Daily Mashriq


کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کی

کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کی

ایسا لگتا ہے کہ نان ایشوز کو ایشو بنانے کا ایک سلسلہ آغاز ہونے والا ہے۔ نان ایشوز آج کل سر چڑھ کر اپنا جادو جگا رہا ہے اور وہ ہے وزیر اعظم ہائوس سے لے کر چاروں صوبوں کے گورنر ہائوسز کی موجودہ حیثیت تبدیل کرنے کی۔ جن کے بارے میں تازہ خبر یہ ہے کہ وزیر اعظم ہائوس کو اعلیٰ تعلیمی ادارہ جبکہ گورنر ہائوس پشاور (باقی کے بارے میں فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا) کو میوزیم بنانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی کی ایک رہنما نفیسہ شاہ کی ٹویٹ بھی گزشتہ روز سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے ان فیصلوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہیں بلکہ یہ پاکستان کے عوام کی ملکیت ہیں اور ان کے بارے میں کسی سیاسی جماعت کو یکطرفہ فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ معاملہ خاصا گنجلک بھی ہے اور جیسا کہ کالم کے آغاز میں گزارش کی ہے کہ یہ نان ایشو ہے جسے بوجوہ ایشو بنا کر قوم کو ایک نئی بحث میں الجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس سے پہلے کہ اس مسئلے کے پس منظر پر بات کی جائے پہلے اصل ایشوز کو چھیڑا جائے تو شاید بات سمجھنے میں زیادہ آسانی ہو۔ ایک سینئر شاعر احمد مشتاق نے کہا تھا

کشتیاں ٹوٹ چکی ہیں ساری

اب لئے پھرتا ہے دریا ہم کو

اصل ایشو یہ نہیں کہ کونسی اہم عمارت کا کیا حشر کرنا ہے بلکہ اصل ایشو وہ وعدے ہیں جو تواتر سے کنٹینر پر کھڑے ہو کر اور مختلف جلسوں‘ پریس کانفرنسوں میں کئے گئے ہیں مگر اب سمجھ میں نہیں آرہی کہ ان سے کیسے نمٹا جائے۔ یعنی بقول اقبال ظفر

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ

آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے

وعدے لوٹی ہوئی دولت واپس لانے اور قومی خزانے میں جمع کرانے کے تھے‘ خصوصاً ایک سیاسی خانوادے پر 300ارب اور دوسرے خاندان پر بھی اربوں ڈالر‘ دوبئی میں جائیدادیں‘ سوئس بنکوں میں دولت کے انبار جمع کرنے اور نہ جانے اور کیا کیا اور اسی طرح بہت سے لوگوں پر بہت سی دولت لوٹ کر باہر ذخیرہ کرنے کے الزامات وغیرہ وغیرہ۔ مگر ان الزامات میں سچائی کی حدود کو ماپنے اور اصل حقائق معلوم کرنے سے قطع نظر جو تلخ حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ اپنے وعدوں کو خالہ جی کا گھر کے مصداق انتہائی آسان سمجھنے والوں کو اقتدار کی غلام گردشوں میں داخل ہوتے ہی چھٹی کادودھ یاد آگیا ہے اور جسے ایک چٹکی کی مار سمجھا جا رہا تھا وہ ایک چٹکی سندور بن کر سامنے آرہا ہے جسے وعدوں کی مانگ میں سجانے کے لئے نہ جانے کتنے سوئمبر رچانے پڑیں گے۔ یعنی وہ جو حبیب جالب نے کہا تھا

کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کی

ریا کی جنگ ہے بس حاشیہ نشینوں میں

پاکستانی قوم اپنی تاریخ کے کٹھن مراحل سے گزرتے ہوئے جس آبلہ پائی سے دو چار ہوچکی ہے اور مختلف پڑائو پر جھوٹے وعدوں اور ہر نوع کے طالع آزمائوں کے ہاتھوں زخم خوردہ ہو کر فکری سطح پر چور چور ہے اس صورتحال نے ان میں صبر کا مادہ ختم کردیا ہے اور وہ اب کسی کی جانب سے بھی نئے وعدوں کی فوری تکمیل چاہتی ہے۔ انہیں سیاست کے صحرائوں میں بھٹکتے ہوئے جن سرابوں کا سامنٰا کرنا پڑاہے ان کی حقیقت اچھی طرح جان چکی ہے اس لئے اب وہ مزید کسی نئے سراب سے دھوکہ کھانے کے لئے ہر گز تیار نہیں ہے۔ اور وہ جو کسی زمانے میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے یکطرفہ پروپیگنڈے کا گوئبلائزڈ زہر ’’شہد‘‘ کی صورت ان کے حلقوم میں میں اتارا جاتا تھا اس کا طلسم پہلے نجی چینلوں اور اب سوشل میڈیا کے زہریلے تریاق نے پارہ پارہ کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب لوگوں نے سچ اور جھوٹ کے مابین جاری جنگ زر گری کو سوشل میڈیا پر جاری طوفان نوح نے چھان پھٹک کر اصل حقائق کو کوہ جودی پر نمایاں کرکے باقی سب کچھ کو طوفان کی نذر کرنا شروع کردیا ہے اور اب وعدوں کی تکمیل کے لئے اٹھنے والی صدائیں بازگشت کی صورت بار بار کانوں سے ٹکراتی رہیں گی۔ اور ان سے پناہ ڈھونڈنے کے لئے جو نان ایشوز کا سہارا لیا جا رہا ہے اس کابالآخر انت کیاہوگا؟ ناز مظفر آبادی نے کہا تھا

بلا کا زور تھا حالات کے تنائو میں

کئے نہ ہم نے مگر فیصلے دبائو میں

ایشوز یہ نہیں ہیں کہ بعض اہم سرکاری عمارتوں کاحشر نشر کرکے ایک مخصوص ذہن کے لوگوں سے واہ واہ کے ڈونگرے خود پر برسا کر تعریفوں کے طغرے سر پر سجائے جائیں‘ ایشو وہ مسائل ہیں جن کا قوم کو سامنا ہے اور وہ ایک عفریت کی مانند منہ کھولے ہمیں اپنی خوفناکی سے بھسم کئے دے رہا ہے۔ عوام کو غربت کی پاتال سے باہر نکالنے کے لئے جن اقدامات کی ضرورت ہے ان کے علی الرغم نئے ٹیکسوں کے نفاذ کی تیاریوں کو نان ایشوز کے تریاق میں لپیٹنے اور ان سے توجہ ہٹانے کی ساری تدبیریں ناکامی سے دو چار ہونے جارہی ہیں۔ عوام اب چہروں پر چہرے سجانے اور خود کو طلسم ہوشرباء کے کرداروں میں ڈھالنے والوں کے اصل چہرے پہچاننے میں ذرا غلطی بھی نہیں کرسکتے کہ حالات کے ستم نے انہیں ہوشیار کردیا ہے۔ اس لئے نان ایشوز کو چھیڑنے سے بہتر ہے کہ تمام صلاحیتیں مسائل کے خاتمے پر لگا دی جائیں کہ مینڈیٹ کا تقاضا بھی یہی ہے۔

متعلقہ خبریں