Daily Mashriq

مجھے کیوں نکالا؟

مجھے کیوں نکالا؟

کہا جاتا ہے کہ جج نہیں بولتے ان کے فیصلے بولتے ہیںلیکن عدالت عظمیٰ کا 28جولائی کافیصلہ وہ نہیں بولا جومعزز جج تمام کارروائی کے دوران بولتے رہے۔ اس کا فائدہ ملزم میاں نواز شریف نے اُٹھایااور پروپیگنڈے کے ذریعے خودکو معصوم جب کہ معزز عدلیہ کو گنہگار ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اب جب کہ ان کی نظرثانی کی اپیل معزز عدلیہ کے سامنے ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ عدلیہ کو یہ بیان کرنے کاموقع مل گیاہے کہ ''آپ کو کیوں نکالا۔''سی ملک میں عدلیہ کی توہین اس منظم طریقے سے کبھی نہ ہوئی ہو گی جس طرح پاکستان میں پانامہ سکینڈل کے فیصلے کے بعد سابق وزیر اعظم اور ان کی جماعت کی جانب سے کی گئی۔ معززججوں کے پاس کوئی ایسا فورم یا راستہ نہیں ہوتاکہ وہ اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواب دے سکیں یا اپنے دیے گئے کسی فیصلے کادفاع کر سکیں۔ اس صورت حال کا فائدہ اُٹھا کر عدلیہ کے فیصلے کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیااور یہ تاثر دینے کی مذموم کوشش کی گئی جیسے عدلیہ نے جان بوجھ کر یا کسی اور کے کہنے پر میاں نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔ اوپر سے لے کر نیچے تک حکومتی جماعت کے لوگ کھلے عام یہ پروپیگنڈا گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے کر رہے ہیں اور انہیں روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں ہے۔ افواجِ پاکستان اور عدلیہ وہ ادارے ہیں جن کے تقدس اور جنکی عزت کا خیال رکھنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص یا جماعت یا گروہ ان اداروں کی حرمت کاپاس نہیں رکھتا اور ان کی توہین کرتا ہے تو حکومت حرکت میں آتی ہے اوراپنا آئینی و قانونی فریضہ سرانجام دیتی ہے۔ یہاں تو ان دونوں اداروں کی عزت کا جنازہ نکال دیاگیاہے ، کیا حکومتی وزراء اور کیا سابق وزیر اعظم اور ان کی فیملی کے اراکین سب کھلے عام اپنے بیانات اور تقاریر میں ایسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں جن نے ان اداروں کے خلاف نفرت پھیلنا یقینی ہے۔ میں نے ان کالموں میں لکھا ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائدین اپنے اداروں کے خلاف جو لب ولہجہ استعمال کررہے ہیں اس کی وجہ سے نچلی سطح کے کارکنوں اور مسلم لیگ ن کے ووٹرز کے ذہنوں میں اپنی فوج اور عدلیہ کے بارے میں نفرت پیدا ہو رہی ہے۔ یہ کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ اپنی معصومیت کو ثابت کرنے کے لیے جو پانامہ مقدمے میں واضح طور پر دکھائی نہیں دے رہی فوج کو بدنام کیاجائے اور عدلیہ کوبحیثیت ادارہ نقصان پہنچایا جائے کہ اس کی ساکھ ختم ہو کر رہ جائے۔ جس عدلیہ کے فیصلے کو آپ تسلیم کرنے سے انکاری ہیں کل اس عدلیہ کافیصلہ کوئی اور کیسے تسلیم کرے گا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ وطن عزیز میں جو غلط روایت ڈال رہے ہیں اس کا منطقی انجام انارکی اور صرف انکارکی ہے۔ اس رویے کو کیا وطن دوستی کا نام دیاجاسکتاہے؟ وطن دوستی کے تقاضے بھلا کر مسلم لیگ ن اور اس کی اعلیٰ قیادت نے جس روش کو اختیار کیا ہے اس کے خطرناک نتائج سے اللہ پاکستان کو محفوظ رکھے۔ لیڈر شپ کا امتحان ایسے ہی کڑے وقتوں میں ہوتا ہے، بدقسمتی نے میاں نواز شریف کے دروازے پر دستک دی تو انہوں نے ملک کی قسمت سے کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک قومی سطح کا لیڈر اپنے ملکی اداروں کی بے توقیری کا یوں سامان کرے گا ، اس کی توقع کم ازکم مجھے نواز شریف سے نہ تھی۔ مجھے ایک فیصد بھی اس بات کا شائبہ نہیں ہے کہ معزز عدلیہ نے کسی اور ادارے کے کہنے پر نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنایا ہو، عدلیہ اور فوج کے درمیان یہ گٹھ جوڑ اب ٹوٹ چکا اور ویسے بھی اس طرح کی حرکتیں ہمیں فوجی ادوار میں نظر آتی ہیں۔جس عدلیہ کے بارے میں منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اُس نے عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری کی جنگ ایک آمر سے دوبدو لڑی ہے۔جنرل مشرف کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہونے والی عدلیہ کو بے توقیر کرنے سے نواز شریف اور ان کی جماعت نے اپنی اس جدوجہد پر پانی پھیر دیا ہے جو انہوں نے عدلیہ بحالی تحریک میں کی تھی۔عدالتِ عظمیٰ کے پانچ معزز ججوں نے 28 جولا ئی کا فیصلہ دیا تو یہ بات زبان زدعام تھی کہ نواز شریف پانامہ مقدمے میں سامنے آنے والے حقائق کی وجہ سے سزا سے بچ نہ پائیں گے۔ ان کے حمایتیوں کی رائے اس خوش فہمی پر مبنی تھی کہ نواز شریف چونکہ عدالتوں سے ہمیشہ بچ کر نکل گئے ہیں چنانچہ اس مرتبہ بھی ان کا بال بیکا نہ ہوگا۔ ان کے حمایتی اقرار کرتے تھے کہ جو کچھ پانامہ مقدمے میں سامنے آیا ہے وہ قابلِ گرفت اور قابل گردن زدنی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ انہیں یقین تھا کہ عدالت ان کے لیڈر کو سزاسنانے کی جرأت نہ کر سکے گی۔ عدالت کے معزز ججوں نے اپنے بارے میں پائی جانے والی اس غلط فہمی کو رد کیا اور میرٹ کی بنیادپر پانامہ مقدمہ کے فیصلے کو سنانے کی جرأت کی۔ کوئی بھی شخص جو اول دن سے پانامہ کیس کی تفصیلات سے آگاہ رہاہو اور جس نے جے آئی ٹی کی فائنڈنگ رپورٹ کامطالعہ کیاہووہ یہ کہنے کا روادار نہیں ہو سکتا کہ عدلیہ کافیصلہ میرٹ پر مبنی نہیں تھا۔عدالت نے اپنی مکمل تسلی کے بعدنوازشریف، ان کے فیملی اور اسحق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس بنانے کا فیصلہ سنایا اور میاںنواز شریف چونکہ ایک نئے انکشاف کے نتیجے میں نااہلی کے زمرے میں آتے تھے اس لیے عدالت نے انہیں اس وجہ کی بنیاد پر نااہل قرار دے دیا۔ عدالت کے دو ججوں نے وزیر اعظم کے بیانات میں تضاد کی بنیاد پرپہلے ہی قرار دے دیا تھا کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے ہیں۔جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد لارجر بنچ کے باقی تین ججوں کی رائے بھی وہی ہے چونکہ 28جولائی کا فیصلہ اس فیصلے کاتسلسل قرار دیاگیاہے جو 20اپریل 2017ء کو عدالت نے سنایا تھا۔ مجھے قوی یقین ہے کہ عدالتی فیصلے کو جس طرح تنقید کانشانہ بنایاگیاہے اس کوملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عدلیہ کے پانچ معزز جج نظرثانی اپیل کا فیصلہ لکھیں گے اور قوم کو بتائیں گے کہ نواز شریف کوانہوں نے کیوں نکالا۔ اس فیصلے کے بعد شاید نواز شریف سڑکوں پر آ کر دوبارہ یہ پوچھنے کی زحمت گوارہ نہیں کریں گے کہ ''مجھے کیوں نکالا؟''۔

متعلقہ خبریں