Daily Mashriq

بی آرٹی،حکومت کامنصوبہ کی تکمیل کی تاریخ دینے سے انکار

بی آرٹی،حکومت کامنصوبہ کی تکمیل کی تاریخ دینے سے انکار

پشاور(سپیشل رپورٹر)خیبر پختونخوا حکومتنے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبہ کی تکمیل کی تاریخ دینے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت جلد از جلد بی آر ٹی منصوبہ مکمل کرے گی اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ بی آر ٹی منصوبہ کی لاگت86ارب روپے تک پہنچ چکی ہے مگر حکومت حقائق چھپا رہی ہے۔ پیر کے روز اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران اے این پی کی شگفتہ ملک نے بی آر ٹی کے حوالہ سے سوال کیا۔ جس پر وزیر قانون سلطان خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ منصوبہ کی تکمیل کی حتمی تاریخ نہیں دے سکتے تاہم کوشش ہے کہ منصوبہ جلد مکمل ہوسکے۔ بی آر ٹی کی لاگت66ارب روپے ہے اس سے رقم تجاوز نہیں کی گئی۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کو فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق بی آر ٹی منصوبے کی اصل لاگت 49 ارب روپے تھی جو نظرثانی شدہ تخمینہ میں بڑھ کر 66 ارب روپے تک پہنچ گئی ۔ اصل منظور شدہ پی سی ون میں مشترکہ طور پر ایشین ڈویلپمنٹ بنک اور خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے مالی وسائل فراہم کیاجانا تھے لیکن اے ڈی بی کی جانب 335 ملین ڈالرز دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق بی آر ٹی لاگت بڑھنے کی وجہ اضافی کام تھا جن اضافی کاموں کی نشاندہی کی گئی ہے ان کے مطابق منظور شدہ پی سی ون میں صرف بس ، انتظار گاہ داخلی اور خارجی راستے کی منظوری تھی جبکہ منظور شدہ پی سی ون میں راستوں کی بحالی ، یوٹرنز اور پیدل چلنے والوں کے لئے راستے کو شامل کیا گیا ہے ۔ چمکنی بس ڈپو میں انٹر سٹی ٹریفک کے لیے اضافی فلائی اووربنایا گیا ہے انڈر پاس پر پیدل چلنے والوں کے لیے پل تعمیرکیا گیا، دو فلائی اوور بنائے گئے حیات آباد میں کارخانو مارکیٹ راستے کو شامل کیا گیا۔ پی سی ون کے مطابق بی آر ٹی منصوبہ 14 اگست 2017 کو مکمل ہونا تھا لیکن منظور شدہ پی سی ون کے مطابق اس کی تکمیل 30 جون 2019 ہونا تھی تاہم اس پر ابھی بھی کام جاری ہے۔

متعلقہ خبریں