Daily Mashriq


عازمین حج کے معاملے کا دونوں حکومتیں مل کر جائزہ لیں

عازمین حج کے معاملے کا دونوں حکومتیں مل کر جائزہ لیں

سعودی حکومت کی جانب سے پاکستانی حجاج کرام کو سہولیات کی عدم فراہمی' معاہدے کے مطابق بعض عازمین حج کو ٹرانسپورٹ کی سہولت نہ دینے اور نا قص انتظامات سے متعلق پاکستان کے وزارت مذہبی امور کی جانب سے سعودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے کو خلاف حقیقت قرار دے کر اس کی وضاحت کردی گئی ہے کہ اس سے سعودی حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔ پاکستانی حکام نے اپنی مرضی سے کمپنیوں سے معاہدے کئے۔ اپنے ملک کے عازمین حج کے قیام' طعام اور سہولیات کی فراہمی پاکستانی حکام کی ذمہ داری ہے۔ ہمارے تئیں پاکستانی وزیر مذہبی امور کو ملنے والی عازمین حج کی شکایات بھی سنجیدہ نوعیت کی تھیں جس سے انکار ممکن نہیں لیکن ان کا تعلق سعودی حکومت کی بجائے سعودی کمپنیوں سے ہی ہونا ممکن ہے۔ اگر سعودی قوانین اور نظام کے تناظر میں دیکھا جائے تو طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کی شکایت کی صورت میں اس پر فوری کارروائی ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیر مذہبی امور اور وزارت کے حکام نے کیا سعودی حکومت اور متعلقہ محکمے سے اس ضمن میں رابطہ کیا تھا اور اس کی شکایت کی گئی تھی۔ اگر ایسا کیا گیا تھا تو اس کا کیا رد عمل آیا تھا۔ بہر حال اس سے قطع نظر اصل صورتحال اور مسئلہ یہ ہے کہ سعودی عرب میں عازمین حج کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجوہات جو بھی ہوں اور اس کی ذمہ داری سعودی حکومت یا متعلقہ کمپنیوں پر عائد ہوتی ہے یا نہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزارت مذہبی امور کے متعلقہ حکام نے اس امر کو یقینی کیوں نہ بنایا کہ وہ عازمین حج کی موقع پر مدد کرکے شکایات کا ازالہ کرتے اور ان کے مسائل کے حل کی سبیل ڈھونڈتے۔ اس بارے دوسری رائے نہیں کہ موجودہ وفاقی وزیر مذہبی امور کو اپنی وزارت اور حج کے معاملات کا علم اور تجربہ حاصل ہے۔ ان کی وزارت میں کبھی بھی عازمین حج کی سنگین شکایات سامنے نہیں آئی تھیں اور نہ ہی بڑے پیمانے پر کرپشن اور بد معاملگیوں کی سن گن تھی لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عازمین حج کو شکایات کا موقع ملا ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ ہمارے تئیں دیگر بد انتظامیوں کے برعکس عازمین حج کا معاملہ زیادہ سنگین اور قابل توجہ اس لئے ہے کہ یہ مالک حقیقی کے مہمان ہوتے ہیں جن کے آرام و اکرام کا خیال بساط بھر رکھنا حکومتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ دینی و مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ چونکہ حجاج کرام کا تعلق ملک کے کونے کونے سے ہوتا ہے اس لئے جب احسن انتظامات کئے جاتے ہیں تو حجاج کرام واپسی پر اپنے ملنے والوں سے اس کا ضرور تذکرہ کرتے ہیں اور جب ان کو مشکلات و بد نظمی کا سامنا ہو اور ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری نہ کی جائے تو اس کا اظہار بھی فطری بات ہے بلکہ تکلیف رسیدگی پر اس کی شکایت زیادہ شدت سے ہوتی ہے۔ جس سے اس حکومت اور وزارت کے حوالے سے عوام میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔ ایک سابق دور حکومت میں جب عازمین حج کو حد سے زیادہ مشکلات کاسامنا کرنا پڑا اور بعد ازاں یہ سکینڈل بھی سامنے آیا تو اس حکومت کو جس بدنامی اور سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کی یادیں اور اثرات اب بھی باقی ہیں۔ اس بنا پر اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مالک حقیقی کے گھر جانے والے ان کے مہمانوں کو تکلیف کیوں پہنچی اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اس میں کہاں کہاں کوتاہیاں اور غلطیاں ہوئیں ان تمام اسباب و علل کا جائزہ لینا اور معاملے کی تہہ تک پہنچنا خود حکومت کے اپنے مفاد میں ہے۔ عازمین حج کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ وقت تو گزر گیا اب زیادہ سے زیادہ جن جن کو جو سہولت ملنی تھی اور اس کے لئے ان سے جو رقم وصول کی گئی تھی اس کی واپسی ہی ہوسکتی ہے۔ وزارت مذہبی امور اگر سب سے پہلے اس ضمن میں معذرت خواہی کرے تو اس سے عازمین حج کی تسلی ہوگی اور وہ اس امر کو محسوس کریں گے کہ متعلقہ وزارت کو ان کی مشکل کا احساس ہو چکا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی امید ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے معاملات میں معاہدہ کرنے والے فریقوں کے درمیان کوئی خاموش مفاہمت اور نا پسندیدہ خفیہ ڈیل کے امکان کو رد نہیں کیاجاسکتا۔ لیکن بہر حال اس کی تحقیقات کے بعد ہی اصل صورتحال سامنے آئے گی۔ وزارت مذہبی امور کی جو کارکردگی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا وتیرہ تھا اس میں ناکامی اور پہلی مرتبہ سنگین نوعیت کی شکایات کا سامنے آنا حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے ۔مالک حقیقی کے مہمانوں کی قدر و منزلت میں سعودی حکومت اور سعودی عوام کی مہمان نوازی اور سعودی حکومت کی جانب سے حجاج کرام کو ہر ممکن سہولتوں کی فراہمی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ اربوں ریال کے منصوبوں کے ذریعے حجاج کرام کو بہ سہولت اور بحفاظت حج کی سعادت حاصل کرنے کی سعی ضرور ہوئی ہے لیکن دوسری جانب اس امر کا بھی خیال رکھنا سعودی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ مالک حقیقی کے مہمانوں سے اس کی سرزمین پر کسی کمپنی اور کسی گروپ کو دھوکہ دہی یا ان کے حق اور سہولتوں میں کمی لانے کی کوتاہی نہ ہونے پائے۔ بہتر ہوگا کہ اس معاملے کو الزام تراشی اور صفائی دینے کا ذریعہ بنانے کی بجائے دونوں حکومتوں کے نمائندے مل بیٹھ کر اس صورتحال کا جائزہ لیں جو عازمین حج کو درپیش ہوئی۔ اس کی ذمہ داری کا مل بیٹھ کر تعین کیا جائے اور صورتحال کے تناظر میں ضروری کارروائی کے علاوہ آئندہ اس طرح کی صورتحال کے پیش آنے کے امکانات کو ختم کرنے کے لئے طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ اس طرح کی صورتحال آئندہ پیش نہ آئے جو دونوں حکومتوں کے لئے خجالت کا باعث ثابت ہو۔

متعلقہ خبریں