Daily Mashriq


9/11 اور پاکستان

9/11 اور پاکستان

یہ 2000ء کا اسلام آباد ہے ، پُر امن اور خوب صورت جس میں نہ تو کوئی رکاوٹیں کھڑی ہیں اور نہ ہی جگہ جگہ پولیس کے ناکے ہیں ۔ یہ وہ وقت تھا جب عا م شہری بھی اسلا م آباد کے کانسٹیٹیویشن ایونیو، جہاں پر تمام اہم حکومتی عمارتیں موجود ہیں، پربلا خوف و خطر گھوم سکتے تھے۔ کسی بھی ملک کے سفارت خانے تک آرام سے پیدل چلتے ہوئے بھی جاسکتے تھے بلکہ یہ وہ وقت تھا جب پبلک ٹرانسپورٹ ڈپلومیٹک انکلیو کے اندر سے گزرتی تھی۔ ایوانِ صدر اور پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے واقع مشہور پریڈ گرائونڈ میں مقامی افراد کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سیاح بھی شا م کی سیر کے لئے جمع ہوتے تھے۔ لیکن یہ سارامنظر نامہ 11 ستمبر 2001ء کی اس شام کے بعد سے تبدیل ہونا شروع ہو گیا جب پاکستان کے سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن نے نیو یارک کے ٹوئن ٹاورز میں دو جہازوں کے گھسنے کے مناظر دکھانا شروع کئے۔ اس وقت ایک عام پاکستانی کویہ معلو م نہیں تھا کہ ہزاروں کلومیٹر دور ہونے والا یہ حادثہ ان کے ملک پر کیا اثرات مرتب کرے گا اور نہ ہی اس وقت اس بارے میں کوئی پیش گوئی کی جاسکتی تھی۔9/11 حملوں کے بعد پاکستان کو افغانستان اور القاعدہ کے خلاف کارروائی کے لئے مرکزی کردار ملنے سے جنرل پرویز مشرف کی حکومت کوقانونی حیثیت ضرور مل گئی، جس کی اسے سخت ضرورت تھی، لیکن امریکہ کی فرنٹ لائن سٹیٹ بننے سے پاکستان کو سخت نقصان اٹھانا پڑا۔ افغانستان کے خلاف امریکی اتحادی بننے کی وجہ سے پاکستان کو اس قدر جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا جس کا خمیازہ کئی دہائیوں تک بھگتنا پڑے گا۔ 9/11 کے بعد اسلام آباد ، جو ایک پُرامن شہر تھا اور اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا، ایک 'نو گوسٹی' بن کر رہ گیا۔ امریکہ میں تو صرف ایک 9/11 کا حملہ ہوا لیکن پاکستان میں ہونے والے 9/11حملوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ملک کے قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں انسدادِ دہشت گردی مہم کی وجہ سے گزشتہ چند سالوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور پورے پاکستان میں حالات معمول پر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ لیکن حالات کے معمول پر آنے سے پہلے پاکستان نے پرائی جنگ کی ایک بہت بڑی قیمت چکائی ہے۔ سرکاری تخمینوں کے مطابق 9/11 حملوں کے بعد پاکستان 123 ارب ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے لیکن مالی نقصان سے زیادہ بڑا نقصان وہ بیش قیمت معصوم انسانی جانیں ہیں جو ہم نے اس جنگ میں گنوائی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگ آج بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر 9/11کے موقع پر پاکستان میں آمریت کی بجائے ایک جمہوری حکومت قائم ہوتی تو کیا پاکستان اتنی آسانی سے امریکہ کی جھولی میں جا گرتا ؟ کیا صورتحال آج سے مختلف ہوتی ؟ اور کیا جمہوری دور میں پاکستان امریکہ کو ناں کرنے کی پوزیشن میں ہوتا ؟اور کیا ہم بش انتظامیہ کے ساتھ ایک بہتر ڈیل کرسکتے تھے ؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وقت گزرنے کے بعد ایسی باتیں کرنا انتہائی آسان ہے لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ امریکہ کا اتحادی بننے سے پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔اگرچہ اب اس نقصان کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا لیکن اپنی اندرونی فیصلہ سازی کا تجزیہ کرکے مستقبل میں ایسے نقصانات سے بچا ضرور جاسکتا ہے۔9/11 کے بعد پرویز مشرف کی جانب سے کئے جانے والے بہت سے فیصلے خفیہ فائلوں کی زینت بن گئے ہیں لیکن جس قدر معلومات دستیاب ہیں ان سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ مشرف نے بہت فیصلوں میں اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی شامل نہیں کیا تھا۔لیفٹیننٹ جنرل (ریٹا ئرڈ) شاہد حمید پرویز مشرف کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے لیکن 2009ء میں دئیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ 9/11 حملوں کے بعد کور کمانڈر کی ایک میٹنگ میں پرویز مشرف نے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ افغان جنگ میں غیر جانبدار رہے گا لیکن چند مہینوں کے بعد ہم پر یہ انکشاف ہوا کہ مشرف نہ صرف امریکہ کا اتحادی بننے پر رضا مند ہوچکے ہیں بلکہ امریکہ کو پاکستان کی زمین اور فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت بھی دے چکے ہیں۔اس کے علاوہ افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیررستم شاہ مہمند کے مطابق ان دنوں میں پاکستان کا دورہ کرنے والے ایک طالبان وفد کو پرویز مشرف کی جانب سے یقین دلایا گیا تھا کہ پاکستان کبھی بھی طالبان کا ساتھ نہیں چھوڑے گا ۔ ان واقعات سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح ایک فردواحد کی مرضی کو 'قومی مفاد' بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ 9/11 کو سولہ سال گزر چکے ہیں اور آج پھر پاکستان کو ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دھمکیوں کا سامنا ہے لیکن اس وقت پاکستان میں ایک جمہوری حکومت قائم ہے جس کے پاس یہ اچھا موقع ہے کہ وہ پاکستان کے مفاد میں درست فیصلے کرے اور آمریت دورمیں کئے گئے فیصلوں کی پیروی نہ کرے۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرا م الاحد)

متعلقہ خبریں