Daily Mashriq


سکولوں بارے عاجلانہ تجاویز

سکولوں بارے عاجلانہ تجاویز

پختونخوا کے سرکاری سکولوں اور بالخصوص گنجان آبادی والے شہروں بشمول پشاور کے موجودہ سکولوں میں طلبہ کی مزیدگنجائش پیدا کرنے کیلئے چھتوں پر فائبر گلاس سے کلاس روم بنانے اور ضرورت کی بنیاد پر سابق سکولوں کو کئی منزلہ عمارتوں میں تبدیل کرنے کی تجویز پر غور کرتے ہوئے حکام کو یہ امر ضرور پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ شدید گرمی اور سردی کے دنوں میں کیا ان کمروں میں ٹھہرا جاسکے گا۔ شہروں میں قائم بعض سکولوں کو کئی منزلہ تعمیر کرنے کی تجویز قابل عمل اور مناسب ہے۔ محکمہ تعلیم کے بزر جمہروں کو کوئی بھی تجویز پیش کرتے ہوئے اس کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لینا چاہئے۔ گزشتہ دور حکومت میں کنٹینروں میں سکول قائم کرنے کی تجویز پراچھا ہوا کہ فنڈز کی کمی کے باعث عملدرآمد نہ ہوا ورنہ اب نجانے کتنے معصوم طالب علموں کے ان تندور نما برائے نام کلاس رومز میں حبس اور شدید گرمی کے باعث دم گھٹ کر مرنے کاخطرہ تھا۔ حکام اگر اپنے ائیر کنڈیشنڈ کمروں اور گاڑیوں سے باہر نکل کر دیکھیں تو ان کو معلوم ہوگا کہ سکولوں میں بجلی نہ ہونے کے باعث طالب علموں کو کس اذیت سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ بد قسمتی سے ایسا صرف سرکاری تعلیمی اداروں میں ہی نہیں ہوتا بلکہ جو جو چھوٹے بڑے نجی سکول اپنی عمارتوں کی بجائے کرائے کی عمارتوں میں بنائے گئے ہیں گرمی کے ان مہینوں میں اساتذہ اور طالب علم دونوں چاہتے ہوئے بھی پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے۔ جن علاقوں میں گرمی نہیں ہوتی ان علاقوں میں سردی کے باعث فائبر گلاس کے نیچے اور کنٹینروں میں طلبہ کو بٹھانا ممکن نہیں۔ اس طرح کی تجویز پیش کرنے والے عقلمندوں کو اگر ان دنوں فائبر گلاس کے کمرے یا کنٹینر میں پنکھا لگا کے بھی بٹھا دیا جائے تو ہوش ٹھکانے آجائے۔ طلبہ کی بڑھتی تعداد کے باعث ان کے لئے انتظامات مشکل ہونا اور مسائل کی کمی کوئی پوشیدہ امر نہیں بجائے اس کے کہ محولہ قسم کے تجربات کئے جائیں ان سکولوں میں ڈبل شفٹ شروع کی جائے تاکہ طالب علموں کو داخلے دئیے جا سکیں اور ان کے بیٹھنے اور حصول تعلیم کامناسب انتظام ہو اس طرح سے اساتذہ کی بھی مزید آسامیاں پیدا ہوں گی۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں اور روزگار کے نئے مواقع ملیں گے۔ جن سکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر کی گنجائش سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے اس حوالے سے جلد سے جلد اقدامات کئے جائیں۔ جن سکولوں کی عمارتوں کو دو منزلہ کرنے کی تجویز ہے اس تجویز سے عدم اتفاق ممکن نہیں لیکن بیشتر سرکاری سکولوں کی تعمیر مستحکم اور مضبوط نہیں ہوگی کیونکہ ان سرکاری عمارتوں کو سنگل سٹوری تعمیر کیاگیا ہے جس میں نہ تو ستون کھڑے کئے گئے ہیں اور نہ ہی عمارتوں کی بنیادیں مضبوط بنائی گئی ہیں اس لئے یہ تجویز بھی جزوی طور پر ہی قابل عمل ہے۔ ماہرین کی رپورٹ کے بعد ہی کسی سکول کی عمارت دو منزلہ یا زائد کی جائے تاکہ طلبہ اور اساتذہ کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے میں ناکامی ہی کیوں؟

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے زیر اہتمام چترال میںضلعی سطح پر منعقدہ مشاورتی ورکشاپ میں مطلوبہ ڈیٹا مصدقہ بنیادوں پر دستیاب نہ ہونے چترال کو قدرتی آفات کی کثیر تعداد میں خطرات کاسامنا ہونے کی نشاندہی کی گئی۔چترال میں بڑھتے قدرتی آفات کی بار بار نہ صرف نشاندہی ہوتی رہی ہے بلکہ موسمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے آبادی کو درپیش خطرات کئی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بھی ثابت ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود سرکاری سطح پر چترال کی متاثرہ آبادی کی بروقت مدد کے لئے امدادی تیاریاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ متعلقہ اداروں کا عقدہ اس وقت کھلتا ہے جب چترال کے کسی علاقے میں سیلاب یا شدید بارشوں کے باعث تباہی ہوتی ہے۔ چترال میں اس طرح کے مواقع پر سڑک کی بندش کے باعث متاثرہ علاقے نا قابل رسائی بن جاتے ہیں جبکہ این ڈی ایم اے اور ریسکیو کے اداروں سمیت ضلعی انتظامیہ تہی دست ہاتھ ملتے رہ جاتی ہے۔ چترال کے خصوصی معاشرتی رویہ اور امداد باہمی کے باعث متاثرین کو فوری طور پر تو عارضی پناہ‘ خوراک اور ضروری ادویات کسی حد تک دستیاب ہوتی ہیں اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کو سنبھال لیتے ہیں۔ اگر اس طرح کا بھائی چارہ نہ ہوتا تو چترال میں ہر آفت سے متاثر ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی اور حکومتی اداروں کی ناکامی کے باعث لوگ بھوک پیاس اور پناہ نہ ملنے پر شدید متاثر ہوتے۔ متاثرین کی فوری امداد میں حکومتی اداروں کو درپیش مسائل اپنی جگہ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہفتے عشرے مہینے اور سال گزر جاتے ہیں مگر بنیادی اساس کی بحالی سے لے کر متاثرین کی مدد کا کوئی کام ڈھنگ سے ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینے اور چترال سمیت صوبے کے دیگر تمام علاقوں میں علاقائی صورتحال کی مناسبت سے تیاریوں‘ عوام کو ریلیف دینے اور بحالی و تعمیر نو کو یقینی بنانے پر خاص توجہ دی جانی چاہئے۔

متعلقہ خبریں