سیاست کا زمانہ ہے سب اپنے اپنے گھوڑے دوڑا رہے ہیں سب کی منزل ایک ہے یہ بات اثاثے بنانے والے بھی جانتے ہیں اور عوام بھی اچھی طرح باخبر ہیں کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ شاہ سعود صاحب کی خواہش تھی کہ سب ایک ایک لطیفہ سنائیں لیکن انہوں نے ساتھ قید یہ لگا ئی کہ لطیفہ ایسا ہونا چاہیے جس میں ہمارے موجودہ حالات ہماری کوتاہیوں کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور موجود ہو۔ ہم بھی ان کی حمایت کرتے رہے ۔ ایک مہربان ہر تھوڑی دیر بعد تعلیم کے حوالے سے نئے نئے نکات بیان کرتے ان کا کہنا تھا کہ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ہمارے رہنما تعلیمی انقلاب کی باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن ابھی تک وطن عزیز میں تعلیم کے حوالے سے کوئی ٹھوس کام نہیں ہوا اب چند اطراف سے کچھ ایسی صدائیں بلند ہو رہی ہیں کہ جنہیں سن کر دل کو تسلی ہوتی ہے کہ چلیں کچھ تو ہورہا ہے اگر تعلیم کا بجٹ ہی بڑھا دیا جائے اور اسے پوری دیانت داری کے ساتھ تعلیم پر ہی خرچ کیا جائے تو یقینا اس سے بہت فائدہ ہوگالیکن اہم بات یہ ہے کہ خود کام کرنے کی ضرورت ہے اپنی تہذیب و ثقافت ، اپنے دین، اپنے ہیرو اور سب سے بڑھکر یہ کہ اپنے حالات اپنے زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے نصاب بنانے کی ضرورت ہے یہ ہماری نالائقی ، تن آسانی ، بے حسی ہے یا پھر ہمارا اختیار ہی ہمارے پاس نہیں ہے کہ ہمارے نصاب کا بیشتر حصہ باہر ہی سے آرہا ہے ہمارے بچے اجنبی تہذیب کے بارے میں پڑھتے ہیں ان کا تعارف ان میلوں ٹھیلوں ان رسومات سے کروایا جارہا ہے جو ہماری تہذیب کا حصہ ہی نہیں ہیںہمارے بچے ان شخصیات کے بارے میں پڑھتے ہیں جن سے کسی بھی حوالے سے ہمارا کوئی تعلق ہی نہیں بنتا ۔

غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے

کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا

یقینا تاریخ عا لم سے آگاہی رکھنا اور بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیات کے حوالے سے معلومات رکھنا عصر حاضر کی تعلیم کے اہم تقاضوں میں سے ہے لیکن اپنے نصا ب کو دیکھ کر تو ہمیں یوںمحسوس ہوتا ہے جیسے امت مسلمہ پر کبھی شاندار دور ہی نہیں گزرا ہم نے دنیا کو کچھ دیا ہی نہیں دنیا کی تہذیب و ثقافت میں تو ہمارا کوئی حصہ ہی نہیں ہے ! انسان نے تعلیم و تہذیب کے حوالے سے آج تک جو سفر کیا ہے اس میں ہمار ا بہت بڑا حصہ ہے لیکن اپنی سرزمین پر غیروں کے ترتیب دیے ہوئے نصاب دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ آنے والے چند سالوں میں ہماری نئی نسل اپنے اسلاف کی تاریخ ان کے کارناموں سے بالکل بے خبر ہوجائے گی۔ تعلیم کا فروغ ایک بات ہے اور کس قسم کی تعلیم ؟کس کے بارے میں تعلیم ؟یہ بالکل دوسری بات ہے عمارت کی خوبصورتی اور افادیت اسی میں ہوتی ہے کہ اس کی پہلی اینٹ درست رکھی جائے منزل تک اسی وقت پہنچا جاتا ہے جب سفر صحیح سمت میں ہو جب آپ کی سمت ہی غلط ہوگی تو پھر کیسی منزل کہاں کی منزل ؟ علامہ کی اس تحریر میں ایک جملہ ہم پر سوچ و فکر کے بہت سے در وا کردیتا ہے اور وہ جملہ یہ ہے۔ جاپانیوں نے وہ راہ اختیار کی جو ان کی قومی بقاکے لیے ضروری تھی ہمیں بھی وہی راہ اختیار کرنی چاہیے جو ہماری قومی بقا کے لیے ضروری ہو نہ کہ ہم اپنے لیے وہ راستہ چنیں جس سے ہماری قوم کی شناخت ہی مٹتی چلی جائے۔ ہماری قوم کے لیے کس قسم کی تعلیم ہونی چاہیے اس کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ اقبال لکھتے ہیں کہ میں نے جہاں تک اس مسئلہ پر غورو فکر کیا میں سمجھتا ہوں کہ تعلیم کا اصل مقصد نوجوانوں میں ایسی قابلیت کا پیدا کرنا ہے جس سے ان میں بڑے اچھے اور عمدہ طریقے سے اپنے تمدنی فرائض کے ادا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے۔ علامہ اقبال لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں اگر کسی قوم کی قوت کا اندازہ کرنا مطلوب ہوتو اس قوم کی توپوں اور بندوقوں کا معائنہ نہ کرو بلکہ اس کے کارخانوں میں جائو اور دیکھو کہ وہ قوم کہاں تک غیر قوموں کی محتاج ہے اور کہاں تک اپنی ضروریات کو اپنی محنت سے حاصل کرتی ہے !وہ صاحب اور نہ جانے کیا کیا کہتے کہ شاہ سعود صاحب کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے کہنے لگے جناب بات چلی تھی ہنسی مذاق سے اور کس طرف چل نکلی مجھے سیل فون پر ایک پیغام ابھی ابھی موصول ہوا ہے زرا یہ بھی سن لیجیے۔ اگر کوئی آپکو دوپہر تین بجے کہے گڈ نائٹ یا شام کو کہے گڈ مارننگ یا رات کو تین بجے کہے سالگرہ مبارک تو سمجھ لیں کہ وہ واپڈا کے ظلم کا شکار ہے۔

متعلقہ خبریں