Daily Mashriq


کب تک جھوٹ بولیں گے

کب تک جھوٹ بولیں گے

کب تک جھوٹ بولیں گے' کب تک ہم جھوٹ سنتے رہیں گے۔ کب تک وہ ہمیں مجبور کریں گے کہ ہم اس جھوٹ کو سچ سمجھیں۔ کب تک ہم میں سے بہت سے لوگ اس ساری حقیقت کو جانتے ہوئے بھی یہ دکھاوا کرتے رہیں گے۔ مریم نواز کو الیکشن کمپین چلاتے دیکھ کر بار بار یہ احساس ہوتا ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو کینسر کو بہت قریب سے جانتے ہیں۔ آپریشن کی تکلیف بھی ہوتی ہے لیکن اس آپریشن کے بعد کیموتھراپی کی تکلیف ایسی ہے کہ اسے بیان کرنا مشکل ہے جو محض ان لوگوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ بھی اس کی تکلیف کو لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے۔ ان کے بارے میں کیا کہا جائے جو اس سارے عذاب میں سے خود گزرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ اکثر اوقات ہی گلے کاکینسر قابل علاج ہوا کرتا ہے لیکن کیمو تھراپی کی تکلیف تو سب کے لئے ایک ہی جیسی ہے۔ اگر گلے کے اس کینسر کو بہانہ بنا کرہمدردی کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مریم نواز کو تربیت بھی دی جا رہی ہے تو یہ ایک انتہائی بھونڈا طریقہ ہے اور یہ سب کرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ حلقہ این اے 120 میں پنجاب کی حاضر حکومت اپنی مرضی کرنے کی کوشش تو ضرور کرے گی۔ دھاندلی کے طریقے بھی اسے بہت آتے ہیں جس میں قدموں کی چاپ تو سنائی دیتی ہے لیکن کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ آخر میں البتہ بیلٹ بکسوں سے ان کے نام کے ووٹ ضرور نکلتے ہیں۔ سیاست کے نو وارد دھاندلی' دھاندلی پکارتے رہ جاتے ہیں۔ یہ سیٹ لے کر اسمبلی میں جا بیٹھتے ہیں۔ ان کے لئے کسی بھی بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ابھی ملک کی فضا سے خوفزدہ ضرور ہونگے کہ شاید ا ن کی دھاندلی کی کوشش کامیاب نہ ہو سکیں ۔ لیکن پھر بھی وہ اپنی حرکتوں سے ٹلنے والے نہیں۔ وہ اپنی سی کریں گے۔ ہوسکتا ہے کامیاب نہ ہوں اور پھر ایک نیا محاذ کھل جائے۔ وہ جو الیکشن میں دھاندلی کے الزامات سے نظریں چرا کر ' اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں گھومتے پھرتے ہیں۔ ان کے نام کی آوازیں بھی لگنے لگیں اور معاملات بھی ایک ایسی سمت میں رواں دواں ہو جائیں جن کے بارے میں انہوں نے کئی بار ڈرتے ڈرتے سو چا تو ہو لیکن یہ بھی یقین رہا ہو کہ ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ اس سے پہلے ایسا کبھی ہوا ہی نہیں۔ان لوگوں کی باتیں بھی درست ہیں۔ پاکستان میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اس سے پہلے وہ کبھی ہوا ہی نہیں۔ اگر واقعی احتساب ہوگیا ہوتا تو ہماری حالت ایسی نہ ہوتی جیسی آج دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان سے محبت کرنے والوں نے کتنی ہی بار یہ سوچا کہ کاش کوئی لٹیروں کا بھی احتساب کرے لیکن یہ ہو ہی نہ سکا۔ احتساب کی بات تو ہوتی رہی لیکن اس کی جانب قدم بڑھانے کا حکم دینے والے تو وہی تھے جو سب سے پہلے احتساب کے شکنجے کی گرفت میں آتے' سو بس زبانی کلامی ہی کام چلتا رہا اور اس سے زیادہ کچھ نہ ہوا۔ ایک عجب اطمینان جنم لے رہا ہے کہ شاید مالک دو جہاں نے اس ملک سے سچی محبت رکھنے والوں کی سن لی ہے۔ اب واقعی احتساب سچی اور اصل شکل میں دکھائی دے گا۔ شاید واقعی ہمارے بچوں کا مستقبل سدھرنے والا ہے۔ پھر پرویز مشرف کی کہی ہوئی بات یاد آتی ہے کہ یہ ملک اب انحطاط کی سب سے گہری اور نچلی سطح کو چھو چکا' اب ایک ہی راستہ ہے اور وہ بہتری کا ہے۔ لیکن پرویز مشرف کے اس کہنے کے بعد ہم نے انحطاط کی اوربھی گہری کھائیاں دیکھیں' گہری ترین' اندھی اور تاریک تر شاید کوئی نئی حد ایسی بھی تھی جس کی بابت ہمیں معلوم ہی نہیں تھا لیکن وہ دیکھنا ہماری قسمت میں لکھا تھا۔ سو ہم نے وہ بھی دیکھ لی اور اب واقعی ہم اس حد کو پہنچ گئے تھے جس میں اوپر جانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ ہم اب دھیرے دھیرے اوپر کی جانب سفر کر رہے ہیں۔ احتساب کی ننھی ننھی سیڑھیوں پر پیر رکھ کر ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کسی بہتری کی کرن کو تھام سکیں۔ اب بھی جب مریم نواز کو میں الیکشن کمپین کرتے دیکھتی ہوں تو حیران ہوتی ہوں۔ کیا ہماری قوم واقعی ایسی احمق دکھائی دیتی ہے کہ سیاست دان ہر ایک لمحہ اسے مزید بے وقوف بنانے کی کوشش میں سر گرم دکھائی دیتے ہیں۔ اور مریم نواز کی باتیں سن کر کئی بار دل تاسف سے بھر جاتا ہے۔ اس ملک میں چند ہی ادارے ایسے ہیں جس پر اس قوم کو اعتماد رہ گیا ہے۔ عدالت اور فوج کے حوالے سے ہی اکثریت کی رائے مثبت ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بارے میں ایسے شک شبے کا اظہار کرنا اور اس فیصلے کو بدنیتی پر محمول کرنا نہایت نا مناسب ہے۔ یہ بات قطعی درست نہیں کہ میاں صاحب اس ملک کو اپنے پائوں پر کھڑے کرنے کے لئے جو سر دھڑ کی بازی لگا رہے تھے اس کی سزا کے طور پر انہیں اس عہدے سے فارغ ہونا پڑا۔ ایسا کچھ بھی نہیں اور صورتحال کو محض سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرنا بھی کوئی اچھی بات نہیں۔ نہ جانے ہمارے سیاستدان کب اتنے سمجھدار اور سنجیدہ ہوں گے کہ ان کے لئے ملکی مفادات ذاتی مفادات سے بڑھ جائیں گے۔ ابھی ہمارے پاس موجودہ سیاستدانوں کی کیفیت تو ایسی ہے کہ پاناما کیس میں جناب سراج الحق سے بات کرتے ہوئے ایک فاضل جج نے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر ملک میں 62اور 63 کی حد نافذ کردی جائے تو صرف سراج الحق ہی باقی بچیں گے۔ ان کی باتوںکی سچائی میں کسی کو کوئی شک نہیں اور اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کرسکتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر صورتحال ایسی ہی ہے اور یقینا ان باتوں کے حوالے سے اس ملک کی اکثریت کو کوئی شک بھی نہیں تو پھر ان جلسوں میں جہاں صرف جھوٹ کی حکومت ہے جھوٹ ہی بولا جاتا ہے۔ جھوٹ کا مزید پرچار کیاجاتا ہے وہاں اس ملک کے مستقبل کی باتیں سن کر دل کھول اٹھتا ہے۔ یہ جھوٹ آخر کب تک؟؟۔

متعلقہ خبریں