Daily Mashriq


سب ٹھیک نہیں کچھ ضروری اقدامات کی ضرورت ہے

سب ٹھیک نہیں کچھ ضروری اقدامات کی ضرورت ہے

خیبر پختونخوا کی حکومت اور محکمہ تعلیم معیار تعلیم اور نظام تعلیم کی بہتری کیلئے گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہوں گے۔ تعلیم کے شعبے پر توجہ بھی دی جارہی ہوں گی ان تمام دعوئوں کی گنجائش تو نکلتی ہے لیکن اس دعوے کی گنجائش نہیںکہ تعلیمی شعبے کی بہتری کیلئے کوئی ایسے انقلابی نوعیت کے اقدامات کئے گئے جس کا نتیجہ مثبت آیا ہو ۔ ہمیں محکمہ تعلیم میں اصلاحات اور خطیر فنڈ مختص کرنے سے انکار نہیں ہمیں صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کی نیت پر بھی شبہ نہیں لیکن اگر یہ قراردیا جائے کہ محکمہ تعلیم کا قبلہ درست ہو چکا اور معیار تعلیم میں نمایا ں بہتری آئی ہے یا پھر لاکھوں طالب علم نجی سکولوں سے سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلہ لے چکے ہیں تو ان دعوئوں کو برعکس ہی قرار دیا جائے گا ۔ ہمارے تئیں تعلیم کے شعبے میں بہتری لانا ہی کوئی آسان کام نہیں کجا کہ اس حوالے سے ایسا تاثر دینا بڑے مسائل حل ہو چکے ہم سمجھتے ہیں کہ شعبہ تعلیم میں بہتری لانے کیلئے جتنے بھی اقدامات کئے جائیں وہ کم ہی متصور ہوں گے بنا بریں اس امر کی سعی ضرور جاری رکھی جائے مگر ان کو کافی جان کر جتلانے سے گریز کیا جائے۔ صوبے کے تعلیمی اداروں کی حالت زار صرف فرنیچر کی فراہمی سے یا عمارتوں کو رنگ و روغن کرنے سے بہتر نہیں ہو سکتی۔ صوبے کے تعلیمی اداروں میں وسائل کی کمی کے باعث مشکلات ہونے سے صرف نظر ممکن ہے لیکن جو بنیادی مسئلہ ہے وہ یہ کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ تنخواہ اور مراعات پوری اور تسلسل کے ساتھ وصول کرتے ہیں مزید مراعات کیلئے مطالبات اور احتجاج سے بھی دریغ نہیں کرتے مگر افسوس صد افسوس طالب علموں کو ایمانداری سے پڑھانے پر توجہ کم ہی دیتے ہیں غیر حاضری اور چھٹی کر کے واپسی پر دستخطوں کے ذریعے دھوکہ دہی اور فریب کاری معمول ہے مانیٹرنگ کے نظام کے باوجود اس کی روک تھام نہ کی جاسکی ہے۔ اساتذہ کے اس رویے کے باعث حکومت کے تمام اقدامات کا لاحاصل جانا اچنبھے کی بات نہیں۔ صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کو یہ مشکل بھی ضرور درپیش ہوگا کہ وہ ان سرکاری ملازمین کو بیک جنبش قلم ہٹا بھی نہیں سکتے ایسا ممکن نہیں لیکن اگر ہر سکول کی بنیاد پر جہاں محولہ خصائص و افعال کے حامل اساتذہ اور استانیاں موجود ہوں اگر ان کے خلاف ملازمتی اصولوں اور موجود قوانین کے تحت سخت سے سخت کارروائی کا ایک سلسلہ شروع کیا جائے اور یہ امر یقینی اور صاف طور پر نظر آئے کہ کس اقدام کی سزا کیا ہوگی اور کس اقدام پر سروس رولز میں جزاء و سزا کی جو گنجائش موجود ہے اس میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کسی مصلحت سے کام نہیں لیں گے۔ ایک مرتبہ سخت احتساب کا عمل شروع کرکے اس پر کار بند رہا جائے تو ان عناصر کا قبلہ درست کرنا زیادہ مشکل نہ ہوگا۔ مگر حکومت ایساکرے تو۔

چترال میں منشیات کی وباء کی روک تھام کی ضرورت

جماعت اسلامی کے سینئر رہنما اور چترال سے سابق رکن قومی اسمبلی کی جانب سے چترال میں منشیات فروشوں کے دندناتے ہوئے پھرنے اور ضلعی پولیس سربراہ کی خاموشی پر احتجاج بیجا نہیں۔ امر واقع ہے کہ چترال میں صرف حالیہ دنوں نہیں بلکہ ایک عرصے سے منشیات فروشی کا دھندہ عروج پر ہے۔ اسے ایک افسوسناک حقیقت ہی گردانا جائے گا کہ منشیات چترال پہنچانے کے مذموم دھندے میں وہ عناصر پیش پیش بتائے جاتے ہیں جن پر شک و شبہ اس لئے نہیں کیا جاسکتاکہ یہ عناصر کی اختتام ہفتہ چترال آمد و رفت رہتی ہے۔ بہر حال یہ تو ایک پہلو تھا چترال میں منشیات لانا اور منشیات فروشی کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ اس کی روک تھام کے ذمہ داروں کی جانب سے چشم پوشی کا مظاہرہ ہے جس کی بناء پر منشیات فروشوں اور منشیات لانے والوں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ ضلعی پولیس سربراہ سے فاضل رکن اسمبلی کی شکایت اپنی جگہ بہر حال من حیث المجموع چترال کا معاشرہ منشیات کے باعث تباہی کے جس دھانے پر کھڑا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ معاشرہ جلد تباہ ہو جائے گا اور نوجوان نسل کا مستقبل دائو پر لگ جائے گا۔ چترال میں منشیات کی سپلائی اور منشیات فروشی کی روک تھام اور نشے میں مبتلا افراد تک رسائی کسی بھی دوسرے علاقے سے سہل اور آسان ہے ۔چترال پولیس اگر ریش' شعور' کوراغ' گرم چشمہ' دروش ارندو اور اس جیسے دیگر مقامات پرکھلم کھلا دیسی شراب کی تیاری اور چرس کی فروخت کی روک تھام کے لئے سنجیدہ کارروائی کرے تو اس لعنت کی روک تھام نا ممکن نہیں۔ آئی جی خیبر پختونخوا کو چترال میں منشیات فروشی پر متعلقہ حکام سے باز پرس کرنے میں تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں