Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

شاہ ایران شاہ عباس صفوی اپنی فتوحات سے اتنا مغرور و متکبر ہوگیا تھا کہ اس نے ہندوستان پر حملہ کرنے کے لئے بہانے ڈھونڈنے شروع کردئیے۔ اس وقت ہندوستان پر شاہ جہان تخت نشین تھا۔ ایران کے بادشاہ شاہ عباس اول صفوی نے شاہ جہان کو یہ پیغام بھیجا کہ تم صرف شاہ ہند ہو لیکن کہلاتے شاہ جہان ہو اور جہان میں میرا ملک ایران بھی ہے۔ لہٰذا تمہارا نام شاہ جہان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ تم کسی وقت یہ کہہ کر ایران پر بھی قابض ہونا چاہتے ہو کہ میں شاہ جہاں( جہان کا بادشاہ) ہوں۔ اس لئے میں تمہیں صرف شاہ ہند (ہندوستان کا بادشاہ) تسلیم کرتا ہوں۔ شاہ جہان تسلیم نہیں کرتا۔ اس وجہ میں تمہیں انتباہ خبردار کرتا ہوں کہ آئندہ شاہ جہان کی جگہ صرف شاہ ہند کہلایا کرو اور اگر تم شاہ جہان کہلانے سے باز نہیں آتے تو پھر جنگ کے لئے تیار ہو جائو۔

یہ خط جب شاہ جہان کو ملا تو وہ گھبرا گیا کیونکہ شاہ عباس سے لڑنے میں کمزور تھا اور اپنا نام بدلنا توہین اور محکومی کو تسلیم کرنے کے مترادف تھا اس لئے شاہ جہان نے اپنے تمام وزیروں کو اس کا کوئی معقول جواب لکھنے کے لئے حکم دے دیا۔ادھر تمام وزراء معقول جواب سوچنے میں مصروف تھے اور کسی وزیر و مشیر کی سمجھ میں کوئی جواب نہ آرہا تھا۔ مولانا سعداللہ‘ پاکستانی گجرات کے قصبہ کنجاہ کے رہنے والے تھے۔ شاہ جہان کے علماء میں شامل تھے جو وزیروں کے اتالیق و معلم بھی تھے۔ آخر جب جواب دینے میں بہت تھوڑے دن باقی رہ گئے تو بادشاہ سے وزراء نے کہا ہم سے جواب نہیں بن سکا ہوسکتا ہے کہ مولانا سعد اس کا کوئی حل بتا دیں۔ دوسرے دن وزرا نے مولانا کو سوال بتا کر جواب لکھنے کے لئے کہا۔ مولانا نے جواب کو ایک شرط سے مشروط کردیا کہ میں جواب لکھ کر بند کردوں گا۔ اس کو شاہ ایران کے سوا کوئی اور شخص نہ پڑھے۔جب جواب فارس( موجودہ ایران) کے بادشاہ کو ملا تو اس کو لینے کے دینے پڑ گئے اور اس نے شاہ جہان سے معذرت کی اور ساتھ ہی یہ لکھا کہ جس آدمی نے یہ جواب دیا ہے اسے ایران بھیج دیجئے تاکہ ہم بھی اس سے کچھ فائدہ اٹھائیں۔ اگر یہ نا منظور ہو تو پھر اسے کم از کم ایران کی سیر و سیاحت کے لئے ہی بھیج دیں۔ یہ جواب دیکھ کر شاہ جہان مولانا پر بڑا خوش ہوا اور مولانا سے عرض کیا جو کچھ آ پ نے لکھا تھا وہ ہمیں بھی بتا دیجئے۔ حضرت مولانا سعد کنجاہیؒ نے فرمایا:میں نے شاہ ایران شاہ عباس صفوی کو لکھا تھا کہ شاہ جہان کو تم شاہ ہند تو تسلیم کرچکے ہو اور علم ابجد کے حساب سے شاہ ہند ہی شاہ جہان ہے۔ لہٰذا تم نے ایران پر جو غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے اسے جتنا جلد ہو سکے چھوڑ دو ورنہ تمہاری خیر نہیں۔ علم ابجد کے حساب سے شاہ جہان اور شاہ ہند کے حروف کے عدد برابر ہیں۔ اب خوب غور کرلو اے ایران کے بادشاہ درحقیقت شاہ ہند ہی شاہ جہان ہے جسے تم خود تسلیم کرچکے ہو اس لئے تمہارا ایران پر حکومت کرنے کا کوئی جواز نہیں۔اس طرح ایک عالم دین کی ذہانت کے باعث ایک یقینی جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔ (تاریخی واقعات)

متعلقہ خبریں