Daily Mashriq


عالمی امن اور اقوام متحدہ

عالمی امن اور اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے دستور العمل کی شق نمبر 39 سے مختلف ممالک میں فوجی دخل اندازی کی ایسی بنیاد پڑ گئی جو رکنے کا نام نہیں لیتی۔ اس طرح گویا اقوام متحدہ قیام امن تو' عالمی امن کو ڈسٹرب کرنے کا ادارہ بن گیا ہے۔1960ء میں پہلی دفعہ اقوام متحدہ نے افریقی ملک کانگو کے سیاسی بحران کے دوران فوجی دخل اندازی کی اور سلامتی کونسل نے پہلی بار اس کی منظوری دی۔ وہاں اس امن فوج نے ہزاروں بے گناہوں کو قتل کیا اور کٹنگا کے باشندوں پر وحشت ناک مظالم کئے۔ اس طرح دسمبر 1975ء میں جب امریکی صدر فورڈ کے اور ان کے مشیر ہنری کسنجر نے تیمور (مشرقی) نامی جزیرے کا دورہ ختم کیا تو تین گھنٹے بعد انڈونیشیا کی فوج نے تیمور پر حملہ کردیا جس سے لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان افراد ہلاک ہوئے۔ چونکہ یہ حملہ امریکی مفادات کے مطابق تھا لہٰذا جب اقوام متحدہ میں انڈونیشیاء کے خلاف ووٹنگ ہوئی تو امریکہ نے حملہ آوروں کے حق میں ووٹ ڈالا جس سے انڈونیشیا کے حوصلے بڑھے اور اس نے جزیرے کے باشندوں پر نیپام بموں کی بارش کردی۔ آسٹریلیا کی پارلیمنٹ نے اس بحران کو ایسی ''نسل کشی'' سے تعبیر کیا جس کا ارتکاب دوسری جنگ عظیم کے بعد اس وقت تک نہیں ہوا تھا۔ لیکن جب انڈونیشیاء کے ساتھ امریکہ کی ان بن ہوگئی تو '' مشرقی تیمور'' جزیرے پر (جس پر امریکہ نے حملے کو جائز قرار دیا تھا) انڈونیشیائی قبضے کو غلط قرار دے کر تیمور کے باشندوں کی بھرپور امداد کی گئی اور اقوام متحدہ کے ذریعے ریفرنڈم کرانے کے بعد اس کو آزاد کرایاگیا۔ایک ہی علاقے اور مسئلہ میں اقوام متحدہ کا یہ متضاد کردار یقین دلاتا ہے کہ امن عالم کی حفاظت کی خاطر وجود میں آنے والا یہ ادارہ صرف اور صرف امریکہ اور اس پر خفیہ حکومت کرنے والے یہودیوں کی خواہشات کے مطابق چلتا ہے۔1960ء کے عشرے میں امریکہ نے ویت نام اور کوریا میں جنگ چھیڑی جہاں لاکھوں افراد امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے نتیجے میں لقمہ اجل بنے اور اقوام متحدہ تماشا دیکھتا رہا۔ 1979ء سے لے کر آج تک افغانستان' بوسنیا' فلسطین' کشمیر' عراق' چیچنیا اور حال ہی میں شام ' یمن اور لیبیا میں لاکھوں مسلمان شہید ہوئے۔ لیکن یہاں تو بات صرف ان جنگوں اور انسانی تباہی کی ہو رہی ہے جس کی اجازت اقوام متحدہ نے دی ہے۔1990ء میں عراق کے صدام حسین کو کویت پر چڑھائی کی اجازت اور آشیرواد امریکہ ہی سے ملی۔ پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مدد اور اجازت سے چڑھائی کرکے عراق کے خلاف باقاعدہ دہشت گردی شروع کردی جس میںلاکھوں ٹن بارود و آہن کی بارش کرکے لاکھوں افراد موت کے گھاٹ اتارے اور آج تک وہاں یہ سلسلہ جاری ہے اور جزیرة العرب میں ترقی اور خوشحالی کی مثال عراق ایک کھنڈر کی شکل اختیار کرگیاہے۔ اقوام متحدہ جو کبھی انسانی حقوق کی حفاظت کے لئے وجود میں آیا تھا' اس نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ سلامتی کونسل کے ذریعے عراق پر ایسی ظالمانہ پابندیاں لگوائیں کہ لاکھوں معصوم بچے دوائوں کی عدم موجودگی کے باعث لقمہ اجل بنے۔ عراق کے بعد اسی سلامتی کونسل سے افغانستان پر چڑھائی کی قرار د اد متفقہ طور پر منظور کرا کر لاکھوں افغانوں کی موت کا باعث بنا۔ افغانستان پر حملے کی اجازت اس لئے دی گئی کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کو پناہ دی تھی۔ کیا دنیا کے کسی قانون کے تحت ایک آدمی کو بغیر عدالتی کارروائی کے سزا دینے کے لئے لاکھوں بے گناہوں کو عذاب میں ڈالنا کسی طور پر بھی جائز قرار دیا جاسکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کے اداروں پر امریکہ اور یہودیوں کا کس قدر اثر و رسوخ ہے اس کا اندازہ اقوام متحدہ کی ساٹھ سالہ تاریخ سے لگایا جاسکتا ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیل جو نصف صدی سے فلسطینی عوام کا استحصال کر رہا ہے اور ان کی نسل کشی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی' کے خلاف سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی مذمتی قراردادوں کو امریکہ ہمیشہ ویٹو کرتا رہا ہے۔اسی طرح کشمیر پر قراردادوں کو روس ویٹو کرتا رہا۔ امریکہ نے 2003ء میں عراق پر ایٹمی اور کیمیاوی ہتھیار رکھنے کے الزام میں بغیر ثبوت کے سلامتی کونسل کی موجودگی میں حملہ کیا حالانکہ فرانس' روس' جرمنی اور چین کی مخالفت کے سبب سلامتی کونسل نے اجازت ہی نہیں دی اور آج امریکہ عراق کی تعمیر نو میں بھی اقوام متحدہ کے کسی کردار کا قائل نہیں۔سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے حق ویٹو( حق استرداد) پر دنیا بھر میں ایک طویل مدت سے تنقید جاری ہے اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ اقوام متحدہ میں مفادات کی سیاست چلتی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ سلامتی کونسل ممبران کو حاصل ''ویٹو'' کا حق جنگل کے قانون سے مشابہ ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعے مستقل ارکان اپنے مفادات کی خاطر کسی بھی قرارداد کو مسترد کر سکتے ہیں خواہ اس سے امن و سلامتی کا جنازہ ہی کیوں نہ نکل جائے۔ اس وقت حق ویٹو میں جغرافیہ' مذہب یا بر اعظمی وحدتوں کا اگر خیال کر کے اس طرح تقسیم کیا جائے کہ اس میں اعتدال پیدا ہو اور صرف پانچ ممالک کو یہ حق حاصل نہ ہو کہ اس سے امن و سلامتی کے مسائل اکثر اور بھی پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ امریکہ بہادر اب اپنے نئے سٹریٹجک پارٹنر بھارت کو بھی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت دلانے کا خواہش مند ہے۔ اس سے عالمی امن اور بالخصوص جنوبی ایشیا کے امن کو جو سنگین خطرات لاحق ہوں گے اس کا اندازہ بھارت کے پڑوسی ممالک سے پوچھ کر لگایا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں