Daily Mashriq

پاک بھارت تعلقات کا انجماد

پاک بھارت تعلقات کا انجماد

بھارت کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ جو بلحاظ عہدہ کشمیر میں سرگرم بھارتی فورسز کے سربراہ بھی ہیںنے مقبوضہ جموں وکشمیر کا چار روزہ دورہ کیا ۔وہ پیلٹ گنوں اور گولیوں کا شکار کشمیر یوں کے لئے اب ''شاخ ِزیتون '' لئے پھر تے رہے ۔کشمیریوں کے زخموں کو مندمل کرنے کی بات کرتے رہے ان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی خواہش کا اظہا رکر تے رہے ۔انہوں نے کشمیر کی خصوصی شناخت کی حامل بھارتی آئین کی شقوں کے معاملے میں کشمیریوں کی سوچ کے احترام کے اعلانات کئے اور کشمیریوں کو سیاحت اور ترقی کے نئے سراب او رخواب دکھا کر واپس چل دئیے ۔راجناتھ سنگھ نے کشمیر کے حوالے سے پانچ نکات کاا علان کیا جن میں مسائل کا حل ہمدردی روابط ،بقائے باہمی ،اعتماد سازی اور مستقل مزاجی شامل ہیں۔بھارت کے رویے میں تبدیلی کے آثار ہویدا ہیں ۔اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔اس کی پہلی وجہ تو یہی ہے کہ کشمیری نوجوان بھارت کی کسی بھی تدبیر کے آگے جھکنے سے انکاری ہیں ۔بھارت کا ظلم ان کے جذبات کو بھڑکاتا اور کشمیر کے حالات کے لئے آگ پر پٹرول کا کام کرتاہے ۔طاقت اور جبر کی بھارتی پالیسی کشمیر میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے ۔اس کی دوسری وجہ کشمیر کی صورت حال کے باعث بھارت کی عالمی سطح پر بدنامی ہے ۔کشمیر پر ہونے والے مظالم نے بھارت کی امن پسندی اور سیکولر روایات کا کھوکھلا پن زمانے پر عیاں کر دیاہے۔اس کی تیسری وجہ چین کا غیر معمولی دبائو ہوسکتا ہے ۔چین نے برکس اعلامیے میں بھارتی پسند کے چند الفاظ شامل کرنے سے بے سبب'' فیس سیونگ'' نہیں دی ہوگی بلکہ گمان غالب ہے کہ اس کے بدلے پاکستان کے ساتھ جامع مفاہمت اور کشمیر میں ظلم کی پالیسی نرم کرنے کی ضمانت بھی حاصل کی ہوگی ۔چین جہاں امریکہ کو نظر انداز کرتے ہوئے افغان مسئلے کو اپنے انداز سے حل کرنے کی راہ پرچل نکلا ہے وہیں کشمیر اور پاک بھارت معاملات کو بھی اب امریکہ کے حوالے کئے رکھنے کی بجائے اس معاملے کو اپنے انداز سے حل کرنے کی راہ اختیار کر تا نظر آرہا ہے۔اگر یہ بات درست ہے تو پھر بھارت کے اخلاص کے مراحل اور امتحانات ابھی باقی ہیں ۔بھارت کا ماضی بتا رہا ہے کہ وہ کشمیر پر ہٹ دھرمی کے سوا کسی آپشن پر یقین نہیں رکھتا ۔بھارت کی اسی منجمد اور ہٹ دھرمی پر مبنی سوچ کی صلیب پر کشمیر ستر برس سے جھولتا چلا جا رہا ہے۔وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے غیر ملکی میڈیا سے وابستہ صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی موجودہ کیفیت کو منجمد قرار دیا ہے ۔گویا دونوں ملکوں کے تعلقات جہاں تھے جیسے تھے کی بنیاد پر فریز ہو کر رہ گئے ہیں ان میں مزید ابتری یا بہتری کی فی الحال کوئی صورت نہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ اس وقت ٹریک ٹو ڈپلومیسی والوں کا کاروبار پوری طرح مندی کا شکار ہے ۔بین الاقوامی پروجیکٹس کے طور پر پاک بھارت امن کے نام پر کام کرنے والی این جی اوز غیر فعال ہو کر رہ گئی ہیں ۔دوبئی،نیپال ،لندن ،بنکاگ ،بیلجئم اور واشنگٹن میں پیپل ٹو پیپل رابطوں کے نام پر پرتعیش محفلوں کا دھندہ تھم سا گیا ہے۔فی زمانہ جنگ ہی کاروبار نہیں بلکہ امن بھی ایک صنعت بن گیا ہے ۔دلچسپ بات یہ کہ جنگوں کے لئے اسلحہ بیچنے والے اور طبل جنگ بجانے والے بھی وہی ہیں اور پھر امن کے نام پر محفلیں سجانے اور امن کا راگ الاپنے والے بھی وہی ہیں۔اس تضاد کو کیا نام د یا جائے؟۔نوے کی دہائی سے شروع ہونے والا پاک بھارت امن عمل دھوم دھڑکے سے دو دہائیوں تک جا ری رہا ۔مقصد یہ بتایا گیا کہ دونوں ملکوں کی حکومتیں حالات کی قید میں اور مصلحت کی زنجیروں میں جکڑی گئی ہیں ۔عوام اور فوجی اداروں کا دبائو انہیں بڑے فیصلوں سے روک رہا ہے ۔خارجہ وزارتوں کے روایتی انداز اور بوسیدہ فائلیں تاریخ کا بوجھ بن کر دونوں کو نئے راستوں کی تلاش سے روکتی ہیں ۔اس لئے سفارت کاری کے غیر روایتی اور جدید طریقوں کو آزماتے ہوئے مسائل کا حل کرنا چاہئے ۔پہلے عوام کو قریب لانا چاہئے جب امن عوام کی ضرورت بنے گا تو وہ خود اپنی حکومتوں پر مفاہمت اور مصالحت کے لئے دبائو ڈالنا شروع کریں گے ۔اس عوامی دبائو کا مقابلہ افواج اور خارجہ امور سے متعلق روایتی چینلوں کے بس میں نہیں ہو گا اور اس طرح خطے میں امن آئے گا ۔برصغیر کی حد تک یہ فلاسفی قطعی ناکام ٹھہری۔ دو عشروں تک عوامی رابطوں اور میلے ٹھیلوں نے امن کے نام پر کاروبار کرنے والے ایک مراعات یافتہ کلاس پیدا کی ۔کچھ لوگوں کو سیرو تفریح کا موقع بھی ملا اور کچھ کو معاشی فوائد بھی ملے مگر پاک بھارت تعلقات کا پرنالہ وہیں رہا ۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہوئے تو امن کا کاروبار کرنے والے غائب ہو تے رہے کیونکہ یہ اچھے موسموں میں اُڑانیں بھرنے اور چہچہانے کے عادی پرندے ہوتے ہیں۔اب صورت حال کی عکاسی ایک جملے میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ کہتے ہوئے کی کہ بھارت کے ساتھ تعلقات فی الحال منجمد ہیں۔دنیا اگر تعلقات کی اس برف کو پگھلانے میں دلچسپی رکھتی ہے تو پھر پاک بھارت امن عمل کو این جی اوز کو ٹھیکے پر دینے کی بجائے اقوام متحدہ کی سطح پر کام کیا جانا چاہئے ۔پاک بھارت تعلقات حد درجہ اُلجھے ہوئے ہیں اور کشمیر ان تعلقات کا نیوکلئس ہے ۔اس اُلجھے ہوئے معاملے کو سلجھانا کسی پروجیکٹ ڈائر یکٹر یا کورآرڈینیٹر اور غیر سرکاری تنظیم کے بس کا روگ نہیں اس کے لئے اقوام متحدہ کو بطور ادارہ یا سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو آگے آنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں