Daily Mashriq

آزادی مارچ سے سیاسی مسافروں تک

آزادی مارچ سے سیاسی مسافروں تک

مکرر عرض کرتا ہوں، جے یو آئی (ف) کو اپنے مطالبات کے حق میں آزادی مارچ کرنے کا آئینی اور جمہوری حق ہے، مذہبی کارڈ کھیلنے کی کوشش کوئی بھی کرے ناپسندیدہ عمل ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک فریق کے کھیلے گئے مذہبی کارڈ کے دفاع میں زم زم سے دلائل لکھے جائیں اور دوسرے فریق کو وحدت وسماج اور جمہوریت دشمن قرار دیا جائے۔ تحریک انصاف اور جے یوآئی (ف) دونوں کو احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ ہم جولائی1977ء یا اکتوبر1999ء کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ آگے بڑھنے سے قبل دو تین خبروں پر بات کرلیتے ہیں، اتوار کے روز سندھ کے وزیراعلیٰ سیدمراد علی شاہ نے کہا کہ ''آئی جی پولیس نے انہیں بتایا ہے کہ کراچی اور سندھ میں بیروزگاری اور معاشی بدحالی کی وجہ سے کرائم میں اضافہ ہوا''۔ بلاشبہ دونوں باتیں اہم ہیں انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہ بھی تو بتایا جائے کہ پچھلے گیارہ برسوں سے مسلسل سندھ میں برسراقتدار پیپلز پارٹی کی حکومت نے صوبے میں غربت وبیروزگاری ختم کرنے اور معاشی ابتری سے نجات کیلئے اب تک کیا کیا؟ سندھ حکومت کے راستے میں اگر کوئی رکاوٹ تھی یا ہے تو صوبے کے شہریوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حال ہی میں کراچی کے ضلع ملیر کی ضلع کونسل کے چیئرمین اور ساتھیوں پر جو اڑھائی ارب روپے غیرضروری مدوں میں برباد کرنے کے الزامات سامنے آئے ان کے حوالے سے حکومت نے کیا کیا؟ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سندھ کے حوالے سے پنجاب میں میڈیا کے یکطرفہ پروپیگنڈے کی حقیقت لوگ جانتے ہیں لیکن خود پیپلز پارٹی کے اپنے ذرائع جن مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں ان کے حل کیلئے حکومت نے اب تک کیا کیا اور یہ کہ کچھ کرنے کا ارادہ بھی ہے کہ یا پھر سیاپوں اور بیانات سے کام چلایا جاتا رہے گا۔دوسری قابل توجہ خبر ورلڈ بینک کی پاکستان کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ''پاکستان اگلے دو برسوں میں بھی مالی خسارہ کم نہیں کر سکے گا۔ غربت میں کمی کیلئے پیش رفت رُک جائے گی، پاکستان جنوبی ایشیاء میں اپنی استعداد کے برعکس 50فیصد کم نشونما کر رہا ہے۔ شرح نمو اور دیگر مسائل ومشکلات اور ناقص اقدامات کے حوالے سے ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مندرجات ہمارے عالمی شہرت یافتہ معاشی نابغوں کے دعوؤں کی تائید نہیں کرتے۔ اگلے روز مختلف حکومتوں (پرویز مشرف اور گیلانی حکومت) میں معاشی جادوگری دکھانے والے موجودہ حکومت کے مشیرخزانہ لمبی چوڑی پریس کانفرنس میں یہ سمجھاتے بلکہ رٹواتے ہوئے پائے گئے کہ سب اچھا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے ہمارے اقدامات کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ مگر ورلڈ بینک کی رپورٹ حفیظ شیخ اور ہمنواؤں کا منہ چڑھا رہی ہے۔ سیاست وصحافت کے دوسرے طالبعلموں کی طرح مجھے بھی حیرانی ہے کہ قرضوں اور امدادوں پر معیشت کی عمارت اُٹھانے پر یقین رکھنے والے حفیظ شیخ کو صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کی زحمت کیوں دی گئی؟ کیا بائیس سال سے جدوجہد کرنے والی تحریک انصاف ایک بھی ایسا معیشت دان تلاش نہیں کرپائی تھی جو قرضوں اور امدادوں کے سرطان کا علاج سرمایہ کاری کے ذریعے کر سکتا؟۔سو ملکی میڈیا کی طاقت کو مخالفین کے لتے لینے کیلئے جیسے استعمال کرنے والی تحریک انصاف اب اس سوشل میڈیا سے تنگ آچکی۔ حکومت کے چند وزراء تو کابینہ کے متعدد اجلاس میں باضابطہ طور پر یہ تجاویز پیش کرچکے ہیں کہ ''ہمارا معاشرہ سوشل میڈیا کا متحمل نہیں اس پر مکمل پابندی لگا دینی چاہئے۔ وفاقی وزیر کو تو شرف قبولیت نہ مل پائی مگر یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ پچھلے دور میں سوشل میڈیا کیلئے بنائے جانے والے قوانین کو فعال کیا جائے۔ اسی لئے اب بظاہر قابل اعتراض مواد کیخلاف کارروائی کا کہا جارہا ہے لیکن درحقیقت وفاقی حکومت نے این آئی ایف کو ہدایت کردی ہے کہ قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کیساتھ سوشل میڈیا پر حکومت مخالف تحریروں کو بھی نفرت انگیز مواد میں شمارکرتے ہوئے ایسے افراد کیخلاف سائبر کرائم کے قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔ آن لائن پورٹل پر کسی بھی شہری کی شکایت کے بعد معاملہ سائبر کرائم ونگ کے پاس چلا جائیگا۔ وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا کے حوالے سے 31 سرکاری (وفاقی وصوبائی) اداروں کو کارروائی کا اختیار دیا ہے۔ حکومت کے ناقدین کہہ رہے ہیں کہ نفرت انگیز مواد کی آڑ میں اصل میں حکومت مخالف جماعتوں اور فوری طور پر آزادی مارچ والوں کی سوشل میڈیا پر سرگرمیاں روکنے کیلئے یہ فیصلہ ہوا ہے۔ سچ پوچھیں تو حکومت کے اس فیصلے پر تحفظات بلاوجہ ہرگز نہیں، آزادی اظہار کیلئے بلند وبانگ دعوے کرتی اور نعرے مارتی تحریک انصاف منفی اقدامات کو ضروری کیوں سمجھتی ہے، اس کی وضاحت ازحد ضروری ہے۔ ہمیں بطورخاص یہ سمجھنا ہوگا کہ آزادی اظہار پر قدغنوں سے افواہیں جنم لیں گی جو زیادہ خطرناک ہوگا۔ یہ بجا ہے کہ حکومت سوشل میڈیا کیلئے ان سائٹس کے مالکان سے مشاورت کرکے ضابطہ اخلاق بنائے'حرف آخر یہ ہے کہ آزادی مارچ کے حوالے سے تحریک انصاف کی صفوں میں موجود سیاسی مسافروں کے بیانات ویسے ہی ہیں جیسے ہر بستہ بردار کے ہوتے ہیں۔ رائے عامہ کا بڑا طبقہ یہ کہہ رہا ہے کہ تحریک انصاف کیلئے زیادہ مشکلات ان سیاسی مسافروں نے پیدا کی ہیں جو ہر حکومتی بس کے مستقل سوار ہوتے ہیں۔ یہ رائے بہرطور قابل غور ہے کیا ہم اُمید کریں کہ تحریک انصاف کے نظریاتی کارکن اور رہنما اس پر توجہ دیتے ہوئے اصلاح احوال کیلئے کوئی قدم اُٹھائیں گے؟۔

متعلقہ خبریں